نئے انتظامی یونٹس، بہتر پاکستان

اسد احمد

پاکستان آج ایک ایسے انتظامی موڑ پر کھڑا ہے جہاں پرانے سوالات کے ساتھ ایک نیا سوال بھی پوری شدت سے سامنے آرہا ہے: اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہورہا ہے تو کیا بہتری کے لیے نئے راستے تلاش نہیں کیے جانے چاہئیں؟ نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ اسی سوال کا جواب ہے۔ اسے ملک توڑنے، صوبوں کو تقسیم کرنے یا کسی سیاسی جماعت کے خلاف سازش قرار دینا مسئلے کا حل نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ عوام کو بہتر حکمرانی کیسے دی جائے، ان کے مسائل ان کی دہلیز پر کیسے حل کیے جائیں اور ریاستی وسائل ان علاقوں تک کیسے پہنچیں جہاں آج بھی بنیادی سہولتیں خواب بنی ہوئی ہیں۔
پاکستان کے کئی علاقوں میں آج بھی صاف پانی، معیاری تعلیم، بنیادی صحت، بہتر سڑکوں، نکاسی آب، روزگار اور مؤثر سرکاری اداروں کی شدید کمی ہے۔ شہری آبادی بڑھ رہی ہے، دور دراز علاقے پھیل رہے ہیں، مگر انتظامی ڈھانچے کی رفتار وہی ہے جو کئی دہائیاں پہلے تھی۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کو معمولی کام کے لیے بھی ضلعی یا صوبائی مراکز کے چکر لگانے پڑتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
ایک چھوٹا اور مؤثر انتظامی یونٹ اپنے عوام کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ افسران، ادارے اور فیصلہ سازی عوام کی پہنچ میں آتی ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی آسان ہوتی ہے، مقامی مسائل کی نشان دہی جلد ہوسکتی ہے اور وسائل کے استعمال پر عوامی نگرانی بھی بہتر بنائی جاسکتی ہے۔ اگر ایک بڑا انتظامی یونٹ اپنے دور دراز علاقوں تک بنیادی سہولتیں پہنچانے میں مشکلات کا شکار ہے تو اسے محض روایت کی بنیاد پر برقرار رکھنا دانش مندی نہیں۔ دنیا بھر میں انتظامی نظام وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ جہاں آبادی بڑھی، مسائل میں اضافہ ہوا اور انتظامی فاصلے نے حکمرانی کو کمزور کیا، وہاں نئے انتظامی ڈھانچے تشکیل دیے گئے۔ تو پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا؟
نئے انتظامی یونٹس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک کے حصے کیے جارہے ہیں۔ ملک کی سرحدیں وہی رہتی ہیں، آئین وہی رہتا ہے، وفاق اپنی جگہ موجود رہتا ہے اور قومی وحدت بھی برقرار رہتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ انتظامی اختیار عوام کے زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ یہی فرق اصل تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔
آج ایک عام شہری کے لیے یہ زیادہ اہم ہے کہ اس کے بچے کو اسکول میں استاد مل رہا ہے یا نہیں، اسپتال میں ڈاکٹر موجود ہے یا نہیں، گھر میں صاف پانی آتا ہے یا نہیں، سڑک قابل استعمال ہے یا نہیں، سرکاری دفتر میں اس کا کام رشوت کے بغیر ہوسکتا ہے یا نہیں۔ عوام کے لیے انتظامی نقشے سے زیادہ اہم ان کی زندگی میں آنے والی بہتری ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس ان مسائل کے حل میں مدد دے سکتے ہیں تو پھر اس تجویز پر سنجیدہ بحث سے گریز کیوں؟
یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نئے انتظامی یونٹس کسی علاقے کے وسائل چھیننے کا منصوبہ نہیں ہونے چاہئیں بلکہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کا ذریعہ بننے چاہئیں۔ اختیارات اور وسائل نچلی سطح تک پہنچیں، مقامی نمائندگی مضبوط ہو، ادارے جواب دہ ہوں اور ترقیاتی منصوبے سیاسی ترجیحات کے بجائے عوامی ضرورت کی بنیاد پر بنیں تو پورا ملک فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم انتظامی اصلاحات کو اکثر سیاسی عینک سے دیکھتے ہیں۔ جس تجویز سے کسی جماعت کو فائدہ یا نقصان نظر آئے، بحث وہیں رک جاتی ہے۔ لیکن عوام کی ضرورت سیاسی مفادات سے بڑی ہے۔ اگر ایک انتظامی تبدیلی سے لاکھوں لوگوں کو بہتر تعلیم، صحت، پانی، روزگار اور انصاف تک آسان رسائی مل سکتی ہے تو اسے صرف اس خوف سے مسترد نہیں کیا جانا چاہیے کہ کسی سیاسی قوت کی طاقت کم ہوجائے گی۔ پاکستان کو تقسیم نہیں، بہتر انتظام کی ضرورت ہے۔
نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ بھی اسی بہتر انتظام کی خواہش ہے۔ یہ ملک توڑنے کی آواز نہیں بلکہ نظام کو عوام کے قریب لانے کی آواز ہے۔ یہ کسی صوبے کے خلاف نہیں بلکہ محرومی کے خلاف مطالبہ ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس بحث کو نعروں، الزامات اور سیاسی خوف سے نکال کر کارکردگی، سہولت اور عوامی مفاد کے پیمانے پر پرکھا جائے۔ اگر موجودہ نظام عوام کو وہ کچھ نہیں دے پارہا جس کے وہ حق دار ہیں، تو بہتری کی طرف ایک نیا قدم اٹھانے میں آخر قباحت کیا ہے؟ ملک انتظامی اصلاحات سے نہیں ٹوٹتے، ملک اُس وقت کمزور ہوتے ہیں جب عوام کو مسلسل محرومی کے حوالے کردیا جائے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔