حضرت ابوبکر صدیقؓ کا یوم وصال

خلیفہ بلافصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اسلام کے لیے خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ آج آپ کا یوم وصال ہے۔ اس مناسبت سے آپ رضی اللہ عنہ کی زندگی کا مختصر احاطہ کرتی یہ تحریر قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ مسلمانوں کے خلیفہ اول کا اسم مبارک عبداللہ ہے۔ لقب صدیق اور عتیق یہ دونوں لقب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمائے تھے۔ کنیت ابوبکر، نسب آپ کا آٹھویں پشت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آٹھویں پشت میں ایک نام مرہ ہے۔ ان کے دو فرزند کلاب اور تیم تھے۔ کلاب کی اولاد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور تیم کی اولاد میں حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔ آپؓ کی ولادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سے دو برس کچھ مہینے بعد ہوئی اور دو برس دو مہینے بعد وفات پائی۔ آپ کا رنگ سفید، جسم لاغر تھا، نرم دل اور نہایت بردبار تھے۔
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں پیش پیش رہے، بعداز وصال مسلمانوں کے خلیفہ و امیر ہوگئے۔ دو برس تین مہینے نو دن تخت خلافت پر متمکن رہ کر 22 جمادی الثانی 13ھ کو مابین مغرب و عشاء اس دارفانی سے رحلت کی اور اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں اسی روضۂ مقدس آپ کی تدفین ہوئی۔ آپؓ اشراف قریش میں سے تھے۔ بڑی عزت و وجاہت و ثروت رکھتے تھے، تمام اہل مکہ آپ کو اس قدر مانتے تھے، دیت اور تاوان کے مقدمات کا فیصلہ آپ کے سپرد تھا، جب کسی کی ضمانت کرلیتے تھے تو قابل اعتبار سمجھی جاتی تھی، سب لوگ آپ سے محبت کرتے تھے۔ آپؓ اہل عرب کے نسب کا سب سے زیادہ علم رکھتے تھے، فن شعر میں اچھی مہارت تھی، نہایت فصیح و بلیغ تھے مگر اسلام کے بعد شعر کہنا چھوڑ دیا تھا۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مبعوث ہوتے ہی سب سے پہلے اسلام لائے۔ آپؓ کے مسلمان ہوجانے سے خود بخود لوگوں کو اسلام کی طرف توجہ ہوئی اور پھر آپؓ نے تبلیغ کا کام شروع کردیا۔ اسلام لانے کے بعد اپنے گھر کے سامنے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ایک مسجد بنائی اور یہ پہلی مسجد ہے جو اسلام میں بنائی گئی۔ اس میں روزانہ صبح کو بیٹھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتے تھے۔ روز کا یہ معمول دیکھ کر کافروں نے مزاحمت کی، آخرکار ابوبکر صدیقؓ نے بااجازت نبوی بجانب حبش ہجرت کی نیت سے روانہ ہوگئے، راستہ میں ابن الدعنہ کافر تاجر قریش ملا اور وہ واپس لایا اور رؤساء قریش سے کہا کہ تم ایسے شخص کو نکالے دیتے ہو جو بے دیکھی ہوئی چیز یعنی ثواب آخرت کو کماتا صلہ رحمی کرتا ہے، لوگوں کی غم خوارگی کرتا ہے اور مہمانوں کی ضیافت کرتا ہے، اچھا میں اب ان کو امان دے کرواپس لایا ہوں اور اب سے مزاحمت نہ کرنا، سب کافروں نے ابن الدعنہ کی امان کو منظور کرلیا مگر حضرت صدیقؓ فوراً بول اٹھے کہ میں کافروں کی امان میں نہیں رہنا چاہتا، میرے لیے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی امان کافی ہے۔ اس کے بعد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئے اور سارا قصہ بیان کیا، آپؐ نے فرمایا کہ اے ابوبکر، اب تم کہیں نہ جاؤ، ہمیں بھی ہجرت کی اجازت ملنے والی ہے، ہمارے ساتھ چلنا۔
اس حکم پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مکہ میں قیام کیا اور بدستور تلاوتِ قرآن اور تبلیغ اسلام میں مشغول رہے اور پھر وہ اس عزت و شرف سے نوازے گئے جو ان کے سوا کسی اور کے حصہ میں نہیں آیا، یعنی شب ہجرت میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت۔ حیات صدیق اکبر کے مطالعہ سے حضرت صدیقؓ کے اعمال و اقوال میں یہ باتیں نمایاں اور ممتاز نظر آتی ہیں۔ آپؓ نے زمانہئ جاہلیت میں بھی بت پرستی اور شراب نوشی سے مکمل پرہیز کیا۔ کسب معاش کے لیے کپڑے کی تجارت فرماتے حتیٰ کہ دور خلافت کے ابتدائی دنوں میں بھی تجارت سے گریز نہ کیا۔ بے چون و چرا دعوتِ اسلام قبول کی، دل کھول کر مالی اعانت کی اور جان قربان کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ معراج شریف کے محیرالعقول واقعے کی بغیر کسی تذبذب کے تصدیق فرمائی۔ مکہ معظمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حق رفاقت ادا کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال پر بے پناہ صبر و تحمل کا مظاہرہ فرمایا۔ مسند خلافت پر متمکن ہوکر خطبہئ خلافت ارشاد فرمایا۔ اس خطبہ کے بعض اہم نکات یہ ہیں، جن پر اگر آج بھی عمل کیا جائے تو ملت اسلامیہ کو حیات نو مل سکتی ہے، اس خطبے کے نکات یہ ہیں:
اگر میں سیدھا راہ چلوں، میری مدد کرو… بے راہ چلوں سیدھا کردو۔ صدق امانت ہے… کذب خیانت ہے۔ جو تم میں کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے ان شاء اللہ اس کا حق دلاؤں گا۔ جو تم میں قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے ان شاء اللہ اس سے حق لے کر چھوڑوں گا۔ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کروں، تم میری اطاعت کرو۔ جب میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کروں، تمہیں میری اطاعت کی ضرورت نہیں۔ المختصر حیات صدیق اکبرؓ کے مطالعہ سے آپ کی شرافت نفس، پاکیزگی فطرت، قوت عملی، ایمان و یقین، عالی ہمتی و فیاضی، ایثار و قربانی، جرأت و ہمت، صبر و تحمل اور عاجزی و انکساری وغیرہ بے شمار خوبیوں کا علم ہوتا ہے۔ 23 اگست 634ء بمطابق 22 جمادی الثانی 13ھ مدینہ منورہ میں 63 سال کی عمر میں آپؓ کا وصال ہوا۔ خلیفہ بلافصل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اسلام کی سربلندی میں اہم کردار رہا، جسے کسی صورت بھلایا نہیں جاسکتا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔