شہید مظلوم حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت و شہادت

شہریار شوکت

 

حضورﷺ کے تمام صحابہ و اہل بیت انسانیت کے لئے مشعل راہ ہیں ۔نبی ﷺ کے ان یاروں اور پیاروں نے اپنی زندگی سے صبر،شجاعت،استقامت و دیانت کی ایسی مثالیں قائم کی ہیں جو رہتی دنیا تک باقی رہیں گی۔

تاریخ کے اوراق کو پلٹا جائے تو ہمیں ہر مقام پر نبی ﷺ کے یہ صحابہ کھڑے نظر آتے ہیں ۔ اٹھارہ ذوالحج کو خلیفہ سوم، داماد رسولﷺ حضرت عثمان بن عفان ؓ کا یوم شہادت ہے۔ آپؓ لقب ذوالنورین تھا۔ غزوہ بدر کے فوراً بعد جب حضورﷺ کی پیاری صاحبزادی اور حضرت عثمان غنی ؓ کی اہلیہ حضرت رقیہ ؓ کا وصال ہو گیا تو حضرت عثمانؓ ان کی جدائی میں بہت غمگین رہا کرتے تھے۔ حضورﷺ نے اپنی دوسری صاحبزادی حضرت ام کلثوم ؓکا نکاح آپؓ کے ساتھ کر دیا۔اس طرح آپکو یہ شرف حاصل ہوا کہ نبی کی دو بیٹیاں آپکے نکاح میں رہیں اور آپ دو نوروں والے کہلائے ۔

آپ کی نانی جان’’ام حکیم البیضاء‘‘ حضرت عبدالمطلبؓ کی بیٹی تھیں جو حضورﷺ کے والد ماجد حضرت عبداللہؓ کی سگی بہن تھیں۔ اس رشتہ کے لحاظ سے آپؓ کی والدہ حضورﷺ کی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔ آپؓ کی ولادت عام الفیل کے چھ سال بعد ہوئی۔آپؓ نے حضرت ابوبکر صدیق، حضرت علیؓ اور حضرت زیدبن حارثہ ؓکے بعد مردوں اسلام قبول کیا۔ آپؓ کوسخاوت اور شرم حیا کے اعتبار سے اعلی’مقام عطا ہوا۔ آپؓ حد درجہ شرم و حیا کرنے والے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اکرمؐ اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے اور اپنی پنڈلیوں کو کھولے ہوئے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپؐ نے ان حضرات سے اسی حالت میں گفتگو فرمائی، پھر حضرت عثمانؓ آئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپؐ اٹھ کر بیٹھ گئے اور اپنا کپڑا ٹھیک کر لیا۔ جب سب حضرات چلے گئے تو میں (حضرت عائشہ صدیقہؓ) نے حضرت عثمان کیلئے اس امتیاز کی وجہ دریافت کی تو حضور اکرمؐ نے فرمایا ’’کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں، جس سے آسمان کے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟

آپ نے ہر مقام پر مسلمانوں کے لئے قربانیاں دیں آپکی سخاوت کی گواہی آپکے دشمن بھی دیا کرتے تھے۔ہجرت کے بعد مسلمانوں کیلئے پینے کے پانی کی سخت تکلیف تھی۔ آپؓ نے ایک یہودی سے منہ مانگی قیمت ادا کر کے صاف شفاف پانی کاکنواں خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کر دیا۔یہ وہی موقع تھا جب ختم رسل ﷺ نے آپکو آپکی زندگی میں ہی جنت کی بشارت سنائی اور آپ عشرہ مبشرہ میں شامل ہوگئے ۔

غزوہ تبوک کے موقع پر مدینہ طیبہ میں مسلمان تنگدستی کا شکار تھے اس وقت بھی نبی کے عظیم صحابی و داماد حضرت عثمان غنی ؓ نے تین سو اونٹ مع ساز و سامان کے پیش کئے۔ اسی غزوہ کے موقع پر آپؓ نے ایک ہزار نقد دینار پیش کئے تو نبی کریم ﷺ نے ہاتھ اٹھا کر تین دفعہ دعا کی ’’اے اللہ میں عثمان سے راضی ہوں تو بھی راضی ہو جا۔

آپؓ کا امت پر یہ احسان بھی ہے کہ آپ نے پوری امت کو ایک قرأتِ قرآن پر جمع کیا۔ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں شروع ہونے والے فتوحات کے سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ آپؓ کے دور میں طرابلس، شام، افریقہ، جزیرہ قبرص، جزیرہ روڈس، قسطنطنیہ، آرمینیا، خراسان، طبرستان اور کئی ایک مزید علاقے فتح ہوئے۔ آپؓ چونکے کما فہم و فراست رکھتے تھے اس لئے اپنے علاقوں کی ترقی کیلئے بھی خوب کام کئے آپ نے مدینہ پاک میں نہری نظام کو مضبوط کیا۔ سیلاب سے بچاؤ کیلئے ڈیم تعمیر کئے۔ کنویں کھدوائے۔

حضرت عمرؓ نے قاتلانہ حملے میں زخمی ہو نے کے بعد اور اپنی شہادت سے پہلے خلیفہ کے انتخاب کیلئے چھ افراد کی کمیٹی بنائی تھی۔ ان میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت عبدالرحمان بن عوف اورحضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد تین دنوں میں گفت و شنید اور افہام و تفہیم کے بعد حضرت عثمان بن عفانؓ کوخلیفہ سوم منتخب کیا گیا۔

۱۸ذولحج ۳۵ ھ کو نبی اکرمﷺ کے اس محبوب خلیفہ کو ایک عظیم سازش کے بعد شہید کردیا گیا ۔ یہ عظیم سازش جو عبد اللہ بن سبا سمیت متعدد منافقین کی سعی کا نتیجہ تھی درحقیقت صرف حضرت عثمان کے خلاف نہ تھی بلکہ اسلام اور تمام مسلمانوں کے خلاف تھی اور آپ کی شہادت کے بعد وہ دن ہے اور آج کا دن کہ مسلمان تفرقہ اور انتشار میں ایسے گرفتار ہوئے کہ نکل نہ سکے۔یہ وہ بات تھی جس کی خبر حضرت عثمان نے ان الفاظ میں دی تھی کہ بخدا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو پھر تا قیامت نہ ایک ساتھ نماز پڑھو گئے نہ ایک ساتھ جہاد کرو گے۔ جس وقت آپ کو شہید کیا گیا تب آپ قرآن کی تلاوت کر رہے تھے ، کئی دن کے روزے سے تھے ،اور اپنے گھر میں محصور تھے۔کئی صحابہ نے سازشیوں کے خلاف آپ سے جنگ کی اجازت چاہی لیکن نبی کا یہ پیارا صحابی کسی کا جانی نقصان نہیں چاہتا تھا ۔شہادت کے وقت حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمیت کئی صحابہ کرام آپ کے گھر کے دروازے پر پہرہ بھی دے رہے تھے لیکن اس کے باوجود بلوائی آپ کے گھر میں پیچھے کی سمت سے داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ۔آپ کو تلوار کے کئی وار کرکے شہید کیا گیا اور اس سانحے میں آپکی اہلیہ کی انگلیاں بھی زخمی ہوئیں

بلاشبہ یہ دور فتنوں کا دور تھا اور اس دور میں حضرت عثمان ہی حق پر تھے ۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت مرہؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ آنے والے وقت کے فتنوں کا ذکر فرمارہے تھے۔ ایک شخص سر پر کپڑا ڈالے ہوئے پاس سے گزرا تو آپؓ نے اس کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ’’فتنوں کے دور میں یہ شخص راہ ہدایت پر ہوگا‘‘ حضرت مرہؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ حضرت عثمان غنیؓ تھے۔اللہ تعالی’ ہم سب کی فتنوں سے حفاظت فرمائے اور حق پر چلنا نصیب کرے۔آمین

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔