اندھیرے سے روشنی تک
وقاص بیگ
عارف ایک تعلیم یافتہ، سمجھ دار اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ اچھے گھرانے سے تعلق، مناسب نوکری، ماں باپ زندہ، مگر ایک کمی تھی، دل کا سکون۔ ابتدا میں دوستوں کی محفلیں، پھر سگریٹ، پھر شراب اور آہستہ آہستہ وہ نشے کی اُس اندھی گلی میں داخل ہوگیا جہاں سے واپسی مشکل ہوگئی۔ شروع میں اسے لگتا تھا کہ وہ سب کچھ کنٹرول میں رکھے ہوئے ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اب کنٹرول نشے کے ہاتھ میں تھا۔
نماز کب چھوٹی، یہ اسے یاد نہیں۔ رمضان آئے تو روزے چھوٹ جاتے، ماں پوچھتی تو جھوٹ بول دیتا۔ باپ خاموش ہوگیا تھا، شاید مایوسی کی آخری حد پر تھا۔ عارف کی زندگی اب راتوں کی آوارگی، خالی نظریں اور اندرونی بے چینی کا مجموعہ بن چکی تھی۔ وہ اکثر سوچتا: “اگر اللہ واقعی رحیم ہے تو پھر میں ایسا کیوں بن گیا؟” مگر یہ سوال اسے اللہ سے قریب کرنے کے بجائے اور دور لے جاتا۔
ایک دن اسے خبر ملی کہ اس کا پرانا دوست، جو اس سے بھی زیادہ بگڑا ہوا تھا، اچانک انتقال کر گیا۔ انتقال کی وجہ اوور ڈوز تھی۔ خبر سنتے ہی عارف کے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ موت کوئی کہانی نہیں، ایک حقیقت ہے اور بہت قریب ہے۔ اسی رات وہ شدید نشے میں گھر آیا۔ ماں صحن میں بیٹھی قرآن پڑھ رہی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر بیٹے کو دیکھا، آنکھوں میں آنسو تھے مگر زبان خاموش۔ عارف نظریں چرا کر اپنے کمرے میں چلا گیا، مگر ماں کی خاموشی اسے اندر تک کاٹ رہی تھی۔
اُس رات وہ سو نہ سکا۔ دل عجیب خوف میں مبتلا تھا۔ اسے لگا جیسے زندگی اس کے ہاتھ سے ریت کی طرح پھسل رہی ہو۔ فجر سے کچھ پہلے اس کی آنکھ لگ گئی۔ خواب میں اس نے خود کو ایک تنگ قبر میں دیکھا۔ اندھیرا، گھٹن اور سوالات، وہ چیخ کر جاگ اٹھا۔ پسینہ پسینہ، سانس بے قابو۔ اسی لمحے فجر کی اذان بلند ہوئی: “حیّ علی الفلاح”۔ کامیابی کی طرف آؤ۔
وہ دیر تک انہی الفاظ کو سنتا رہا۔ دل نے سوال کیا: کیا میرے لیے بھی کوئی کامیابی باقی ہے؟ اُس دن عارف پہلی بار بغیر کسی دباؤ کے مسجد گیا۔ دل بوجھل تھا، قدم کانپ رہے تھے۔ مسجد میں چند بزرگ بیٹھے تھے۔ امام صاحب درس دے رہے تھے، انہوں نے سورۃ الزمر کی آیت تلاوت کی: “اے میرے بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔” یہ الفاظ تیر بن کر عارف کے دل میں اتر گئے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ خود کو روک نہ سکا۔ برسوں بعد دل نرم پڑا تھا۔
وہ امام صاحب کے قریب جاکر بیٹھ گیا۔ نہ کوئی لمبی تقریر، نہ ڈانٹ، بس اتنا کہا گیا:
“بیٹا، اللہ کی طرف ایک قدم تم بڑھاؤ، وہ دس قدم تمہاری طرف آئے گا۔” یہ جملہ عارف کے لیے زندگی بدل دینے والا تھا۔ نشہ چھوڑنا آسان نہیں تھا۔ جسم بغاوت کرتا، ذہن بہانے بناتا، پرانے دوست بلاتے۔ کئی بار وہ ٹوٹتے ٹوٹتے بچا مگر اب اس کے پاس ایک سہارا تھا، نماز۔ وہ گرتا، مگر پھر اٹھتا۔ وہ رو کر دعا کرتا: “یااللہ! میں کمزور ہوں، مگر تُو سب سے طاقتور ہے۔”
ماں نے ایک دن اسے سجدے میں روتے دیکھا تو خاموشی سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔ شاید وہ لمحہ عارف کی زندگی کا سب سے قیمتی لمحہ تھا۔ مہینے گزرے۔ عارف نے بری صحبت چھوڑ دی، سادہ زندگی اپنائی۔ دل اب بھی کبھی کبھی ماضی کی طرف کھنچتا، مگر وہ جان چکا تھا کہ اصل آزادی نشے میں نہیں، اللہ کی بندگی میں ہے۔ آج عارف کسی بڑے عہدے پر نہیں، نہ کوئی مشہور شخصیت ہے، مگر فجر میں پہلی صف میں کھڑا ہوتا ہے۔ کبھی کبھار کسی نشے کے عادی نوجوان کو دیکھ کر اس کے پاس بیٹھ جاتا ہے اور بس اتنا کہتا ہے: “میں بھی وہیں تھا جہاں تم ہو۔ اگر اللہ نے مجھے نکال لیا، تو تمہیں بھی نکال سکتا ہے۔”
یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ہدایت کسی خاص طبقے کے لیے نہیں۔ اللہ کی رحمت گناہوں کی گہرائی سے بھی زیادہ گہری ہے۔ شرط صرف ایک ہے: سچائی سے لوٹنا۔