اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے کیلئے نئے ٹیکس کی تجویز
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے کی صورت میں مقامی سطح پر نیا ٹیکس لگانے کی تجاویز کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کے تحت پانچویں جائزے کے مذاکرات رواں ماہ شروع ہوں گے۔ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ رواں ماہ مذاکرات کے دوران ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلیٹی پروگرام کے تحت پانچویں جائزے پر مذاکرات ہوں گے، جس میں اس حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی حدود میں بنیادی سہولتوں اور انتظامی ڈھانچے کو چلانے کے لیے ریونیو اکٹھا کیا جائے گا، جو اسلام آباد کی حدود میں ہی خرچ ہوسکے گا۔ ابتدائی طور پر جو تجاویز تیار کی گئی ہیں، ان میں اسلام آباد کے اسپتالوں، اسکولز، کالجز اور دیگر تعلیمی اداروں، فلاحی کاموں اور انتظامی ڈھانچے پر خرچ کرنے کے لیے ٹیکس اکٹھا کیا جائے گا۔
ٹیکس کلیکشن کی تجاویز آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران آئی ایم ایف وفد کے ساتھ ڈسکس کی جائیں گی اور یہ ٹیکس آئندہ مالی سال کے بجٹ میں متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکس کلیکشن کے لیے ابھی حتمی تخمینہ لگانا باقی ہے۔ اسلام آباد کے لیے بنیادی ڈھانچے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مالیاتی گنجائش پیدا کرنے کے لیے نیا ٹیکس لگایا جائے گا۔
اس سلسلے میں ابتدائی طور پر ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس تجاویز تیار کی جائیں گی، جس کے بعد اسلام آباد کو خودمختار یونٹ بنانے کی خاطر بنیادی ڈھانچے کے لیے قائم ٹیکس سے متعلق ذیلی کمیٹی کو تجاویز پیش کی جائیں گی۔
متعلقہ ذیلی کمیٹی سے منظوری کے بعد یہ تجاویز وزیر منصوبہ بندی کی زیر صدارت قائم کمیٹی کو پیش کی جائیں گی، جہاں سے منظوری کے بعد وزیراعظم شہباز شریف کو بھی پیش کی جائیں گی اور پھر آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف سے اقتصادی جائزے کے مذاکرات کے لیے وزارت خزانہ نے تمام متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو مذاکرات کی تیاری کے لیے ضروری ڈیٹا اور رپورٹ مرتب کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ وزارتیں آئی ایم ایف وفد کو اسٹرکچرل بینچ مارکس اور معاشی اصلاحات کے اہداف پر بریفنگ دیں گی۔ مذاکرات میں توانائی شعبے کی اصلاحات بھی اہم ایجنڈے کا حصہ ہوں گی جب کہ بجلی اور گیس کے شعبوں میں سرکلر ڈیٹ سے متعلق اہداف پر بھی بات چیت کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان کامیاب مذاکرات کی صورت میں موجودہ قرض پروگرام کی پانچویں قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔ پانچویں قسط کی مد میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر ملنے کا امکان ہے جب کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے مزید 20 کروڑ ڈالر فراہم کیے جائیں گے۔
اس طرح آئی ایم ایف سے کامیاب جائزے کی صورت میں پاکستان کو مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر ملنے کی توقع ہے۔
ذرائع کے مطابق مقامی ٹیکسز کے استعمال اور وسائل کی تقسیم کے لیے نئے نظام کی تشکیل مجوزہ روڈمیپ کا حصہ ہے۔ انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے ساتھ مالیاتی معاملات کو مربوط بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے، جس کے لیے ٹیکس نظام موٴثر بنانے میں عالمی مالیاتی ادارے کی تجاویز کو بھی شامل کیا جائے گا۔