مایوسی سے کامیابی تک کا سفر

اسد احمد

شہر کے مصروف ترین علاقے میں ایک چھوٹی سی گھڑیوں کی دکان تھی۔ دکان کا مالک پچاس سالہ حارث تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے ہاتھوں میں جادو ہے۔ برسوں پرانی، بند پڑی گھڑیاں بھی اس کے ہاتھ لگتے ہی دوبارہ چلنے لگتیں۔ لیکن عجیب بات یہ تھی کہ دوسروں کی گھڑیوں کو وقت دینے والا حارث اپنی زندگی کا وقت ہار چکا تھا۔ چند سال پہلے اس کے کاروبار کو بڑا نقصان ہوا۔ قرض بڑھتے گئے، دوست ساتھ چھوڑتے گئے اور وہ آہستہ آہستہ خاموش ہوتا گیا۔ پہلے دکان صبح سویرے کھولتا تھا، اب دوپہر تک شٹر بند رہتا۔ پہلے ہر گاہک کو مسکراکر خوش آمدید کہتا تھا، اب صرف سرہلادیتا۔
ایک دن بارش ہورہی تھی۔ دکان میں کوئی گاہک نہیں تھا۔ اچانک ایک 70 سالہ بوڑھا شخص اندر آیا۔ اس نے اپنی جیب سے ایک پرانی، زنگ آلود گھڑی نکالی اور میز پر رکھ دی۔ "بیٹا، کیا یہ چل سکتی ہے؟” حارث نے گھڑی کو دیکھا اور فوراً بولا، "نہیں بابا، یہ اب ختم ہوچکی ہے۔” بوڑھا مسکرایا۔ "گھڑی ختم ہوئی ہے یا تمہاری امید؟”
یہ جملہ حارث کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ اس نے پہلی بار غور سے گھڑی کو کھولا۔ اندر کئی پرزے خراب تھے، مگر سب نہیں۔ وہ خاموشی سے کام میں لگ گیا۔ دو گھنٹے بعد گھڑی کی سوئیاں حرکت کرنے لگیں۔ ٹک… ٹک… ٹک… بوڑھے کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ "میں جانتا تھا، یہ ابھی زندہ ہے۔”
حارث نے کہا، "میں نے تو پہلے ہی جواب دے دیا تھا۔” بوڑھا ہنس پڑا۔ "بیٹا، اکثر ہم چیزوں کو نہیں، اپنی سوچ کو مردہ قرار دے دیتے ہیں۔”
وہ گھڑی لے کر چلا گیا، مگر اپنے الفاظ دکان میں چھوڑ گیا۔ اس رات حارث گھر گیا تو پہلی بار کئی مہینوں بعد اپنی پرانی ڈائری نکالی۔ اس میں اس نے اپنے خواب لکھے تھے۔ "ایک دن شہر کی سب سے بڑی گھڑیوں کی ورکشاپ بناؤں گا۔”
وہ صفحہ دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ اگلی صبح اس نے دکان وقت پر کھولی۔ پرانا بورڈ صاف کیا۔ ٹوٹے ہوئے شیشے بدلوائے۔ دکان کے باہر ایک چھوٹا سا بورڈ لگا دیا۔ "مایوس نہ ہوں، ہر گھڑی دوبارہ چل سکتی ہے۔”
چند ہی دنوں میں لوگ اس بورڈ کی تصویر بنا کر سوشل میڈیا پر ڈالنے لگے۔ دکان پر رش بڑھنے لگا۔ ایک دن ایک نوجوان آیا۔ اس نے کہا، "سر، میں موبائل ریپئر سیکھنا چاہتا ہوں، مگر سب کہتے ہیں میں ناکام ہوں۔” حارث نے بغیر جواب دیے ایک بند گھڑی اس کے سامنے رکھی۔ "اسے دیکھو۔”
نوجوان نے کہا، "یہ تو خراب ہے۔” حارث نے مسکرا کر کہا، "یہی بات لوگ تمہارے بارے میں کہتے ہیں۔”
پھر اس نے آہستہ آہستہ گھڑی ٹھیک کی۔ چند منٹ بعد سوئیاں چلنے لگیں۔ "فرق صرف اتنا ہے کہ گھڑی کے پرزے بدلتے ہیں، انسان اپنی سوچ بدلتا ہے۔”
وہ نوجوان روز آنے لگا۔ پھر دوسرا۔ پھر تیسرا۔ کچھ ہی مہینوں میں حارث کی دکان ایک تربیتی مرکز بن گئی۔ وہ صرف گھڑیاں نہیں، لوگوں کا اعتماد بھی ٹھیک کرنے لگا۔
ایک روز بینک کا افسر آیا۔ وہی بینک جس نے کبھی قرض واپس نہ ہونے پر اسے نوٹس بھیجا تھا۔ افسر نے کہا، "ہم چھوٹے کاروباروں کے لیے نئی اسکیم شروع کر رہے ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو ہنر سکھا سکیں۔”
حارث کا نام پہلے نمبر پر تھا۔ وہ خاموش ہوگیا۔ اسے یاد آیا، اگر اس دن وہ بوڑھے کو انکار کرکے بھیج دیتا تو شاید آج بھی دکان ویران ہوتی۔
سال گزرتے گئے۔ حارث کی ورکشاپ شہر کی بڑی تربیتی اکیڈمی بن گئی۔ ہزاروں نوجوان وہاں سے ہنر سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے۔ ایک دن ایک صحافی نے اس سے پوچھا، "آپ کی کامیابی کا راز کیا ہے؟”
حارث نے دیوار پر لگی وہی پرانی گھڑی اتاری جو بوڑھا چھوڑ گیا تھا۔ وہ اب بھی چل رہی تھی۔ اس نے کہا، "میری زندگی اس دن بدلی جب مجھے سمجھ آیا کہ بعض اوقات بند دروازے نہیں، بند سوچ ہمیں روک رہی ہوتی ہے۔”
صحافی نے پوچھا، "اور وہ بوڑھا آج کہاں ہے؟”
حارث مسکرایا۔ "میں نے اسے پھر کبھی نہیں دیکھا۔ کبھی کبھی لگتا ہے وہ صرف مجھے جگانے آیا تھا۔” اس نے دکان کے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ "میں نے یہ دروازہ کبھی بند نہیں کیا، کیونکہ مجھے یقین ہے شاید کسی دن وہ دوبارہ آجائے… یا پھر کوئی ایسا انسان، جو خود کو ختم سمجھ بیٹھا ہو۔”
دکان کے باہر آج بھی وہی تختی لگی ہے۔ "مایوس نہ ہوں… ہر گھڑی دوبارہ چل سکتی ہے۔” اور لوگ جانتے ہیں کہ یہ صرف گھڑیوں کی بات نہیں، انسانوں کی بھی ہے۔
سبق: زندگی میں حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوجائیں، جب تک آپ کے اندر امید، سیکھنے کا جذبہ اور دوبارہ اٹھنے کی ہمت باقی ہے، آپ ختم نہیں ہوئے۔ اکثر کامیابی کا دروازہ بند نہیں ہوتا، صرف ہماری سوچ اس کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔ جس دن ہم خود پر دوبارہ یقین کرنا سیکھ لیتے ہیں، اسی دن ہماری زندگی کی سوئیاں بھی ایک بار پھر چلنا شروع ہوجاتی ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔