بدلتا سال، بدلتا دل

اسد احمد


رات کے بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔ شہر جگمگا رہا تھا۔ آسمان پر آتش بازی کے رنگ بکھر رہے تھے، سڑکوں پر شور، ہنسی اور گاڑیوں کے ہارن گونج رہے تھے۔ ہر طرف “ہیپی نیو ایئر” کے نعرے تھے مگر احمد کے کمرے میں عجیب سی خاموشی تھی۔
احمد کھڑکی کے پاس کھڑا تھا۔ ایک ہاتھ میں موبائل، جس پر اُلٹی گنتی چل رہی تھی اور دوسرا ہاتھ بے اختیار دل پر رکھا ہوا تھا۔
“ایک اور سال ختم ہو گیا…” اس نے آہستہ سے کہا۔
اس سال میں اس نے بہت کچھ حاصل کیا تھا۔ اچھی نوکری، پہچان، دوست، سہولتیں—مگر دل کے کسی کونے میں خالی پن تھا، جو کسی جشن سے بھر نہیں رہا تھا۔
اچانک دروازہ آہستہ سے کھلا۔ دادی اماں اندر داخل ہوئیں۔ ان کے چہرے پر وہی مانوس سکون تھا، جو برسوں کی عبادت اور صبر کا نتیجہ تھا۔
“بیٹا، سب لوگ خوشیاں منارہے ہیں اور تم یوں گم صم کیوں کھڑے ہو؟”
احمد نے زبردستی مسکرا کر کہا، “دادی، بس ایسے ہی… سوچ رہا ہوں۔”
دادی اماں قریب آ کر بیٹھ گئیں۔
“سوچنا اچھی بات ہے، بیٹا۔ مگر یہ بھی سوچو کہ جو سال گزر گیا، وہ ہمیں اللہ کے قریب لے گیا یا دور؟”
یہ سن کر احمد خاموش ہوگیا۔ اسے یاد آیا کہ کتنی نمازیں اس نے ٹال دیں، کتنی بار والدین کی بات نظرانداز کی، کتنی ہی بار دل نے توبہ کا ارادہ کیا مگر عمل نہ ہو سکا۔
دادی اماں بولتی رہیں: “تمہارے دادا ہر نئے سال کی رات کہتے تھے: یااللہ، اگر یہ سال میری زندگی کا آخری سال ہوتا، تو کیا میں تیار تھا؟ یہی سوال انسان کو جگا دیتا ہے۔”
اسی لمحے مسجد سے فجر کی اذان کی آواز بلند ہوئی۔ “اللہ اکبر… اللہ اکبر…”
اذان جیسے سیدھی احمد کے دل میں اتر گئی۔ اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ اس نے بغیر کچھ کہے جیکٹ اٹھائی اور مسجد کی طرف چل پڑا۔
ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی، سڑکیں سنسان تھیں اور آسمان پر ہلکی سی روشنی نمودار ہو رہی تھی۔ مسجد میں چند ہی لوگ تھے، مگر وہاں ایک عجیب سکون تھا، جو شہر کے شور میں کہیں کھو گیا تھا۔
نماز میں سجدے کے دوران احمد کا ضبط ٹوٹ گیا۔ آنسو بہنے لگے۔ نماز مکمل کرنے کے بعد اُس کے ہاتھ دعا کے لیے اُٹھے۔ “یا اللہ، میں جان بوجھ کر نہیں بھٹکا، مگر غفلت میں بہت دور آ گیا۔ مجھے ایک موقع اور دے دے۔ میں بدلنا چاہتا ہوں۔”
نماز کے بعد وہ دیر تک وہیں بیٹھا رہا۔ دل ہلکا ہو چکا تھا، جیسے برسوں کا بوجھ اتر گیا ہو۔
جب وہ گھر لوٹا تو سورج طلوع ہورہا تھا۔ روشنی کمرے میں پھیل رہی تھی۔ دادی اماں تسبیح ہاتھ میں لیے بیٹھی تھیں۔
احمد نے ان کے ہاتھ چومے اور کہا: “دادی، آج مجھے سمجھ آ گیا ہے۔ نیا سال اصل میں ایک یاد دہانی ہے کہ وقت کم ہے مگر واپسی کا دروازہ ابھی بند نہیں ہوا۔”
دادی اماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔
“بس یہی اصل کامیابی ہے، بیٹا۔”
اس دن احمد نے کوئی لمبی فہرست نہیں بنائی، بس ایک سادہ سا عہد کیا:
نماز نہیں چھوڑے گا، دل نہیں سخت کرے گا اور اگر گرے گا بھی تو اللہ کی طرف ہی لوٹے گا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا: نیا سال نہیں بدلتا، انسان بدلتا ہے اور جب دل بدل جائے تو زندگی خود بدل جاتی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔