گاما پہلوان، جس کے سامنے اکھاڑا خاموش ہوجاتا تھا

محمد راحیل وارثی

برصغیر کی مٹی میں عجیب تاثیر ہے۔ یہی مٹی کبھی صوفیوں کے قدموں سے مہکی، کبھی شاعروں کے لفظوں سے روشن ہوئی اور کبھی ایسے پہلوانوں کے پسینے سے تر ہوئی جنہوں نے اپنے جسم کو محض طاقت کا نہیں، عزم، ضبط اور ریاضت کا استعارہ بنادیا۔ انہی ناموں میں ایک نام گاما پہلوان کا ہے، ایسا نام جسے وقت نے صرف ایک پہلوان کے طور پر نہیں بلکہ ایک داستان کے طور پر محفوظ کرلیا۔ گاما پہلوان کا اصل نام غلام محمد تھا، 22 مئی 1878 کو امرتسر کے قریب جابووال میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس میں پہلوانی محض کھیل نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والی روایت تھی۔ ان کے والد محمد عزیز بخش بھی معروف پہلوان تھے۔ یوں گاما کے لیے اکھاڑا کسی اجنبی دنیا کا نام نہیں تھا، وہ اسی ماحول میں پروان چڑھے جہاں جسم کی تربیت کے ساتھ صبر، برداشت اور استاد کی اطاعت کو بھی فن کا حصہ سمجھا جاتا تھا۔
کہتے ہیں کہ گاما نے کم عمری ہی میں اپنی غیر معمولی جسمانی قوت کے آثار دکھانا شروع کردیے تھے۔ مگر صرف طاقت کسی انسان کو عظیم پہلوان نہیں بناتی۔ اصل راز وہ برسوں کی مشقت ہے جس میں طلوعِ آفتاب سے پہلے اٹھنا، ہزاروں ڈنڈ بیٹھکیں لگانا، سخت ورزش کرنا، خوراک میں نظم رکھنا اور اپنے جسم کو مسلسل آزمائش سے گزارنا شامل تھا۔ گاما نے اپنے جسم کو یوں تراشا جیسے کوئی سنگ تراش پتھر کو تراشتا ہے، فرق صرف اتنا تھا کہ ان کے ہاتھ میں ہتھوڑا نہیں، عزم تھا۔ گاما کی شہرت اس وقت برصغیر کی حدود سے نکلنے لگی جب انہوں نے بڑے بڑے پہلوانوں کو چیلنج کرنا شروع کیا۔ ان کی کشتیوں کا چرچا دور دور تک پہنچا۔ ان کے بارے میں مشہور ہوا کہ وہ جس اکھاڑے میں اترتے، وہاں مقابلہ شروع ہونے سے پہلے ہی ان کے نام کا رعب محسوس ہونے لگتا۔ البتہ ان کی شہرت محض قصوں پر قائم نہیں تھی، انہوں نے اپنے دور کے کئی نامور پہلوانوں کے ساتھ مقابلے کیے اور اپنی غیر معمولی قوت و مہارت کا ثبوت دیا۔
1910ء میں گاما پہلوان اپنے بھائی امام بخش کے ہمراہ انگلستان گئے۔ وہاں ان کا سامنا یورپی پہلوانوں سے ہوا۔ اس سفر نے گاما کے نام کو بین الاقوامی سطح پر نمایاں کردیا۔ لندن میں انہوں نے دنیا کے معروف پہلوانوں کو چیلنج کیا۔ ایک دلچسپ روایت یہ بھی ہے کہ انہوں نے ایسے پہلوان کو مقابلے کی دعوت دی جسے اس دور میں عالمی سطح پر انتہائی مضبوط سمجھا جاتا تھا۔ گاما کا یہ انداز بتاتا ہے کہ حقیقی پہلوان کے لیے اکھاڑا صرف جسمانی مقابلے کی جگہ نہیں ہوتا، وہ اپنے فن پر یقین کا میدان بھی ہوتا ہے۔ گاما کے بارے میں سب سے زیادہ حیران کن بات ان کی ورزش اور قوت کے واقعات ہیں۔ ان کے روزمرہ معمول سے متعلق کئی روایات بیان کی جاتی ہیں، جن میں ہزاروں ڈنڈ بیٹھکیں، طویل دوڑ اور بھاری وزن اٹھانے کا ذکر ملتا ہے۔ ان اعداد و شمار میں بعض روایات مبالغہ بھی رکھتی ہیں، اس لیے انہیں حرفِ آخر سمجھنے کے بجائے اس دور کی عوامی یادداشت کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ تاہم یہ حقیقت مسلم ہے کہ گاما کی جسمانی تربیت غیر معمولی تھی اور ان کی قوت نے انہیں اپنے زمانے کے دوسرے پہلوانوں سے ممتاز کیا۔ لیکن گاما کی اصل عظمت شاید ان کے پٹھوں میں نہیں، ان کے کردار میں تھی۔
تقسیمِ ہند کے بعد جب خون آلود ہجرت نے لاکھوں انسانوں کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا تو گاما بھی ہندوستان سے پاکستان آگئے۔ لاہور میں انہوں نے اپنی زندگی کے آخری برس گزارے۔ یہ وہی شہر تھا جہاں اکھاڑوں کی مٹی میں ان کے عہد کی پہلوانی کی خوشبو باقی تھی، مگر اب زمانہ بدل رہا تھا۔ وہ دنیا جس میں پہلوان محلے کی شان، اکھاڑے کے استاد اور نوجوانوں کے آئیڈیل ہوا کرتے تھے، آہستہ آہستہ جدید کھیلوں اور بدلتی ہوئی شہری زندگی کے سامنے پیچھے ہٹ رہی تھی۔
گاما پہلوان کا انتقال 23 مئی 1960ء کو لاہور میں ہوا۔ ان کی زندگی کا سورج غروب ہوگیا، مگر ان کا نام اکھاڑے کی مٹی میں دفن نہیں ہوا۔ وہ آج بھی برصغیر کی کھیلوں کی تاریخ میں ایک ایسی علامت ہیں جس کے معنی صرف کشتی تک محدود نہیں۔ گاما ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ جسمانی طاقت وقتی ہوسکتی ہے، مگر محنت سے پیدا ہونے والا کردار دیرپا ہوتا ہے۔ پہلوانی کا اصل حسن کسی حریف کو گرانے میں نہیں بلکہ اپنے آپ کو نظم و ضبط کے تابع کرنے میں ہے۔ اکھاڑے میں سب سے مشکل مقابلہ سامنے کھڑے پہلوان سے نہیں، انسان کے اپنے نفس، سستی اور خوف سے ہوتا ہے۔
آج جب کامیابی کو چند لمحوں کی شہرت، تصویروں اور شور میں ناپنے کا رواج بڑھ گیا ہے، گاما پہلوان کی داستان ہمیں ایک مختلف زمانے کی طرف لے جاتی ہے؛ ایسے زمانے کی طرف جہاں شہرت پسینے سے کمائی جاتی تھی، جسم ریاضت سے بنتا تھا اور نام برسوں کی محنت کے بعد تاریخ میں جگہ پاتا تھا۔ گاما پہلوان چلے گئے، اکھاڑے بدل گئے، زمانہ بدل گیا، مگر ایک پہلوان کا نام آج بھی زندہ ہے۔ شاید اس لیے کہ کچھ لوگ صرف اپنے دور میں نہیں جیتے، وہ آنے والی نسلوں کی یادداشت میں بھی اپنی کشتی جاری رکھتے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔