آزادی کا اصل قرض

وقاص بیگ


یوم آزادی میں دو روز باقی تھے۔ شہر کی گلیوں میں سبز ہلالی پرچم ہوا کے جھونکوں کے ساتھ لہرا رہے تھے۔ کہیں بچوں کے ہاتھوں میں جھنڈیاں تھیں، کہیں گھروں کی چھتوں پر چراغاں کیا جارہا تھا اور کہیں دکانوں کے باہر سبز و سفید قمقمے جگمگا رہے تھے۔ مگر شہر کے ایک پرانے محلے کی تنگ گلی میں ایک چھوٹا سا گھر ایسا بھی تھا، جہاں جشن کی کوئی تیاری نہیں تھی۔
اس گھر میں 70 سالہ حاجی عبدالکریم اپنی چارپائی پر بیٹھے قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے۔ ان کا پوتا حارث بار بار دروازے سے باہر جھانک رہا تھا۔ آخرکار اس نے بے چینی سے پوچھا: "دادا جان! آج 14 اگست ہے، سب لوگ جشن منارہے ہیں۔ ہمارے گھر میں جھنڈا کیوں نہیں لگا؟” حاجی عبدالکریم نے قرآن پاک بند کیا، حارث کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے: "بیٹا! جھنڈا ضرور لگائیں گے، لیکن پہلے مجھے یہ بتاؤ کہ آزادی کا مطلب کیا ہے؟”
حارث نے فوراً جواب دیا: "آزادی کا مطلب ہے کہ ہم آزاد ملک میں رہتے ہیں، اپنی مرضی سے زندگی گزارتے ہیں، پاکستان زندہ باد کہتے ہیں اور 14 اگست مناتے ہیں۔”
دادا جان نے سرہلایا۔ "یہ آزادی کا ایک حصہ ہے، مگر مکمل حقیقت نہیں۔” حارث حیران ہوا۔ "پھر اصل آزادی کیا ہے؟”
حاجی عبدالکریم نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا: "اصل آزادی یہ ہے کہ انسان اپنے نفس، لالچ، جھوٹ، ناانصافی اور خودغرضی کا غلام نہ رہے۔” حارث کچھ سمجھا اور کچھ نہیں سمجھا۔ اسی دوران باہر سے موٹر سائیکل کے ہارن کی آواز آئی۔ محلے کا دکان دار رشید جلدی جلدی اپنی دکان کھولنے جارہا تھا۔ حارث نے دیکھا کہ راستے میں ایک بوڑھا آدمی زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے ہاتھ سے سبزیوں کا تھیلا گر گیا تھا اور سبزیاں سڑک پر بکھری ہوئی تھیں۔ حارث باہر نکلا اور سبزیاں اٹھانے لگا۔ رشید نے موٹر سائیکل روکی اور کہا: "بیٹا، دیر ہورہی ہے، تم کیوں وقت ضائع کر رہے ہو؟”
حارث نے جواب دیا: "ان بابا کی سبزیاں بکھر گئی ہیں، پہلے انہیں اٹھا دیتا ہوں۔” رشید نے ہنس کر کہا: "14 اگست ہے، آج تو جشن مناؤ!” حارث نے دادا جان کی بات یاد کی اور خاموشی سے مسکرا دیا۔
بوڑھے شخص نے دعائیں دیتے ہوئے کہا: "اللہ تمہیں خوش رکھے بیٹا۔” حارث گھر واپس آیا تو دادا جان دروازے پر کھڑے تھے۔ انہوں نے پوچھا:
"کیا تم نے آج پاکستان کے لیے کچھ کیا؟” حارث نے حیرت سے کہا: "میں نے تو صرف ایک بزرگ کی سبزیاں اٹھائی ہیں۔”
دادا جان بولے: "شاید تمہیں معلوم نہیں، مگر تم نے آج پاکستان کو ایک چھوٹا سا تحفہ دیا ہے۔”
"وہ کیسے؟”
"کیونکہ پاکستان صرف زمین کا ایک ٹکڑا نہیں۔ پاکستان کروڑوں لوگوں کا مجموعہ ہے۔ جب ایک پاکستانی دوسرے پاکستانی کے کام آتا ہے تو پاکستان مضبوط ہوتا ہے۔” حارث کے چہرے پر سوچ کے آثار نمایاں ہوگئے۔
دادا جان نے قرآن پاک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "اللہ تعالیٰ نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے۔ بیٹا، اگر ہم واقعی اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس محبت کو اپنے کردار میں دکھانا ہوگا۔”
حارث نے پوچھا: "دادا جان! کیا صرف جھنڈا لگانا کافی نہیں؟” دادا جان نے کہا: "جھنڈا ہماری محبت کی علامت ہے، لیکن ہمارا کردار اس محبت کا ثبوت ہے۔” اسی شام محلے میں جشنِ آزادی کی تقریب تھی۔ بچے ملی نغمے گا رہے تھے۔ نوجوان موٹر سائیکلوں پر پاکستانی پرچم لہرا رہے تھے۔ ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ حارث بھی دادا جان کے ساتھ تقریب میں پہنچا۔ تقریب کے اختتام پر محلے کے بزرگ نے مائیک پر اعلان کیا: "آج ہم سب عہد کریں کہ پاکستان کو صاف رکھیں گے، جھوٹ نہیں بولیں گے، کسی کا حق نہیں ماریں گے، بزرگوں کا احترام کریں گے، بچوں سے شفقت کریں گے اور اپنے کام کو ایمان داری سے انجام دیں گے۔”
حارث نے دادا جان کی طرف دیکھا۔ دادا جان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ حارث نے پوچھا: "دادا جان! آپ رو کیوں رہے ہیں؟”
انہوں نے آہستہ سے کہا: "بیٹا، میں نے پاکستان بنتے نہیں دیکھا، لیکن میں نے ان لوگوں کی کہانیاں ضرور سنی ہیں جنہوں نے اس ملک کے لیے بہت کچھ قربان کیا۔ کچھ نے گھر چھوڑے، کچھ نے مال چھوڑا، کچھ اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے اور کچھ نے اپنی جانیں قربان کر دیں۔” وہ چند لمحے خاموش رہے۔
پھر بولے: "ہمیں آزادی ورثے میں ملی ہے، مگر اسے محفوظ رکھنا ہماری ذمے داری ہے۔” حارث نے پوچھا: "ہم اسے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں؟”
دادا جان نے کہا: "اپنے حصے کی ذمے داری پوری کرکے۔”
"اگر میں طالب علم ہوں؟”
"تو ایمانداری سے پڑھو۔”
"اگر میں بڑا ہو کر دکان دار بنوں؟”
"تو ناپ تول میں خیانت نہ کرنا۔”
"اگر سرکاری ملازم بنوں؟”
"تو عوام کے کام کو اپنا فرض سمجھنا۔”
"اگر ڈاکٹر بنوں؟”
"تو غریب مریض کو انسان سمجھنا، صرف فیس کا ذریعہ نہیں۔”
"اگر صحافی بنوں؟”
"تو سچ کو امانت سمجھنا۔”
حارث مسکرایا۔ "اور اگر میں صرف ایک عام آدمی رہوں؟”
دادا جان نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا: "تو ایک اچھا انسان بن جانا۔ اس سے بڑی خدمت شاید ہی کوئی ہو۔”
رات گہری ہوچکی تھی۔ گھر واپس آکر حارث نے دادا جان سے کہا: "اب جھنڈا لگائیں گے؟” دادا جان مسکرائے۔ دونوں گھر کی چھت پر گئے۔ حارث نے سبز ہلالی پرچم بلند کیا۔ پرچم ہوا میں لہرانے لگا۔
حارث نے پرچم کو دیکھا تو اسے پہلی مرتبہ محسوس ہوا کہ یہ صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں۔ اس کے پیچھے ایک تاریخ ہے، قربانیاں ہیں، دعائیں ہیں، امیدیں ہیں اور آنے والی نسلوں کی ذمے داریاں ہیں۔ اس نے ہاتھ اٹھایا اور کہا: "یا اللہ! میرے وطن کو امن عطا فرما، اسے ترقی دے اور مجھے ایسا انسان بنا کہ میں اپنے پاکستان کے لیے بوجھ نہیں بلکہ فائدہ بن سکوں۔” دادا جان نے آمین کہا۔
پھر انہوں نے کہا: "بیٹا! آج تم نے آزادی کا مطلب سمجھ لیا۔”
حارث نے مسکرا کر پوچھا: "کیا مطلب؟”
دادا جان نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: "آزادی صرف یہ نہیں کہ ہم آزاد ملک میں پیدا ہوئے۔ اصل آزادی یہ ہے کہ ہم اپنے کردار کو اتنا بلند کریں کہ ہماری وجہ سے ہمارا وطن بھی بلند ہو۔”
اگلی صبح حارث نے محلے کے بچوں کو جمع کیا۔ اس نے سب سے کہا: "اس سال ہم صرف جھنڈیاں نہیں لگائیں گے، ہم اپنے محلے کو بھی صاف کریں گے۔” بچے حیران ہوئے، مگر حارث نے جھاڑو اٹھالیا۔ ایک ایک کرکے سب بچے اس کے ساتھ شامل ہوگئے۔ کچھ ہی دیر میں گلی صاف ہوگئی۔ ایک بزرگ نے دور سے یہ منظر دیکھا اور مسکرا کر کہا: "یہ ہے آزادی کا جشن!”
حارث نے آسمان کی طرف دیکھا۔ سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔ اسے لگا جیسے پرچم اسے خاموشی سے ایک پیغام دے رہا ہو: "مجھے صرف ہاتھ میں نہ اٹھاؤ، اپنے کردار میں بھی اٹھاؤ۔” اور اس دن حارث نے سمجھ لیا کہ پاکستان سے محبت صرف نعرہ نہیں، ایک ذمے داری ہے۔
14 اگست کا دن ہمیں صرف آزادی کی خوشی نہیں دیتا، بلکہ یہ سوال بھی کرتا ہے کہ ہم نے اپنی آزادی کے لیے کیا کیا؟ اگر ہم جھوٹ چھوڑ دیں، امانت داری اختیار کریں، کسی غریب کی مدد کریں، والدین کی خدمت کریں، اپنے کام کو عبادت سمجھ کر کریں، دوسروں کے حقوق ادا کریں اور اپنے وطن کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالیں تو یہی یومِ آزادی کی سب سے خوبصورت خوشی ہوگی۔ کیونکہ وطن صرف سرحدوں سے نہیں بنتا۔ وطن اچھے انسانوں سے بنتا ہے۔ اور جس دن پاکستان کا ہر شہری اپنے حصے کی ذمے داری پوری کرنے لگے گا، اس روز آزادی کا جشن صرف ایک دن نہیں رہے گا، بلکہ پورا سال پاکستان کی خوشبو سے مہکتا رہے گا۔ پاکستان زندہ باد!

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔