افغانستان فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کا گڑھ، دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پُرعزم ہیں: ترجمان پاک فوج
راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری اہم پریس کانفرنس کررہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری 2025 میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق سینئر صحافیوں کو بریف کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشنز کیے گئے، پچھلے سال 75 ہزار 175 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے اور دہشت گردی کے 5400 واقعات ہوئے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اور سویلینز کی شہادت 1235 سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریاست انسداد دہشت گردی کے لیے پُرعزم ہے، انسداد دہشت گردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، ریاست کا دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف ہے، دنیا نے پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ ریاست کا دہشت گردی کے خلاف موقف واضح ہے، ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، خوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بتایا کہ اس سال کل 5 ہزار 397 انسداد دہشت گردی آپریشن کیے گئے، سب سے اہم سوال کہ 80 فیصد دہشت گردی کے واقعات خیبر پختون خوا میں ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 75 ہزار 175 انٹیلی جینس بیسڈ آپریشن کیے، خیبر پختونخوا میں 14 ہزار 658، بلوچستان میں 58 ہزار 778 آپریشن کیے گئے، ملک کے دیگر علاقوں میں گزشتہ سال میں 1 ہزار 739 آپریشن کیے گئے۔
گزشتہ برس 27 خودکُش حملے ہوئے، کے پی میں 80 فیصد دہشت گرد حملے ہوئے، کے پی میں سیاسی طور پر سازگار ماحول دہشت گردی کے لیے فراہم کیا جاتا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا 2021 میں دہشت گردی نے سر اُٹھانا شروع کیا، 2021 میں 193 دہشت گرد جہنم واصل کیے گئے، 2021 میں افغانستان میں تبدیلی آئی، دوحہ معاہدہ ہوا، افغان گروپ نے دوحہ میں 3 وعدے کیے، افغان گروپ نے وعدہ کیاکہ افغان سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، افغان گروپ نے وعدہ کیا کہ افغانستان میں عورتوں کی تعلیم یقینی بنائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ سال 2025 میں 2597 دہشت گرد مارے گئے، گزشتہ سال سب سے زیادہ دہشت گردی واقعات خیبر پختونخوا میں کیوں ہوئے، خیبرپختونخوا میں زیادہ دہشت گردی کی وجہ وہاں دہشت گردوں کو دستیاب موافق ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کا گڑھ افغانستان میں ہے، تمام دہشت گرد تنظیمیں افغانستان میں ہیں، ان کی پرورش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر میں پاک افغان سرحد پر کشیدگی ہوئی، پاکستان بار بار افغانستان کو سمجھاتا ہے کہ دہشت گردوں کو سنبھالیں لیکن جب بات نہ بنی تو پھر گھنٹوں میں افغان پوسٹوں کو نشانہ بنایا گیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گزشتہ سال دہشتگردی کے ہونے والے واقعات سے متعلق جامع احاطہ کیا جائے گا، انسداد دہشتگردی کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں، دہشتگردوں کا پاکستان، اسلام اور بلوچستان سے کوئی تعلق نہیں،دنیا نے پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف اقدامات کو سراہا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ پوری قوم کی جنگ ہے، یہ بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہمیں جیتنا ہے، یہ جنگ ہم نے طاقت سے جیتنی ہے۔
ان کا کہنا تھا نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے، دہشتگردی کے خاتمے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ضروری ہے، خوارج کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ جہاں ملیں مار دو۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ امریکا افغانستان میں 7 اعشاریہ 2 ارب ڈالر کا جدید ترین اسلحہ چھوڑ کرگیا، افغان طالبان اپنی تنظیمی طرز پر ٹی ٹی پی کو تیار کرتی ہے، افغان طالبان وار اکانومی کو چلانے کے لیے دہشتگردی کو اسپانسرڈ کرتے ہیں، پاکستان میں دہشت گردی ہندوستان کی سرپرستی میں ہوتی ہے، طالبان وہاں پر اپنی عملداری بنارہے ہیں اور یہاں ان کی سیٹلمنٹ شروع ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا جب ہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں یہ کہا جاتا ہے ان سے بات کریں، 2023 میں ریاست پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کھڑی ہوگئی، سوال کیا جاتا ہے کہ یہ 5397 تو بہت بڑی تعداد ہے، جی یہ بہت بڑی تعداد ہے، روزانہ کی بنیاد پر اتنے آپریشن کیے جاتے ہیں، کچھ چیزیں زندگی میں ایسی ہیں جن کے لیے لڑنا ناصرف ضروری بلکہ جائز ہے، ہم دہشت گردوں کو ہر جگہ انگیج کر رہے ہیں۔