جنگلات کی آگ کا دھواں فضائی آلودگی سے زیادہ خطرناک قرار

نیویارک: امریکا کے آئیکون اسکول آف میڈیسن کے محققین نے دو بڑے مطالعات میں خبردار کیا ہے کہ جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والا دھواں صحت پر عام فضائی آلودگی کے مقابلے میں زیادہ سنگین اثرات مرتب کرسکتا ہے۔
مِن ژینگ اور سینئر مصنف یاگوانگ وی کی رہنمائی میں ہونے والی تحقیق کے نتائج بالترتیب نیچر کمیونی کیشنز اور دی لانسیٹ اونکالوجی میں شائع ہوئے۔
محققین نے خاص طور پر پی ایم 2.5 ذرات کا جائزہ لیا، جو انتہائی باریک آلودگی کے ذرات ہیں اور دیگر ذرائع سے پھیپھڑوں کی گہرائی تک پہنچنے کے ساتھ خون کے بہاؤ میں بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق جنگلات کی آگ سے پیدا ہونے والے پی ایم 2.5 کا فی یونٹ ایکسپوژر دیگر ذرائع سے آنے والے پی ایم 2.5 کے مقابلے میں قلبی اور تنفسی بیماریوں کے باعث اسپتال میں داخلے کے زیادہ خطرے سے وابستہ تھی۔ ایک الگ مطالعے میں پھیپھڑوں کے سرطان کے مریضوں میں جنگلات کی آگ کے دھویں سے متعلق پی ایم 2.5 کا طویل مدتی ایکسپوژر بقا کی کم شرح سے بھی منسلک پایا گیا۔
محققین کے مطابق ان نتائج سے یہ اہم بات سامنے آتی ہے کہ فضائی آلودگی کے صحت پر اثرات کا تعین صرف آلودگی کی مقدار سے نہیں ہوتا بلکہ آلودگی کا ذریعہ بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
جنگلات کی آگ کا دھواں اب صرف روایتی طور پر آگ سے متاثرہ علاقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ امریکا کے مختلف حصوں میں کروڑوں افراد تک پہنچ رہا ہے، جس کے باعث عوامی صحت کے حوالے سے اس کے اثرات پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔