امجد صابری آج بھی دلوں میں زندہ ہیں

محمد راحیل وارثی

پاکستان میں قوالی کو ہمیشہ خاص مقام حاصل رہا ہے۔ اس فن نے نہ صرف صدیوں پرانی صوفیانہ روایت کو زندہ رکھا بلکہ محبت، امن اور انسانیت کا پیغام بھی عام کیا۔ امجد صابری نے اس فن سے عالمی شہرت حاصل کی۔ ان کے والد اور چچا بھی اس کے ذریعے بہت پہلے ہی عالمی شہرت حاصل کرچکے تھے۔ امجد صابری کی آواز نے لاکھوں دلوں کو مسحور کیا، افسوس انہیں 16 رمضان کو شہید کردیا گیا۔ آج ان کی برسی ہمیں نہ صرف ایک عظیم فنکار کی یاد دلاتی ہے بلکہ اس خلا کا احساس بھی دلاتی ہے جو ان کے جانے کے بعد پیدا ہوا۔
امجد صابری معروف قوال غلام فرید صابری کے صاحبزادے تھے اور صابری برادران کی وہ روایت آگے لے کر چلے، جس نے قوالی کو عالمی سطح پر شہرت دلائی۔ بچپن ہی سے ان کا رجحان موسیقی اور قوالی کی طرف تھا۔ انہوں نے اپنے والد اور خاندان کے دیگر بزرگوں سے اس فن کی تربیت حاصل کی اور کم عمری میں ہی اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا شروع کردیا۔
امجد صابری کی آواز میں ایک عجیب سی کشش تھی۔ جب وہ قوالی گاتے تو سامعین پر ایک روحانی کیفیت طاری ہوجاتی۔ ان کی قوالیاں صرف موسیقی نہیں ہوتیں بلکہ روحانی پیغام کا ذریعہ بھی بنتی تھیں۔ انہوں نے کئی ایسی قوالیاں گائیں جو آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں، جن میں “تاجدارِ حرم” اور دیگر صوفیانہ کلام شامل ہیں۔ ان کے انداز میں خلوص، عقیدت اور محبت صاف جھلکتی تھی۔
قوالی کے ذریعے انہوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کیا۔ انہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ ملک بھی بے شمار محافل میں اپنی آواز کا جادو جگایا۔ جہاں بھی وہ گئے، لوگوں نے انہیں بے حد محبت اور عزت دی۔ ان کی شخصیت میں عاجزی اور سادگی نمایاں تھی، یہی وجہ ہے کہ لوگ انہیں صرف ایک فنکار کے طور پر نہیں بلکہ ایک اچھے انسان کے طور پر بھی یاد کرتے ہیں۔
16 رمضان پاکستان کی ثقافتی تاریخ کا انتہائی افسوس ناک دن ہے۔ اسی دن کراچی میں نامعلوم حملہ آوروں نے امجد صابری کو فائرنگ کرکے شہید کردیا۔ یہ واقعہ نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے ملک کے لیے ایک بڑا صدمہ تھا۔ ان کی شہادت نے لاکھوں مداحوں کو غم میں مبتلا کردیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا کہ آخر وہ آوازیں کیوں خاموش کردی جاتی ہیں جو محبت اور امن کا پیغام دیتی ہیں۔
امجد صابری کی شہادت کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ لوگوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور اسے پاکستان کے ثقافتی ورثے پر حملہ قرار دیا۔ سوشل میڈیا سے لے کر عوامی حلقوں تک ہر جگہ ان کی یاد اور ان کے فن کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ آج بھی جب ان کی قوالیاں سنائی دیتی ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ ہمارے درمیان موجود ہوں۔
امجد صابری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ انہوں نے قوالی کو نئی نسل تک پہنچایا۔ انہوں نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اس فن کو پیش کیا لیکن اس کی اصل روح کو برقرار رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان نسل بھی ان کی قوالی سے متاثر ہوئی اور صوفیانہ کلام سے جڑی۔
ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ فن اور محبت کی زبان سرحدوں اور نفرتوں سے بالاتر ہوتی ہے۔ وہ اپنے فن کے ذریعے لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتے رہے۔ ان کی آواز میں جو درد، عقیدت اور سچائی تھی وہ انہیں دوسرے فنکاروں سے منفرد بناتی تھی۔
آج ان کی برسی کے موقع پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم نہ صرف انہیں یاد کریں بلکہ اس پیغام کو بھی زندہ رکھیں جو وہ اپنی قوالی کے ذریعے دیتے تھے۔ محبت، برداشت اور روحانیت کا یہی پیغام ہماری معاشرتی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
امجد صابری اگرچہ آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی آواز ہمیشہ زندہ رہے گی۔ جب بھی کوئی محفلِ سماع سجے گی، جب بھی کوئی صوفیانہ کلام گونجے گا، امجد صابری کی یاد ضرور تازہ ہوگی۔ وہ ایک ایسا ستارہ تھے جو مختصر وقت کے لیے چمکا مگر اپنی روشنی ہمیشہ کے لیے چھوڑ گیا۔
عظیم لوگ اپنے فن اور کردار کے ذریعے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ امجد صابری بھی انہی شخصیات میں شامل ہیں جن کی آواز اور پیغام وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جارہا ہے۔ آج بھی بے شمار دل ان کے لیے دعاگو ہیں اور انہیں محبت و عقیدت کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔