فوجی فاؤنڈیشن: خدمت، طاقت، خودانحصاری

دانیال جیلانی
فوجی فاؤنڈیشن کا قیام 1954 میں عمل میں آیا۔ یہ ادارہ 1890 کے چار ٹیبل انڈوومنٹس ایکٹ کے تحت ایک فلاحی ٹرسٹ کے طور پر قائم کیا گیا، جس کا بنیادی مقصد پاکستان کی مسلح افواج کے ریٹائرڈ اہلکاروں، شہداء کے خاندانوں اور جنگی بیواؤں کی فلاح و بہبود تھا۔ اس ادارے کی بنیاد اس پوسٹ وار سروسز ری کنسٹرکشن فنڈ پر رکھی گئی جو برطانوی دور میں سابق فوجیوں کی بحالی کے لیے قائم کیا گیا تھا اور قیامِ پاکستان کے بعد 1947 میں پاکستان کو منتقل ہوا۔ 1954 میں اس فنڈ کی تحویل باضابطہ طور پر پاکستان آرمی کے سپرد کی گئی۔
ابتدائی سرمایہ، جو قریباً 18 ملین روپے تھا، کو فوری نقد امداد کی تقسیم کے بجائے ایک دُور اندیش فیصلے کے تحت صنعتی شعبے میں لگایا گیا۔ اس سرمایہ کاری کا پہلا عملی مظہر ایک ٹیکسٹائل مل کی صورت سامنے آیا، جس سے حاصل ہونے والی آمدن سے راولپنڈی میں پاکستان کا پہلا 50 بستروں پر مشتمل ٹی بی اسپتال قائم کیا گیا۔ یوں فوجی فاؤنڈیشن کے “کماکر خدمت” کے ماڈل کی بنیاد پڑی، جو وقت کے ساتھ ایک جامع اور پائیدار فلاحی نظام میں ڈھل گیا۔

آج فوجی فاؤنڈیشن پاکستان کے سب سے بڑے فلاحی و صنعتی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ 18 سے زائد صنعتی اور تجارتی منصوبے چلارہی ہے اور اندازاً ایک کروڑ افراد کو براہِ راست یا بالواسطہ فائدہ پہنچارہی ہے، جو ملک کی آبادی کا قریباً پانچ فیصد بنتا ہے۔ فاؤنڈیشن کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس کی سالانہ آمدن کا 70 فیصد سے زیادہ حصہ مسلسل فلاحی سرگرمیوں پر خرچ کیا جاتا ہے، جو اسے محض منافع کمانے والے اداروں سے ممتاز بناتا ہے۔
صحت کے شعبے میں فوجی فاؤنڈیشن کی خدمات پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اس کے تحت 74 سے زائد طبی سہولتیں کام کررہی ہیں، جن میں 11 اسپتال اور درجنوں میڈیکل سینٹرز اور کلینکس شامل ہیں۔ قریباً دو ہزار بستروں پر مشتمل یہ نظام سالانہ 50 لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج فراہم کرتا ہے۔ یہ سہولتیں نہ صرف مستحق فوجی خاندانوں بلکہ عام شہریوں کے لیے بھی دستیاب ہیں، جس سے سرکاری صحت کے نظام پر بوجھ کم ہوتا ہے۔
تعلیم کے میدان میں بھی فوجی فاؤنڈیشن کا کردار نمایاں ہے۔ اس کے زیرِ انتظام 131 تعلیمی ادارے کام کررہے ہیں، جن میں اسکول، کالجز، یونیورسٹیاں، میڈیکل، ڈینٹل اور نرسنگ کالجز، نیز ووکیشنل اور ٹیکنیکل ادارے شامل ہیں۔ ان اداروں میں 75 ہزار سے زائد طلبہ تعلیم حاصل کررہے ہیں، جن میں بڑی تعداد عام شہریوں کی بھی ہے۔ تعلیمی وظائف کا پروگرام 1954 سے جاری ہے، جو وقت کے ساتھ وسعت اختیار کرچکا ہے اور آج ہزاروں طلبہ کو مالی معاونت فراہم کررہا ہے۔

فوجی فاؤنڈیشن ہُنرمندی اور فنی تربیت کے شعبے میں بھی فعال ہے۔ اس کے تربیتی پروگرام سابق فوجیوں، ان کے بچوں، بیواؤں اور عام شہریوں کو روزگار کے قابل بناتے ہیں اور پائیدار معاشی مواقع پیدا کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ شہداء کے لواحقین اور ریٹائرڈ اہلکاروں کے لیے مالی معاونت، سماجی بہبود اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ کے مختلف منصوبے بھی جاری ہیں۔
قومی معیشت میں فوجی فاؤنڈیشن کا کردار نہایت اہم ہے۔ یہ ایک مکمل خود مالیاتی ادارہ ہے، جو کسی سرکاری سبسڈی یا بجٹ پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتا ہے۔ سالانہ طور پر یہ ادارہ اربوں روپے کے ڈیوڈنڈ پیدا کرتا ہے، جن میں سے ایک بڑا حصہ عوامی شیئر ہولڈرز کو دیا جاتا ہے جب کہ قابلِ ذکر رقم فلاحی منصوبوں پر خرچ کی جاتی ہے اور باقی کاروباری توسیع میں لگائی جاتی ہے۔
روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے بھی فوجی فاؤنڈیشن ایک نمایاں ادارہ ہے۔ اس میں قریباً 32 ہزار افراد ملازمت کرتے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں پر مشتمل ہے۔ خواتین اور معذور افراد کی شمولیت بھی اس ادارے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ریٹائرڈ فوجی افسران اور جوانوں کو باوقار روزگار فراہم کرکے ان کے تجربے اور نظم و ضبط سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے جب کہ سپلائی چَین اور ذیلی اداروں کے ذریعے ہزاروں بالواسطہ ملازمتیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔
زرعی شعبے میں فوجی فاؤنڈیشن پاکستان کی یوریا کھاد کی 60 فیصد ضرورت پوری کرتی ہے، جس سے اربوں ڈالر کا زرِمبادلہ بچتا ہے۔ یہ ادارہ مشکل حالات، گیس کی قلت یا کم منافع کے باوجود پیداوار جاری رکھتا ہے اور فصلوں کے سیزن میں قیمتوں کے استحکام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
توانائی کے شعبے میں بھی فوجی فاؤنڈیشن کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ توانائی بحران کے دوران اس نے بغیر یا کم حکومتی ضمانتوں کے پاور پلانٹس قائم کیے، جو قومی گرڈ کو سیکڑوں میگاواٹ بجلی فراہم کررہے ہیں۔ اس کے منصوبے مقامی گیس اور قابلِ تجدید توانائی پر مبنی ہیں، جس سے نہ صرف زرِمبادلہ کا دباؤ کم ہوتا ہے، بلکہ ملکی توانائی اہداف کو بھی تقویت ملتی ہے۔
دیگر سرکاری اداروں کے برعکس، فوجی فاؤنڈیشن قومی خزانے پر بوجھ نہیں بنتی۔ یہ خسارے، بیل آؤٹس اور قرضوں کے بجائے ٹیکس ادا کرنے والا ادارہ ہے، جو ریاست کے لیے خالص فائدہ پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے پاکستان کے لیے ایک منفرد اور مؤثر ماڈل سمجھا جاتا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہے کہ فوجی فاؤنڈیشن ایک ایسا ادارہ ہے جو تجارتی کامیابی کو سماجی خدمت کے ساتھ ہم آہنگ کرکے ایک قابلِ تقلید مثال پیش کرتا ہے۔ اپنے وسائل سے فلاحی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ ادارہ نہ صرف لاکھوں مستحق خاندانوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کررہا ہے بلکہ قومی معیشت، خوراک، توانائی اور روزگار کے شعبوں میں بھی مضبوط کردار ادا کررہا ہے۔ یہ ماڈل پاکستان کے لیے ایک پائیدار اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ترقی کی روشن مثال ہے۔