کوہاٹ حملے کے 20 گھنٹے بعد کلیئرنس آپریشن مکمل، تمام دہشت گرد جہنم واصل

کوہاٹ: گزشتہ روز پولیس لائنز میں نماز جمعہ کے دوران ہونے والے خودکُش حملے کے بعد سرچ اینڈ کلیئرنس اپریشن مکمل کرلیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی اداروں اور پولیس نے 20 گھنٹے بعد آپریشن مکمل کرلیا، سیکیورٹی اداروں نے دھماکے کے بعد پولیس لائنز مسجد میں گھسنے والے تمام دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔
پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں کُل 8 دہشت گرد ہلاک کردیے گئے، ایلیٹ فورس کمانڈوز، سی ٹی ڈی ٹیمز اور سیکیورٹی فورسز نے عمارات کے اہم حصوں کو کلیئر کروالیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق آپریشن کی براہ راست نگرانی جنرل آفیسر کمانڈنگ کوہاٹ نے کی جب کہ پاک فوج کے کمانڈوز، جوانوں اوربم ڈسپوزل اسکواڈ نے علاقے کو کلیئر کرکے پولیس کے حوالے کردیا۔
آئی جی خیبر پختونخوا نے کہا کہ خودکُش بمبار نے قانون کے رکھوالوں کو نشانہ بنانے کو کوشش کی تاہم ناکام رہا۔
آئی جی ذوالفقار حمید خود جائے وقوعہ پر موجود رہے، جوانوں کا حوصلہ بڑھایا، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی، ریجنل پولیس آفیسر کوہاٹ اور ڈی پی او کوہاٹ نے آپریشن کو لیڈ کیا، جی او سی کوہاٹ بھی موجود رہے جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات بھر کے آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی۔
آئی جی ذوالفقار حمید نے آپریشن میں حصہ لینے والے افسران کو شاباش دی اور انعامات کا اعلان کیا، انہوں نے کہا کہ پولیس، سی ٹی ڈی اور سیکیورٹی فورسز نے بہادری سے مقابلہ کیا، جانباز جوان قوم کا فخر ہیں، دہشت گردوں کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے ہیں، مکمل خاتمہ یقینی بنائیں گے۔
دوسری جانب کوہاٹ کے اولڈ پولیس لائنز دھماکے کے مقام سے 1 اور پولیس اہلکار کی لاش ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردی گئی، جس کے بعد شہداء کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کوہاٹ اسپتال ڈاکٹر طاہر شاہ کا کہنا ہے کہ شہداء میں لیاقت میموریل اسپتال کے چیف ڈسٹرکٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر اسرائیل خان اورکزئی بھی شامل ہیں۔
جنرل آفیسر کمانڈنگ کوہاٹ نے پولیس لائن مسجد بم دھماکے کے جاری آپریشن کی قیادت کی۔ جی او سی کوہاٹ نے کلیئرنس آپریشن میں شامل پولیس اور سیکیورٹی فورسز کے اہل کاروں سے ملاقات کی اور ان کے حوصلے اور عزم کو سراہا۔ آئی جی خیبر پختونخوا پولیس ذوالفقار حمید بھی جنرل آفیسر کمانڈنگ کے ساتھ موجود رہے۔
جی او سی کوہاٹ نے کہا کہ خوارج کے خلاف جنگ میں پاک فوج اور پولیس کے جوان صفِ اول میں کھڑے ہیں، ملک و قوم کے تحفظ کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، پاک فوج اور پولیس خوارج کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے ہر وقت تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جائے وقوع پر جاری سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں 20 ایمبولینسز، ریسکیو وہیکلز، ریکوری وہیکل سمیت 60 سے زائد ریسکیو اہلکاروں نے حصہ لیا۔
واضح رہے کہ کوہاٹ پولیس لائنز مسجد دھماکے اور حملے میں 100 سے زائد افراد زخمی ہیں جب کہ شہداء میں 16 پولیس اہلکار اور 6 شہری شامل ہیں۔
شہدا میں ایس پی ٹریفک اکبر شنواری اور 2 پولیس اہلکار بھائی نعمت اللّٰہ اور محرر عصمت اللّٰہ بھی شامل ہیں جن کا تعلق لکی مروت سے تھا۔
ایس پی ٹریفک کوہاٹ اکبر خان شنواری سمیت حملے میں جام شہادت نوش کرنے والے شہداء کی نماز جنازہ ادا کردی گئی۔
نماز جنازہ میں وزیر اطلاعات کے پی شفیع اللہ جان، وزیر قانون کے پی آفتاب عالم، آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید، جنرل آفیسر کمانڈنگ، کمشنر کوہاٹ سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات، شہداء کے لواحقین اور عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
کوہاٹ پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہداء کو سلامی دی اور اعلیٰ حکام نے پھولوں کی چادر چڑھائی۔ شہداء کے جسد خاکی آبائی علاقوں کی طرف روانہ کردیے گئے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔