آمدِ رسول ﷺ، رحمت کا پیغام

محمد راحیل وارثی
دنیا کی تاریخ میں بہت سے دن آئے، بہت سے واقعات رونما ہوئے، سلطنتیں قائم ہوئیں اور مٹ گئیں، بڑے بڑے فاتحین نے زمین کے وسیع حصوں پر حکومت کی، مگر بعض ایام ایسے ہوتے ہیں جو صرف کیلنڈر کا حصہ نہیں بنتے بلکہ انسانی تاریخ کے دل میں ہمیشہ کے لیے زندہ ہوجاتے ہیں۔ 12 ربیع الاول بھی ایسا ہی مبارک دن ہے، جو آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادت باسعادت کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن محض خوشی منانے کا موقع نہیں بلکہ اپنے دل، کردار اور زندگی کو اس عظیم ہستی کی تعلیمات کے سامنے رکھنے کا دن بھی ہے، جنہوں نے انسان کو انسان کی قدر سکھائی۔
رسول اکرم ﷺ کی آمد سے پہلے دنیا میں طاقت کو حق اور کمزور کو بے حیثیت سمجھنے کا رواج عام تھا۔ معاشرہ طبقاتی تقسیم، تعصب، ظلم، جہالت اور انتقام کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ بیٹی کی پیدائش باعثِ ندامت سمجھی جاتی، کمزور کا کوئی پرسان حال نہ تھا اور طاقتور کے لیے قانون الگ تھا۔ ایسے ماحول میں رحمتِ عالم ﷺ تشریف لائے تو گویا انسانیت کے اندھیروں میں ایک ایسا چراغ روشن ہوا جس کی روشنی نے صرف عرب نہیں بلکہ پوری دنیا کو متاثر کیا۔ آپ ﷺ نے انسان کی عظمت اس کے مال، خاندان، رنگ یا منصب میں نہیں بلکہ اس کے کردار اور تقویٰ میں قرار دیا۔ یہ تعلیم آج بھی اتنی ہی تازہ ہے جتنی چودہ سو برس پہلے تھی۔ دنیا آج جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ترقی کے بلند دعووں کے باوجود نفرت، جنگ، تعصب، بھوک اور عدم مساوات جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے وقت میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی ترقی صرف بلند عمارتوں اور جدید مشینوں کا نام نہیں، بلکہ ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں انسان محفوظ، باعزت اور مطمئن زندگی گزار سکے۔
جشنِ ولادت رسول ﷺ کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ ہم خوشی کے ساتھ ساتھ اپنے طرزِ زندگی کا جائزہ بھی لیں۔ اگر ہم گھروں کو چراغاں کریں، گلیوں کو سجائیں، محافل منعقد کریں، نعتیں پڑھیں اور درود و سلام کی صداؤں سے ماحول کو معطر کردیں، لیکن اپنے معاملات میں جھوٹ، بددیانتی، ظلم، غیبت، دھوکا اور حق تلفی کو جگہ دیں تو ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم نے جشن کے ظاہری پہلو کو تو اپنا لیا، مگر اس کی روح کو کہاں تک سمجھا؟ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ مبارکہ ہمیں بتاتی ہے کہ عبادت کے ساتھ معاملات بھی اہم ہیں۔ آپ ﷺ نے پڑوسی کے حقوق پر زور دیا، یتیموں اور مسکینوں کی خبرگیری کی، غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دی، عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی، تجارت میں دیانت کو معیار بنایا اور دشمنوں کے ساتھ بھی اخلاق کا دامن نہیں چھوڑا۔ یہی وہ کردار ہے جو میلاد کے پیغام کو ہماری روزمرہ زندگی سے جوڑتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے کو سب سے زیادہ ضرورت اسی اخلاقی انقلاب کی ہے۔ ہمارے گھروں میں محبت ہو مگر ایک دوسرے کے حقوق کا بھی خیال ہو۔ بازاروں میں کاروبار ہو مگر دھوکا نہ ہو۔ سیاست ہو مگر دشمنی نہ ہو۔ اختلاف ہو مگر تہذیب باقی رہے۔ سوشل میڈیا پر اظہارِ رائے ہو مگر کسی کی عزت پامال نہ کی جائے۔ زبان پر درود ہو تو ہاتھ کسی پر ظلم کے لیے نہ اٹھے۔ یہی سیرتِ طیبہ ﷺ کا وہ عملی پیغام ہے جو ہمارے موجودہ معاشرتی مسائل کا جواب بن سکتا ہے۔ میلاد کا ایک پہلو محبت ہے اور محبت کا تقاضا اتباع ہے۔ جس ہستی سے محبت کی جائے، اس کی پسند اور ناپسند کو بھی سمجھا جاتا ہے۔ اگر ہم رسول اکرم ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمارے کردار میں رحم، سچائی، برداشت، عفو، سخاوت اور عدل کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ محبتِ رسول ﷺ صرف الفاظ میں نہیں، رویوں میں بھی دکھائی دینی چاہیے۔
12 ربیع الاول کا دن ہمیں ایک اور اہم سبق بھی دیتا ہے کہ امید کبھی ختم نہیں ہوتی۔ رسول اکرم ﷺ نے ایک ایسے معاشرے میں اصلاح کا آغاز کیا جہاں بظاہر تبدیلی ناممکن دکھائی دیتی تھی مگر کردار، صبر، حکمت اور مسلسل جدوجہد نے ایک منتشر معاشرے کو ایک ایسی امت میں بدل دیا، جس نے دنیا کی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج اگر ہمارے معاشرے میں مایوسی، انتشار اور بے اعتمادی ہے تو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں یقین دلاتی ہے کہ مثبت تبدیلی ہمیشہ ممکن ہے۔
ہمیں اس مبارک موقع پر یہ عہد کرنا چاہیے کہ جشنِ ولادت کو صرف ایک دن کی سرگرمی نہیں بنائیں گے، بلکہ اسے اپنی زندگی کی اصلاح کا نقطۂ آغاز بنائیں گے۔ اپنے گھروں میں بچوں کو صرف نعتیں یاد کرانے کے بجائے سیرتِ رسول ﷺ کے واقعات اور اخلاقی تعلیمات بھی بتائیں گے۔ انہیں سکھائیں گے کہ بڑوں کا احترام، چھوٹوں سے شفقت، پڑوسی کا خیال، سچ بولنا اور وعدہ پورا کرنا بھی عشقِ رسول ﷺ کا حصہ ہے۔ 12 ربیع الاول دراصل ہمیں یہ سوال دیتا ہے کہ ہمارے دل میں رسول اکرم ﷺ کی محبت کتنی ہے اور ہماری زندگی میں آپ ﷺ کی تعلیمات کتنی ہیں؟ اگر اس سوال کا جواب ہمارا کردار دے سکے تو یہی سب سے خوبصورت جشن ہوگا۔ آئیے اس بار میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی خوشی کو صرف چراغاں تک محدود نہ رکھیں، اپنے دلوں میں بھی چراغ روشن کریں۔ نفرت کے مقابل محبت، جھوٹ کے مقابل سچ، ظلم کے مقابل انصاف اور مایوسی کے مقابل امید کو اختیار کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر جشنِ ولادت ایک تقریب سے بڑھ کر ایک زندہ پیغام بن سکتا ہے۔
حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت انسانیت کے لیے رحمت کا وہ آغاز ہے جس کی روشنی آج بھی دلوں کو راستہ دکھا رہی ہے۔ ضرورت صرف اتنی ہے کہ ہم اس روشنی کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی بھی اسی نور سے منور کرنے کا فیصلہ کریں۔