بھارت کی ڈس انفارمیشن کی ایک اور مہم بے نقاب

عبدالعزیز بلوچ

بھارت ڈس انفارمیشن پھیلا کر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے ہتھکنڈے اختیار کرتا رہتا ہے۔ پاکستان سے اسے اللہ واسطے کا بیر ہے۔ اس کی ڈس انفارمیشن کی ایک اور مذموم مہم بے نقاب ہوئی ہے۔
موجودہ دور میں جنگوں کی نوعیت بدل چکی ہے، جہاں ہتھیاروں کے ساتھ معلومات اور بیانیے بھی ایک مؤثر ہتھیار بن چکے ہیں۔ حالیہ انکشافات نے یہ واضح کردیا ہے کہ بھارت منظم ڈس انفارمیشن مہم کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔ یہ ایک خطرناک رجحان ہے جو سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارتی نیٹ ورک نے جعلی ایرانی شناختوں کے ذریعے پاکستان کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی۔ اس حکمت عملی کا مقصد پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنا تھا، تاکہ عالمِ اسلام میں بداعتمادی پیدا کی جاسکے۔ خاص طور پر ایسے وقت میں جب پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے فعال کردار ادا کررہا ہے، بھارت کی یہ کارروائیاں انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت ہیں۔
بھارت کی جانب سے Initiator ،Proliferator اور Amplifier ماڈل کے تحت چلائی جانے والی یہ مہم اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ ایک منظم اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔ بیانیہ سازی، اس کا پھیلاؤ اور پھر اسے تقویت دینا، یہ سب مراحل اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت جدید انفارمیشن وارفیئر کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف پاکستان کے خلاف ہیں بلکہ یہ عالمی سطح پر بھی ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہیں۔ اگر ریاستیں اس طرح جھوٹے بیانیے گھڑ کر ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں گی تو سفارت کاری اور بین الاقوامی اعتماد کا نظام شدید متاثر ہوگا۔ بھارت کا یہ طرزِ عمل درحقیقت خطے میں امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ صورت حال ایک اہم امتحان ہے۔ ایک جانب اسے اپنی مثبت سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا ہے جب کہ دوسری طرف بھارتی پروپیگنڈے کا مؤثر اور مدلل جواب بھی دینا ہے۔ خوش آئند بات کہ ماہرین اس مہم کو بے نقاب کرکے حقیقت سامنے لائے، جس سے پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے۔ اس واقعے سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سائبر سیکیورٹی اور میڈیا لٹریسی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کو بغیر تصدیق کے قبول نہ کریں، کیونکہ بھارت جیسے عناصر اسی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ ان معاملات میں بھارت جیسے ممالک کا راستہ روکنا ضروری ہے۔ امن صرف اسی صورت ممکن ہے جب تمام ممالک سچائی، شفافیت اور باہمی احترام کے اصولوں کو اپنائیں۔ بصورتِ دیگر، اس قسم کی ڈس انفارمیشن مہمات خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔