خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے

عبدالعزیز بلوچ

رمضان کے آخری چند روزے باقی تھے، عیدالفطر کی آمد کی وجہ سے شہر کی گلیوں میں خوشیوں کی گونج تھی۔ بچوں کی ہنسی، دکانوں پر خوشبوؤں کی لہر اور بازاروں میں لوگوں کی تیزی سے خریداری، یہ سب ایک عام روٹین کے مناظر تھے۔ لیکن ایک کونے میں، اکبر نام کا بوڑھا شخص، خاموشی سے اپنی چھوٹی سی جھونپڑی میں بیٹھا، باہر کی دنیا سے خود کو کٹا ہوا محسوس کررہا تھا۔
اکبر کے بال سفید ہوچکے تھے، آنکھوں کے گرد جھریاں اس کی زندگی کے دکھوں کی داستان سناتی تھیں۔ اس کے پاس نہ بیٹا تھا نہ بیٹی اور نہ کوئی عزیز و اقارب تھے جو اس کے لیے عید کی خوشیاں لے کر آئیں۔ وہ واحد فرد تھا جو اپنی تنہائی اور خاموشی میں عید کا انتظار کررہا تھا۔
رمضان بھی تنہا گزارا، افطاری کے وقت کوئی نہیں ہوتا تھا جو اس کے ساتھ بیٹھ کر دعا کرسکے۔ اکبر کے پاس ایک خالی پلیٹ اور ایک چھوٹی مٹکی جس میں چند خشک میوہ جات اور دو روٹیاں رکھی تھیں۔ اکبر نے دل میں سوچا: “یہ بس میری بھوک مٹانے کے لیے کافی ہیں۔ لیکن عید تو خوشی بانٹنے کا نام ہے، نہ کہ بس اپنے لیے کھانے کا۔”
اکبر نے ایک لمحے کے لیے اپنی زندگی پر غور کیا۔ وہ یاد کرنے لگا کہ بچپن میں، اس کے ماں باپ اسے ہمیشہ یہی سکھاتے تھے کہ خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے۔ لیکن آج، اس کی زندگی میں نہ ماں تھی، نہ باپ اور نہ کوئی بچپن کا دوست۔ سب کچھ ختم ہوچکا تھا، صرف وہ اپنی خاموشی کے ساتھ باقی تھا۔
یہ سوچ کر اکبر نے اپنی چھوٹی مٹکی اٹھائی اور باہر کی طرف بڑھا۔ گلی میں روشنی کم تھی، لیکن بچے صبح کی تازہ ہوا میں کھیل رہے تھے۔ اکبر نے ان بچوں کی طرف دیکھا، جو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں رنگ برنگ بیلوں اور کھلونوں کے ساتھ دوڑ رہے تھے۔
اکبر نے بچوں کے قریب آ کر مسکرا کر کہا: “یہ لو، میری طرف سے تم لوگوں کے لیے عید کا چھوٹا ساتحفہ۔”
بچے پہلے تو حیران ہوئے۔ اکبر کی آنکھوں میں جو تھکن اور تنہائی چھپی ہوئی تھی، وہ بچوں کو نظر آئی۔ پھر ایک بچے نے اکبر کی طرف بڑھ کر کہا: “شکریہ چاچا! یہ سب ہمارے لیے؟”
اکبر کے دل میں اچانک ایک عجیب سی خوشی جاگی۔ اس نے ہر بچے کو مٹکی سے ایک ایک چیز دی اور بچوں کی مسکراہٹیں اسے ہر دکھ سے آزاد کر رہی تھیں۔
اسی وقت اکبر نے محسوس کیا کہ وہ تنہا نہیں رہا۔ وہ بچوں کے دلوں میں موجود تھا اور بچوں کی خوشی سے اس کے دل میں بھی روشنی جاگ گئی۔ ایک آنسو اس کی آنکھ سے ٹپکا، لیکن یہ آنسو دکھ کا نہیں، بلکہ خوشی اور سکون کا تھا۔
اکبر کو یاد آیا کہ زندگی میں سب سے بڑی دولت محبت اور بانٹنے میں ہے۔ وہ صرف دو روٹیاں اور چند خشک میوہ جات لے کر آیا تھا، لیکن ان چند چیزوں نے اتنی خوشی پیدا کر دی کہ اکبر کے دل کا ہر کونا روشن ہو گیا۔
اسی دن اکبر نے فیصلہ کیا کہ ہر رمضان وہ یہی کرے گا۔ وہ چھوٹے چھوٹے تحفے لے کر گلیوں میں جائے گا اور بچوں کو خوشیوں کا تحفہ دے گا۔ اس نے جان لیا کہ عید صرف اپنے لیے نہیں، بلکہ دوسروں کے لیے خوشیاں بانٹنے کا نام ہے۔ کچھ دن بعد، جب رمضان ختم ہوا اور عید آئی، اکبر نے دیکھا کہ گلی میں بچے اس کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہر بچے کی آنکھ میں اکبر کے لیے محبت اور شکریہ تھا۔ اکبر نے اس لمحے کو دل میں بٹھا لیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اصل خوشی وہ نہیں جو انسان اپنے لیے رکھتا ہے، بلکہ وہ ہے جو انسان دوسروں کے لیے دیتا ہے۔
اس کے بعد کے برسوں میں، اکبر نے ہر رمضان بچوں اور محتاجوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تحفے تقسیم کیے۔ اس کی زندگی اب تنہائی میں نہیں گزرتی تھی۔ لوگ اس کے پاس آتے، اس سے بات کرتے اور اس کی مسکراہٹ سے اپنی زندگی میں خوشی پا لیتے۔
اکبر کی کہانی یہ سکھاتی ہے کہ سچی خوشی دینے میں ہے، بانٹنے میں ہے اور دوسروں کے دل چھونے میں ہے۔ چھوٹے چھوٹے اعمال، کسی کی زندگی بدل سکتے اور دلوں کو چھو سکتے ہیں۔
اکبر کے لیے عید کا ہر لمحہ اب ایک تحفہ بن گیا، کیونکہ اس نے جان لیا کہ حقیقی خوشی تبھی ملتی ہے جب انسان اپنے دکھ اور تنہائی کو بھلا کر دوسروں کے لیے خوشیاں بانٹے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔