کیا گوگل کے اے آئی مشوروں سے لوگوں کی صحت خطرے میں ہے؟
لندن: برطانوی اخبار دی گارڈین کی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ گوگل کے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی اوور ویوز، جو سرچ کے نتائج کے اوپر ظاہر ہوتے ہیں، بعض اوقات صحت سے متعلق غلط اور گمراہ کن معلومات فراہم کرسکتے ہیں، جس سے لوگوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ خلاصے مددگار اور قابل اعتماد ہیں، مگر ماہرین نے کئی مثالوں کو خطرناک قرار دیا ہے۔ ایک کیس میں گوگل نے لبلبے کے کینسر کے مریضوں کو زیادہ چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا، جو ماہرین کے مطابق بالکل غلط ہے اور مریض کی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اسی طرح جگر کے فنکشن ٹیسٹ کے بارے میں فراہم کردہ معلومات بھی درست نہیں تھیں، جس سے شدید بیماری کے شکار افراد خود کو صحت مند سمجھ بیٹھ سکتے ہیں۔ خواتین کے کینسر ٹیسٹ، جیسے پیپ ٹیسٹ، کے بارے میں بھی سرچ نتائج میں غلط معلومات دی گئیں، جسے بعض نے اندام نہانی کے کینسر کے ٹیسٹ کے طور پر پیش کیا، حالانکہ یہ حقیقت نہیں۔
صحت کے ماہرین اور چیریٹیز نے خبردار کیا ہے کہ ایسی غلط معلومات لوگوں کو علاج سے دور رکھ یا جان لیوا نتائج پیدا کرسکتی ہیں۔ مریضوں کے حقوق کے فورم کی ڈائریکٹر صوفی رینڈل نے کہا کہ گوگل کے AI اوور ویوز آن لائن سرچز میں غلط معلومات پیش کرکے صارفین کی صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ میری کیوری چیریٹی کی اسٹیفنی پارکر نے بھی کہا کہ ’’لوگ پریشانی کے وقت انٹرنیٹ پر انحصار کرتے ہیں اور اگر معلومات غلط ہوں تو یہ نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔‘‘
دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں کئی مثالیں پیش کیں جن میں گوگل کے AI اوور ویوز نے نفسیاتی بیماریوں اور کھانے کی عادات کے حوالے سے بھی خطرناک اور غلط مشورے دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معلومات نہ صرف غلط ہیں بلکہ لوگ اس کی بنیاد پر ضروری مدد لینے سے بھی باز رہ سکتے ہیں۔
گوگل نے جواب میں کہا کہ زیادہ تر AI اوور ویوز درست اور مددگار ہیں اور کمپنی معیار بہتر بنانے کے لیے کام کررہی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرچ نتائج میں موجود یہ غلط معلومات صحت کے لیے سنگین خطرہ پیدا کرسکتی ہیں۔