پہلی نظر، نئی زندگی

اسد احمد
وہ مکہ مکرمہ پہلی بار آیا تھا، مگر اس کے دل میں وہ کیفیت نہیں تھی جو عام طور پر آنے والوں کے چہروں پر دکھائی دیتی ہے۔ نام اس کا حارث تھا۔ عمر کوئی 28 برس۔ اچھی نوکری، جدید سوچ، دوستوں کی محفلیں، سوشل میڈیا کی چکاچوند۔ زندگی بظاہر مکمل تھی۔ دین اس کے لیے رسموں تک محدود، تہواروں تک سمٹا ہوا تھا۔
عمرے کا ارادہ بھی اس کا اپنا نہیں تھا۔ ماں کی ضد تھی۔ “بیٹا، ایک بار اللہ کے گھر چلے جاؤ، دل کو سکون ملے گا۔” وہ مسکرا کر ٹال دیتا، مگر آخرکار ماں کی خاموش دعا کے آگے ہار مان گیا۔
جب سرزمین مکہ پر قدم رکھا تو دل میں کوئی خاص جذبہ نہیں تھا۔ ہوٹل، سامان، موبائل، تصاویر، سب معمول کے مطابق تھا۔ وہ اپنے دوستوں کو اسنیپ بھیج رہا تھا۔ پہلی رات طواف کا وقت آیا۔ وہ بھیڑ میں شامل ہوگیا، احرام باندھا، مگر دل ابھی بھی دنیا میں مصروف تھا۔ پھر وہ لمحہ آیا۔ جب پہلی بار خانہ کعبہ اس کی نظروں کے سامنے آیا، تو وقت جیسے رُک سا گیا۔ اس نے سوچا تھا کہ وہ بس ایک عمارت دیکھے گا، مگر یہ تو کچھ اور ہی تھا۔ سیاہ غلاف، سنہری کلمات اور وہ مرکز، جس کے گرد صدیوں سے دعائیں گردش کر رہی تھیں۔ اچانک اس کا سینہ بھاری ہونے لگا۔ دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ آنکھوں کے سامنے دُھند سی چھا گئی۔ وہ خود سے کہنے لگا، “یہ کیا ہورہا ہے؟” لیکن جواب کوئی نہیں تھا۔ اس نے نظریں جھکانا چاہیں، مگر وہ ایسا کرنے سے قاصر تھا۔
ایک لمحے کو اسے اپنی پوری زندگی فلم کی طرح دکھائی دی۔ وہ نمازیں جو ٹال دی تھیں، وہ سچ جو بولنے سے گریز کیا تھا، وہ رشتے جنہیں وقت نہ دے سکا، وہ غرور جسے کامیابی سمجھتا رہا۔ پہلا آنسو بے اختیار گرا۔ پھر دوسرا۔ پھر وہ رو پڑا۔ بے آواز، بے سسکی، مگر ٹوٹ کر۔ اسے یاد آیا، ماں کہا کرتی تھی: “بیٹا، اللہ کے گھر میں انسان خود سے نہیں ملتا، اللہ سے ملتا ہے۔”
وہ طواف میں شامل ہوگیا، مگر اب قدم بوجھل نہیں تھے، دل بوجھل تھا۔ ہر چکر کے ساتھ کچھ ٹوٹ رہا تھا۔ غرور، غفلت، خودپسندی۔ تیسرے چکر میں اس کے لب ہلنے لگے، مگر وہ جانتا نہیں تھا کہ کیا دعا مانگے۔ پانچویں چکر میں اس نے بس اتنا کہا:
“یااللہ، تُو میرا دل بدل دے۔” ساتویں چکر تک پہنچتے پہنچتے وہ وہی انسان نہیں رہا تھا جو آیا تھا۔ اس نے خانہ کعبہ کی طرف دیکھا اور پہلی بار دل سے کہا:
“میں غلط تھا۔” نماز کے بعد وہ ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ موبائل بند۔ نظریں جھکی ہوئی۔ اسے ایسا لگا جیسے کسی نے دل کے بند دروازے کھول دیے ہوں۔
ایسے احساسات ابھر رہے تھے جنہیں وہ برسوں دبائے بیٹھا تھا۔
اسی لمحے ایک ضعیف شخص اس کے پاس آ کر بیٹھا۔ سفید داڑھی، سادہ لباس، چہرے پر عجیب سا نور۔ اس نے بس اتنا کہا: “بیٹا، یہاں کوئی بھی یوں ہی نہیں آتا۔” حارث نے چونک کر دیکھا، مگر وہ شخص مسکرا کر بھیڑ میں گم ہوچکا تھا۔
وہ سوچتا رہا، کیا یہ محض اتفاق تھا؟ یا کوئی اشارہ؟
اگلے دن وہ ہر قدم پر دعا کرتا رہا۔ اب دعا مانگنا اسے آتا نہیں تھا، مگر دل بول رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا: “یا اللہ، مجھے وہ بنا دے جو تُو چاہتا ہے، نہ کہ جو میں خود کو سمجھتا رہا ہوں۔” عمرے کے آخری دن، وہ حرم میں فجر کے بعد بیٹھا رہا۔
سورج نکل رہا تھا، پرندے چہچہا رہے تھے اور حرم میں ایک عجیب سا سکون تھا۔
اس نے محسوس کیا کہ وہ اندر سے ہلکا ہوچکا ہے، جیسے برسوں کا بوجھ اتر گیا ہو۔
واپسی پر اس کے دوستوں نے پوچھا: “کیسا رہا عمرہ؟” وہ مسکرا دیا، مگر جواب نہیں دیا۔
کچھ دنوں بعد سب نے فرق محسوس کیا۔ وہی حارث، مگر رویہ بدلا ہوا۔ نماز وقت پر، بات میں نرمی، فیصلوں میں احتیاط۔ وہ چیزیں جو پہلے غیر اہم تھیں، اب اہم ہوگئیں۔
ماں نے ایک دن خاموشی سے کہا: “بیٹا، لگتا ہے تم واقعی ہو آئے ہو۔”
وہ بس اتنا کہہ سکا: “ہاں امی… میں وہیں رہ آیا تھا اور نیا ہو کر واپس آیا ہوں۔”
کچھ سفر نقشوں پر نہیں ہوتے، کچھ تبدیلیاں الفاظ میں نہیں سماتیں اور کچھ نگاہیں انسان کو ہمیشہ کے لیے بدل دیتی ہیں۔ یہ ان میں سے ایک تھی۔