عاقب جاوید مشکل میں پھنس گئے

انجینئر بخت سید یوسفزئی
(engr.bakht@gmail.com)
(بریڈفورڈ، انگلینڈ)

پاکستان کرکٹ ایک بار پھر شدید تنقید کی زد میں ہے اور اس بار نشانے پر ہیں عاقب جاوید، جن کے حالیہ فیصلوں اور بیانات نے نہ صرف شائقین کو مایوس کیا بلکہ کھیل کے سنجیدہ حلقوں میں بھی سوالات کو جنم دیا ہے۔ کرکٹ جیسے حساس اور جذباتی کھیل میں جب شفافیت پر سوال اٹھتے ہیں تو اس کے اثرات صرف میدان تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری قوم کے اعتماد کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فخر زمان کو انجری کی بنیاد پر بنگلادیش سیریز سے باہر کرنے کا جواز پیش کیا گیا۔ عاقب جاوید نے اپنے بیان میں واضح کہا تھا کہ فخر زمان مکمل فٹ نہیں اور ٹیم کے مفاد میں انہیں آرام دینا ضروری ہے، لیکن اس وضاحت نے شائقین کو مطمئن کرنے کے بجائے مزید شکوک میں مبتلا کردیا۔
حالات اس وقت یکسر بدل گئے جب نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ کے ایک اہم میچ میں فخر زمان نے نہ صرف شرکت کی بلکہ میدان میں غیر معمولی توانائی اور اعتماد کے ساتھ کھیلتے ہوئے سب کو حیران کردیا۔ ان کی موجودگی ہی اس دعوے کی نفی کے لیے کافی تھی کہ وہ مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں۔
میچ کے دوران فخر زمان نے ایک ایسا شاندار اور ناقابل یقین کیچ پکڑا جس نے دیکھنے والوں کو دنگ کردیا۔ انہوں نے ہوا میں بلند چھلانگ لگاکر جس مہارت، توازن اور ردعمل کے ساتھ گیند کو قابو کیا، وہ کسی بھی مکمل فٹ اور چاق و چوبند کھلاڑی کی پہچان ہوتی ہے، نہ کہ کسی انجری کا شکار کھلاڑی کی۔
اس حیران کن لمحے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی شائقین نے سخت ردعمل دینا شروع کردیا۔ لوگوں نے نہ صرف اس کیچ کو سراہا بلکہ ساتھ ہی سلیکشن کمیٹی اور ٹیم مینجمنٹ کے بیانات پر بھی کڑی تنقید کی اور یہ سوال اٹھایا کہ آخر حقیقت کیا ہے۔
شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ اگر فخر زمان واقعی انجری کا شکار ہوتے تو وہ اس سطح کی فیلڈنگ ہرگز نہ کر پاتے۔ اس واقعے نے واضح طور پر یہ تاثر دیا کہ یا تو معلومات غلط فراہم کی گئیں یا پھر کسی اور مقصد کے تحت فیصلے کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر "عاقب جاوید کو نکالو، پاکستان کرکٹ کو بچاؤ” کے نعرے تیزی سے ٹرینڈ کرنے لگے اور ہزاروں افراد نے اس مہم میں حصہ لیا۔ یہ ردعمل صرف ایک واقعے تک محدود نہیں بلکہ اس کے پیچھے جمع ہونے والی طویل مایوسی اور غصے کا اظہار بھی ہے۔
مداحوں کا ماننا ہے کہ سلیکشن کے عمل میں میرٹ کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے اور اس کی جگہ ذاتی پسند و ناپسند، تعلقات اور سفارش کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ یہی رجحان ٹیم کی مجموعی کارکردگی پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔ ماضی میں پاکستان کرکٹ ٹیم اپنی غیر متوقع فتوحات، جارحانہ انداز اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں جانی جاتی تھی، لیکن اب وہی ٹیم عدم تسلسل اور بے یقینی صورت حال کا شکار نظر آتی ہے۔
خاص طور پر بنگلادیش کے خلاف حالیہ کارکردگی نے شائقین کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان ان کے خلاف باآسانی کامیابیاں حاصل کرتا تھا، لیکن اب صورت حال اس قدر بدل چکی ہے کہ مقابلے بھی مشکل ہوگئے ہیں۔ماہرین کرکٹ کا کہنا ہے کہ اس زوال کی بنیادی وجوہ میں ناقص سلیکشن پالیسی، غیر مستقل قیادت اور انتظامی بدانتظامی شامل ہیں۔ جب بنیادی ڈھانچہ کمزور ہو جائے تو نتائج کا متاثر ہونا فطری امر ہے۔ دوسری جانب پڑوسی ملک بھارت کی ٹیم کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا جارہا ہے، جہاں میرٹ، تسلسل اور پیشہ ورانہ نظام کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں ان کی کارکردگی میں استحکام نظر آتا ہے۔
پاکستان میں اکثر یہ شکایات سامنے آتی ہیں کہ سلیکشن کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے، اور کئی باصلاحیت کھلاڑی صرف اس لیے نظر انداز ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کے پاس مضبوط سفارش نہیں ہوتی۔
شائقین کا مطالبہ ہے کہ سلیکشن کمیٹی کو ازسرنو تشکیل دیا جائے اور ایسے افراد کو ذمے داری دی جائے جو مکمل دیانت داری اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کریں، تاکہ ٹیم میں بہترین ٹیلنٹ سامنے آ سکے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اس تنقید سے محفوظ نہیں رہا، کیونکہ مداحوں کا ماننا ہے کہ بورڈ کی پالیسیوں اور فیصلوں نے ہی موجودہ بحران کو جنم دیا ہے۔
بورڈ کی ذمے داری ہے کہ وہ نہ صرف شفافیت کو یقینی بنائے بلکہ کھلاڑیوں کی فٹنس، فارم اور کارکردگی کا درست اور بروقت جائزہ لے، تاکہ ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔ فخر زمان کے معاملے نے یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ اور سلیکٹرز کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان ہے، جو کسی بھی پیشہ ور ٹیم کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ سابق کرکٹرز اور ماہرین نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو پاکستان کرکٹ مزید زوال کا شکار ہو سکتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو وہ مواقع نہیں مل رہے جو انہیں ملنے چاہئیں جبکہ بعض سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے، جو ٹیم کے ماحول کو متاثر کرتا ہے۔
پاکستان کرکٹ اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہی ہے جہاں ہر فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور معمولی غلطی بھی بڑے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ شائقین کی خواہش ہے کہ ٹیم میں صرف وہی کھلاڑی شامل کیے جائیں جو واقعی اپنی کارکردگی اور فٹنس کی بنیاد پر اس کے مستحق ہوں، تاکہ ٹیم دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کر سکے۔ اگر میرٹ کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا تو نہ صرف ٹیم کی کارکردگی مزید خراب ہوگی بلکہ عوام کا اعتماد بھی مکمل طور پر ختم ہو سکتا ہے، جو کسی بھی قومی ٹیم کے لیے سب سے بڑا نقصان ہے۔
پاکستان کرکٹ کو بچانے کے لیے سخت اور غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے، کیونکہ وقتی دباؤ سے نکل کر طویل المدتی بہتری کی طرف قدم بڑھانا ہی اصل کامیابی کی ضمانت ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔