ایمان کی جیت

عبدالعزیز بلوچ
شہر کے پرانے حصے میں ایک تنگ سی گلی تھی، جہاں دکانوں کے باہر لٹکتے بلب شام ہوتے ہی زرد روشنی بکھیرنے لگتے تھے۔ اسی گلی کے آخری سرے پر لکڑی کے ایک بوسیدہ تختے پر لکھا تھا: "زُہیر واچ ہاؤس، وقت کی مرمت یہاں ہوتی ہے۔”
دکان کا مالک زُہیر خاموش طبیعت کا آدمی تھا۔ عمر قریباً ساٹھ برس، سفید داڑھی، جھکی ہوئی کمر اور آنکھوں پر موٹا چشمہ۔ وہ گھڑیوں کی مرمت کرتا تھا اور اس کا ایک اصول تھا: "گھڑی خراب ہو تو اسے کھولنے سے پہلے مالک کا دل سمجھو، کیونکہ بعض گھڑیاں وقت نہیں، یادیں سنبھال رہی ہوتی ہیں۔”
ایک سرد صبح ایک نوجوان دکان میں داخل ہوا۔ اس کا نام ارحم تھا۔ اس نے جیب سے ایک پرانی سنہری گھڑی نکالی۔ "چچا، یہ میرے والد کی ہے۔ کل سے رک گئی ہے۔” زُہیر نے گھڑی ہاتھ میں لی، پیچھے کا ڈھکن کھولا اور غور سے مشین دیکھنے لگا۔ "دو دن لگیں گے۔” ارحم نے کہا، "جتنے پیسے ہوں، لے لیجیے گا۔ بس اسے ٹھیک کردیں۔” وہ چلا گیا۔
زُہیر نے گھڑی صاف کی تو اچانک اندر سے ایک انتہائی باریک کاغذ نکلا۔ کاغذ پر چند اعداد اور ایک نام لکھا تھا۔ "امین صراف، 7 لاکھ روپے”۔
زُہیر چونک گیا۔ سات لاکھ روپے! وہ زمانہ جب اس کی دکان بمشکل گھر کا خرچ چلاتی تھی، سات لاکھ اس کے لیے ایک خواب سے کم نہ تھے۔ اس نے کاغذ دوبارہ گھڑی میں رکھ دیا۔ لیکن رات کو وہ سو نہ سکا۔ دل کہتا تھا: "یہ رقم اب کسی کے پاس نہیں۔ کاغذ پرانے زمانے کا ہے۔ شاید کوئی وارث بھی نہ ہو۔” مگر ضمیر جواب دیتا: "جو چیز تمہاری نہیں، وہ تمہاری کیسے ہوگئی؟”
فجر کی اذان ہوئی تو زُہیر اٹھا، وضو کیا اور مسجد چلا گیا۔ نماز کے بعد امام صاحب نے مختصر بیان کیا: "امانت صرف وہ نہیں جو کوئی آپ کے ہاتھ میں دے۔ امانت وہ بھی ہے جو اللہ آپ کے راستے میں آزمائش بنا کر رکھ دے۔”
زُہیر کے قدم جیسے زمین میں جم گئے۔ وہ دکان پر واپس آیا، گھڑی اٹھائی اور ارحم کا انتظار کرنے لگا۔ دوپہر کو ارحم آیا۔ زُہیر نے گھڑی اس کے ہاتھ میں دیتے ہوئے پوچھا: "بیٹا، تمہارے والد کیا کرتے تھے؟”
ارحم نے جواب دیا: "وہ کپڑے کے تاجر تھے۔ انتقال سے پہلے اکثر ایک شخص کا ذکر کرتے تھے، امین صراف کا۔ کہتے تھے کہ ایک دن ان کا سات لاکھ روپے کا حساب صاف کرنا ہے، مگر موقع نہیں ملا۔”
زُہیر کے ہاتھ کانپ گئے۔ "تمہیں معلوم ہے امین صراف کہاں رہتے ہیں؟” ارحم نے حیرت سے دیکھا۔ "نہیں۔ کیوں؟”
زُہیر نے گھڑی دوبارہ کھولی اور وہ کاغذ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ ارحم کی آنکھیں پھیل گئیں۔
"یہ کہاں سے ملا؟” "اسی گھڑی کے اندر۔” دونوں نے فیصلہ کیا کہ امین صراف کو تلاش کیا جائے۔
تین دن تک وہ شہر کے پرانے ریکارڈ، دکان داروں اور بزرگوں سے پوچھتے رہے۔ آخرکار ایک بوڑھے شخص نے بتایا: "امین صراف؟ وہ تو شہر چھوڑ کر بیس سال پہلے پہاڑی علاقے میں چلے گئے تھے۔” کافی تلاش کے بعد ان کا پتا مل گیا۔
ارحم اور زُہیر وہاں پہنچے تو ایک چھوٹے سے مکان کے باہر سفید بالوں والا بوڑھا آدمی چارپائی پر بیٹھا تھا۔ ارحم نے اپنا تعارف کرایا۔ امین صراف نے نام سنتے ہی آنکھیں بند کرلیں۔
"تمہارے والد کو میں کیسے بھول سکتا ہوں؟ وہ میرے سات لاکھ روپے کے مقروض تھے۔ لیکن میں نے برسوں پہلے وہ رقم معاف کردی تھی۔”
ارحم نے فوراً کہا: "لیکن میرے والد نے کہا تھا کہ وہ قرض ادا کیے بغیر سکون سے نہیں مریں گے۔”
زُہیر نے کاغذ آگے بڑھایا۔ امین صراف نے کاغذ دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
"یہ میرے ہاتھ کی تحریر ہے۔ یہ حساب اس وقت لکھا تھا جب تمہارے والد نے پہلی بار قرض لیا تھا۔”
ارحم خاموش کھڑا رہا۔ پھر زُہیر نے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالا۔ "یہ کیا ہے؟” ارحم نے پوچھا۔
زُہیر نے کہا: "تمہارے والد کا قرض تو میں ادا نہیں کرسکتا، مگر میں نے اپنی دکان بیچ کر سات لاکھ جمع کیے ہیں۔”
ارحم نے حیرت سے اسے دیکھا۔ "چچا! آپ نے اپنی دکان کیوں بیچ دی؟”
زُہیر مسکرایا۔ "بیٹا، دکان دوبارہ بن سکتی ہے۔۔۔ مگر اگر امانت مر جائے تو انسان اندر سے ہمیشہ کے لیے ویران ہوجاتا ہے۔”
امین صراف نے لفافہ لینے سے انکار کردیا۔ "مجھے یہ رقم نہیں چاہیے۔”
زُہیر نے کہا: "پھر اسے اپنے نام پر صدقہ کردیں۔ مگر یہ رقم اس شخص کے گھر واپس پہنچنی چاہیے جس کے ذمے یہ قرض تھا۔”
امین صراف کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے رقم قبول کی اور کہا: "میں اسے اپنے لیے نہیں رکھوں گا۔ اس شہر میں ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے۔ یہ رقم وہاں غریب بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوگی۔”
واپسی پر ارحم نے زُہیر سے پوچھا: "چچا، آپ کو دکان بیچنے کا افسوس نہیں؟”
زُہیر نے آسمان کی طرف دیکھا۔ "نہیں۔ میں نے دکان نہیں بیچی۔۔۔ میں نے اپنے رب کے ہاں ایک گھر خریدنے کی کوشش کی ہے۔”
کچھ دن بعد زُہیر نے اسی گلی میں ایک چھوٹی سی نئی دکان کرائے پر لے لی۔ دروازے پر اس نے نیا بورڈ لگایا: "زُہیر واچ ہاؤس۔۔۔ گھڑیاں یہاں ٹھیک ہوتی ہیں، مگر اصل کام دل کا ہے۔”
اور سنہری گھڑی؟ وہ اب بھی چل رہی تھی۔ لیکن اس دن کے بعد زُہیر ہر گھڑی کی مرمت کرتے ہوئے ایک بات ضرور یاد کرتا: وقت رک سکتا ہے، دولت ختم ہوسکتی ہے، دکان چھن سکتی ہے۔۔۔ مگر امانت کا حساب اللہ کے ہاں کبھی نہیں رکتا۔