مشرق وسطی کی جنگ: دبئی کو پہنچنے والے نقصانات اعداد و شمار کے آَئینے میں

دبئی: مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات کے باعث دبئی کے بڑے ہوائی اڈوں پر پروازیں منسوخ ہو گئیں اور فضائی آپریشن سخت متاثر ہوا، جس سے مسافروں اور ایئرلائنز دونوں پر دباؤ بڑھا۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے بڑے ایئرپورٹس نے چار دن تک بند یا سخت پابندیوں کا سامنا کیا، جس سے ہزاروں پروازیں متاثر ہوئیں اور مسافر پھنسے۔
تازہ اقتصادی تجزیوں کے مطابق مشرق وسطیٰ کے سیاحتی شعبے کو اس جنگ کے باعث 2026 میں تقریباً $34 بلین سے $56 بلین (تقریباً 34 سے 56 ارب امریکی ڈالر) تک کے نقصان کا خطرہ ہے۔
اس خسارے میں بڑے حصے کے طور پر دبئی اور دیگر GCC ممالک کے ہوٹل، ایئر لائن، ٹورازم اور کسٹمر اخراجات شامل ہیں۔
تجزیاتی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ دبئی اور دیگر GCC ایئرپورٹس پر اب تک 12,300 سے زائد پروازیں منسوخ ہوچکی ہیں، جس سے ایوی ایشن اور ٹریول انڈسٹری کو بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔
ایئرپورٹس بندش کی وجہ سے تقریباً 1 ملین ڈالر ہر منٹ کے خسارے کا سامنا ہورہا ہے، جو پورے یو اے ای کی معیشت، خاص طور پر دبئی پر براہِ راست اثر ڈال رہا ہے۔
جنگ کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کے مالی منڈیوں پر بھی اثرات نظر آئے، مثلاً دبئی فنانشل مارکیٹ میں تقریباً 4.85 فیصد گراوٹ دیکھی گئی۔
آکسفورڈ اکنامکس کے اندازوں کے مطابق، اگر جنگ طویل ہوئی تو 2026 میں مشرق وسطیٰ میں انٹرنیشنل وزٹرز کی تعداد میں 11% سے 27% تک کمی ہوسکتی ہے، جس کا ہوٹل اور ٹورازم پر منفی اثر پڑے گا۔ یہ ممکنہ کمی 23 ملین سے 38 ملین بین الاقوامی سیاحوں کے کم آنے کے مترادف ہے، جس سے سیاحت سے ہونے والی آمدن میں بڑا نقصان ہوگا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔