رحم اور ہمدردی

فہیم سلیم

رات کی تاریکی شہر پر چھائی ہوئی تھی جیسے کسی نے آسمان پر سیاہی انڈیل دی ہو۔ سرد ہوا خالی سڑکوں سے گزرتی ہوئی ایک عجیب سی اداسی کو جنم دے رہی تھی۔ اسی ویران رات میں ایک شخص خاموشی سے چل رہا تھا، اس کا نام سعد تھا۔
سعد کوئی امیر زادہ نہیں تھا۔ نہ بڑی گاڑی، نہ شاندار گھر۔ وہ ایک عام سا درزی تھا، جو دن بھر محنت کرتا اور بمشکل دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتا۔ لیکن اس کے دل میں ایک ایسی دولت تھی جو دنیا کے کسی خزانے سے بھی قیمتی تھی۔ رحم، ہمدردی، اور دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنے کا جذبہ۔
اس کی دکان چھوٹی سی تھی مگر اس کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے تھے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو کچھ بھی ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے۔ ایک دن ایک بوڑھی عورت اس کے دروازے پر آئی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور آنکھوں میں ایک عجیب سی بے بسی تھی۔ دھیمی آواز میں بولی:
“بیٹا، کیا تم یہ کپڑا سی سکتے ہو؟ میرے پاس پیسے نہیں ہیں، سردی بہت ہے۔”
سعد نے مسکرا کر کہا: “اماں، یہ میرا فرض ہے، احسان نہیں۔”
اس نے نہ صرف کپڑے سی دیے بلکہ اپنی طرف سے ایک گرم شال بھی دی۔ تشکر کے طور پر بوڑھی عورت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
سعد کی عادت تھی کہ وہ کسی سے زور زبردستی زائد رقم وصول نہیں کرتا تھا۔ اُس کی چند اچھی عادتوں میں مستحقین کی مدد کرنا شامل تھا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی مدد کرتا رہتا تھا۔
ایک دن سعد خود مشکل میں آ گیا۔ اس کی ماں شدید بیمار ہوگئی۔ ڈاکٹر نے کہا کہ علاج کے لیے بڑی رقم درکار ہے۔ سعد کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے۔ اس نے اپنی جمع پونجی نکالی، مگر وہ ناکافی تھی۔ اس رات پہلی بار، سعد ٹوٹ گیا۔ وہ اپنی ماں کے سرہانے بیٹھا تھا، آنکھوں میں آنسو۔ دل میں سوال اٹھ رہے تھے۔ وہ آسمان کی طرف دیکھ کر دھیمی آواز میں بولا: “یا اللہ، کیا میری نیکیوں کا کوئی صلہ نہیں؟”
اگلی صبح، جب سعد نے دکان کھولی، تو اس نے دیکھا کہ دروازے کے باہر لوگوں کا ہجوم کھڑا ہے۔ وہ حیران رہ گیا۔
بوڑھی عورت، جس کے کپڑے اس نے سیئے تھے، آگے بڑھی۔ اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا تھا۔ اس نے وہ سعد کے ہاتھ میں دیتے ہوئے کہا: “بیٹا، یہ تمہارے لیے ہے۔” ایک ایک کر کے لوگ آگے آنے لگے: وہ بچہ جسے کبھی پہلے سعد نے یونیفارم دی تھی، اب اپنے والد کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ مزدور، وہ بیوہ، وہ سب لوگ، جن کی سعد نے کبھی مدد کی تھی، آج اس کے سامنے تھے۔
کچھ نے سو روپے دیے، کچھ نے ہزار، کچھ نے اپنی جمع پونجی رکھ دی۔ سعد کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ چند گھنٹوں میں اتنی رقم جمع ہوگئی کہ اس کی ماں کا علاج ہو سکتا تھا۔ سعد سجدے میں گر گیا اور روتے ہوئے کہا:
“یااللہ، میں نے تو صرف تیرے بندوں پر رحم کیا تھا اور تُو نے مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے۔”
زندگی نے سعد کو ایک ایسی سچائی سکھائی: رحم کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ جو آپ دیتے ہیں، وہ لوٹ کر آتا ہے، کبھی انسانوں کے ہاتھوں، کبھی اللہ کی رحمت کی صورت میں۔ وقت گزرتا گیا۔ سعد کی زندگی بدل گئی، مگر اس کا دل نہیں بدلا۔ وہ آج بھی ویسا ہی تھا۔ سادہ، خاموش اور دوسروں کے درد کو محسوس کرنے والا۔ وہ جانتا تھا کہ کپڑے سینے سے زیادہ اہم کام، دلوں کو جوڑنا اور انسانیت کو سنبھالنا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی طاقت دولت یا طاقت نہیں، بلکہ رحم اور ہمدردی ہے اور جو شخص دوسروں کے لیے جیتا ہے، آخر میں وہ کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ رحمت اور محبت ہمیشہ اس کے قدم چومتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔