آخری اینٹ۔۔۔

عبدالعزیز بلوچ

ایک چھوٹے سے گاؤں میں حارث نام کا نوجوان رہتا تھا۔ اس کے والد مزدوری کرتے تھے اور بمشکل گھر کا خرچ پورا ہوتا تھا۔ حارث ذہین تھا مگر غربت نے اس کے خوابوں پر گرد جما دی تھی۔ وہ اکثر سوچتا، "جب قسمت ہی ساتھ نہیں تو محنت کا کیا فائدہ؟”
گاؤں کے کنارے ایک بوڑھا مستری رہتا تھا جس کا نام کریم بخش تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ اس کے ہاتھوں سے بنی عمارتیں برسوں تک مضبوط رہتی ہیں۔ ایک دن حارث نے اس سے پوچھا، "بابا! آپ کے کام میں ایسی کیا خاص بات ہے کہ لوگ آپ کی مثال دیتے ہیں؟”
بوڑھے نے مسکرا کر جواب دیا، "خاص بات اینٹوں میں نہیں، ہر اینٹ کے ساتھ کی جانے والی نیت اور ایمان داری میں ہے۔” یہ جواب حارث کی سمجھ میں نہ آیا، لیکن اس نے بوڑھے کے ساتھ کام شروع کردیا۔ پہلے دن اسے اینٹیں اٹھانے کا کام ملا۔ دوسرے دن گارا تیار کرنے کا۔ تیسرے دن دیوار سیدھی رکھنے کا۔ کئی ہفتے گزر گئے مگر اسے کوئی بڑا کام نہ دیا گیا۔ وہ دل ہی دل میں پریشان ہونے لگا کہ شاید بوڑھا اسے کچھ سکھانا ہی نہیں چاہتا۔
ایک شام اس نے شکایت کی، "بابا، میں کب تک یہی چھوٹے چھوٹے کام کرتا رہوں گا؟”
کریم بخش نے کہا، "جو شخص چھوٹے کاموں میں مہارت حاصل نہیں کرتا، وہ بڑے کاموں میں بھی ناکام رہتا ہے۔” حارث خاموش ہوگیا، مگر اس کے دل میں بے چینی باقی رہی۔
چند ماہ بعد ایک امیر شخص نے شہر میں ایک خوبصورت عمارت بنانے کا ٹھیکہ کریم بخش کو دیا۔ بوڑھے نے حارث کو اپنے ساتھ رکھا۔ روزانہ وہ ایک ہی بات دہراتا، "ہر اینٹ آخری اینٹ سمجھ کر لگاؤ۔” حارث کو یہ جملہ عجیب لگتا۔ آخر ایک دیوار میں سیکڑوں اینٹیں ہوتی ہیں، پھر ہر اینٹ آخری کیسے ہو سکتی ہے؟ وقت گزرتا گیا۔ عمارت مکمل ہونے کے قریب تھی۔ صرف ایک دیوار کا آخری حصہ باقی رہ گیا۔
اس دن حارث تھکا ہوا تھا۔ اس نے سوچا، "یہ تو آخری چند اینٹیں ہیں، اگر تھوڑا سا کام جلدی کرلوں تو کیا فرق پڑے گا؟” اس نے جلد بازی میں گارا کم لگایا اور اینٹیں بغیر پوری توجہ کے جما دیں۔ بوڑھا خاموشی سے سب دیکھتا رہا مگر کچھ نہ بولا۔
چند دن بعد عمارت کا افتتاح ہوا۔ سب لوگ اس کی خوبصورتی کی تعریف کررہے تھے۔ اچانک اسی دیوار کے ایک حصے میں باریک دراڑ نمودار ہوئی۔ دراڑ چھوٹی تھی مگر نمایاں تھی۔
عمارت کے مالک نے ناراضی سے پوچھا، "یہ کیسے ہوا؟” کریم بخش نے کسی پر الزام نہیں لگایا۔ اس نے صرف حارث کی طرف دیکھا۔ حارث کا سر شرم سے جھک گیا۔ اسے سمجھ آگئی کہ چند لمحوں کی لاپروائی نے مہینوں کی محنت پر داغ لگا دیا۔
اس رات وہ سو نہ سکا۔ اگلی صبح وہ خود بوڑھے کے پاس آیا اور بولا، "بابا، مجھ سے غلطی ہوگئی۔” بوڑھے نے نرمی سے کہا، "غلطی ہر انسان سے ہوتی ہے، لیکن کامیاب وہ ہے جو ایک غلطی کو پوری زندگی کا استاد بنا لے۔”
اس دن سے حارث بدل گیا۔ اب وہ ہر کام پوری توجہ سے کرتا۔ چاہے ایک اینٹ رکھنی ہو، ایک کاغذ لکھنا ہو یا کسی سے بات کرنی ہو، وہ جلد بازی نہیں کرتا تھا۔ کئی سال گزر گئے۔ کریم بخش دنیا سے رخصت ہوگیا، مگر اس کی سکھائی ہوئی باتیں حارث کے دل میں زندہ رہیں۔
وقت کے ساتھ حارث شہر کا معروف تعمیراتی ماہر بن گیا۔ لوگ اس کی دیانت داری اور معیار کی مثالیں دینے لگے۔ ایک دن ایک نوجوان اس کے پاس آیا اور پوچھا، "استاد، کامیابی کا راز کیا ہے؟” حارث اسے ایک زیرِ تعمیر مکان پر لے گیا۔ اس نے ایک اینٹ ہاتھ میں دی اور کہا، "اسے دیوار میں لگا دو۔” نوجوان نے جلدی سے اینٹ لگا دی۔ حارث نے پوچھا، "اگر یہ اینٹ ٹیڑھی ہو تو کیا ہوگا؟” نوجوان نے جواب دیا، "پوری دیوار خراب ہوسکتی ہے۔” حارث مسکرایا اور بولا، "اور اگر زندگی کی ایک عادت ٹیڑھی ہوجائے تو پوری زندگی متاثر ہوسکتی ہے۔”
پھر اس نے اپنے استاد کی وہی بات دہرائی: "ہر اینٹ کو آخری اینٹ سمجھ کر لگاؤ۔” نوجوان نے حیرت سے پوچھا، "اس کا مطلب؟” حارث نے کہا، "اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جو کام اس وقت کررہے ہو، اسے اس معیار کے ساتھ کرو جیسے یہی تمہاری پہچان بننے والا ہے۔ کیونکہ دنیا اکثر تمہاری آخری کارکردگی کو یاد رکھتی ہے، تمہارے ارادوں کو نہیں۔”
اس کی یہ بات نوجوان کے دل میں اتر گئی۔ زندگی بھی ایک عمارت کی طرح ہے۔ ہمارے روزانہ کے فیصلے، عادتیں، الفاظ اور اعمال اس کی اینٹیں ہیں۔ اگر ہم یہ سوچ کر لاپروائی کریں کہ "صرف آج ہی تو ہے” تو یہی ایک دن پوری عمارت کو کمزور کرسکتا ہے۔ لیکن اگر ہر دن، ہر قدم اور ہر کام کو بہترین انداز میں انجام دیں تو وقت ہماری شخصیت کو ایک مضبوط عمارت میں بدل دیتا ہے۔
بڑے خواب اچانک پورے نہیں ہوتے۔ وہ چھوٹے چھوٹے درست فیصلوں، مسلسل محنت، ایمان داری اور صبر کی ہزاروں اینٹوں سے تعمیر ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ کامیابی اس لیے نہیں ہارتے کہ وہ قابل نہیں ہوتے، بلکہ اس لیے کہ وہ آخری چند قدموں پر ہمت ہار جاتے یا معیار چھوڑ دیتے ہیں۔
یاد رکھیں، قسمت دروازے کھول سکتی ہے، مگر ان دروازوں کے پیچھے کھڑی کامیابی صرف اسی شخص کو ملتی ہے جو ہر دن اپنی "آخری اینٹ” پوری ذمے داری سے رکھتا ہے۔
سبق: کامیابی کسی ایک بڑے کارنامے کا نتیجہ نہیں ہوتی، بلکہ روزانہ کی چھوٹی چھوٹی ذمے داریوں کو دیانت، صبر اور بہترین انداز میں نبھانے کا نام ہے۔ آج جو کام آپ کے سامنے ہے، اسے اپنا بہترین کام سمجھ کر انجام دیں، کیونکہ یہی آپ کے روشن مستقبل کی بنیاد بن سکتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔