ماں، دعا، زندگی

عبدالعزیز بلوچ
احمد۔ شہر کی تیز رفتار زندگی میں ایسا گم ہوا کہ وقت کی قدر تو جانتا تھا مگر ماں کے وقت کی قدر کرنا بھول گیا تھا۔ اچھی نوکری، بڑے خواب، اونچی عمارت میں فلیٹ، سب کچھ تھا اس کے پاس، سوائے اس سکون کے جو کبھی اس کی ماں کی گود میں ملا کرتا تھا۔ گاؤں کے کچے صحن میں بیٹھی اس کی ماں، زینب بی بی، ہر شام دروازے کی طرف دیکھتی۔ اذان ہوتی تو وہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرتی، “یااللہ، میرے بیٹے کو اپنی امان میں رکھنا، اس کے دل میں میرے لیے محبت اور وقت ڈال دینا۔” وہ جانتی تھی کہ بیٹا مصروف ہے مگر ماں کا دل منطق سے نہیں، محبت سے چلتا ہے۔
احمد مہینوں فون نہ کرتا۔ کبھی ماں کال کرتی تو وہ جلدی میں کہہ دیتا، “امی، میٹنگ میں ہوں، بعد میں بات کرتا ہوں۔” بعد میں اکثر کبھی نہیں آتا تھا۔ ماں پھر بھی خفا نہ ہوتی۔ وہ ہمسایوں سے کہتی، “میرا بیٹا بہت محنتی ہے، بس کام زیادہ ہے۔” اور پھر چپکے سے اس کی پرانی تصویریں دیکھ کر مسکرا دیتی۔
عید قریب آتی تو وہ نئے کپڑے سلواتی، سوچتی شاید اس بار احمد آجائے۔ اس کے پسندیدہ پکوان بناتی۔ کباب، قورمہ اور وہ کھیر جسے وہ بچپن میں انگلیاں چاٹ چاٹ کر کھاتا تھا۔ پھر جب وہ نہ آتا تو زینب بی بی برتن سمیٹتے ہوئے کہتی، “کوئی بات نہیں، اگلی عید سہی۔”
ایک دن اس نے بہانہ بنایا، “بیٹا، ذرا پنکھا خراب ہوگیا ہے، آکر دیکھ جاؤ۔” احمد نے کہا، “امی، کسی مستری کو بلالیں، میں بہت مصروف ہوں۔” ماں نے ہنس کر کہا، “ہاں بیٹا، بس یوں ہی کہہ دیا تھا۔” مگر فون بند ہونے کے بعد اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
ادھر احمد کی زندگی میں سب کچھ ہونے کے باوجود ایک عجیب سی بے چینی رہتی۔ رات کو دیر سے گھر آتا تو فلیٹ کی خاموشی اسے کاٹنے کو دوڑتی۔ ایک رات وہ تھکا ہارا آیا تو اچانک بجلی چلی گئی۔ اندھیرے میں بیٹھے اسے بچپن یاد آگیا۔ گرمیوں کی راتیں، صحن میں بچھی چارپائی، ماں کا پنکھا جھلنا اور لوری کی مدھم آواز۔ اس کے دل میں ایک چبھن سی ہوئی۔
اسی دوران اس کی کمپنی میں ایک ساتھی کے والد کا انتقال ہوگیا۔ وہ جنازے میں شریک ہوا۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا دوست ماں باپ کی جدائی میں کیسے ٹوٹ گیا ہے تو اس کے دل میں خوف جاگا۔ اسے حضور اکرم ﷺ کا فرمان یاد آیا: “جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔” یہ جملہ اس کے دل پر دستک دینے لگا۔ کیا وہ اپنی جنت سے خود دور ہورہا تھا؟
اسی رات اس نے ماں کو فون کیا۔ کافی دیر تک گھنٹی بجتی رہی۔ دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ آخرکار کمزور سی آواز آئی، “ہاں بیٹا؟” احمد چونک گیا، “امی، آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟ آواز کمزور لگ رہی ہے۔” ماں نے ہمیشہ کی طرح کہا، “میں ٹھیک ہوں، بس ذرا بخار تھا، اب بہتر ہوں۔ تم سناؤ، کھانا کھایا؟” احمد کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ وہ سوچنے لگا، ماں کو بخار ہے، اس کے باوجود بھی وہ اس کی فکر کر رہی ہے۔ اسے اپنی غفلت پر شرمندگی ہوئی۔ اسی وقت اس نے فیصلہ کیا کہ صبح پہلی بس سے گاؤں جائے گا۔
گاؤں پہنچا تو ماں دروازے کے پاس بیٹھی تسبیح پڑھ رہی تھی۔ اسے دیکھتے ہی چونک گئی۔ “ارے احمد! تم اچانک؟” احمد نے آگے بڑھ کر ماں کے ہاتھ چوم لیے۔ “امی، مجھے معاف کردیں۔ میں بہت خودغرض ہوگیا تھا۔” ماں نے پیار سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ “بیٹا، ماں کبھی اولاد سے ناراض نہیں ہوتی۔ میں تو ہر نماز میں تمہارے لیے دعا کرتی تھی۔ اللہ نے سن لی۔”
احمد نے گھر کی ٹوٹی چیزیں درست کروائیں، ماں کے لیے دوا لایا اور کئی دن ان کے پاس رہا۔ رات کو جب ماں نے قرآن کی تلاوت کی تو احمد پاس بیٹھا سنتا رہا۔ اسے محسوس ہوا کہ اصل سکون یہیں ہے، ماں کی دعا میں، اس کی مسکراہٹ میں، اس کی خدمت میں۔
واپس شہر جانے لگا تو اس نے ماں سے کہا، “امی، اب میں ہر ہفتے آؤں گا اور روز آپ سے بات کروں گا۔” ماں نے مسکرا کر کہا، “مجھے تمہارے وقت سے زیادہ تمہاری توجہ چاہیے تھی، بیٹا۔”
احمد نے دل میں عہد کیا کہ وہ ماں کی خدمت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے گا۔ اس نے اپنے فلیٹ کی دیوار پر ایک کاغذ چسپاں کیا جس پر لکھا تھا: “ماں کی رضا میں اللہ کی رضا ہے۔” جب بھی کام کی مصروفیت اسے گھیرتی، وہ اس جملے کو دیکھتا اور فوراً ماں کو فون کر لیتا۔
وقت گزرتا گیا، مگر اب فاصلہ صرف میلوں کا تھا، دلوں کا نہیں۔ احمد نے جان لیا کہ دنیا کی کامیابی ماں کی دعا کے بغیر ادھوری ہے اور زینب بی بی کی آنکھوں میں اب انتظار کی نمی نہیں، اطمینان کی چمک تھی۔ کیونکہ ایک بیٹے کو آخرکار یہ احساس ہو گیا تھا کہ ماں کی محبت دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہے اور جو اس نعمت کی قدر کرے، وہی درحقیقت کامیاب ہے۔