ایک دعا، نئی زندگی

غلام مصطفیٰ

رات کے دو بج رہے تھے۔ شہر کی سڑکیں سنسان تھیں، مگر ایک لگژری گاڑی پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی۔ اسٹیئرنگ پر بیٹھا وقاص ہنس رہا تھا۔ گاڑی میں اونچی آواز میں موسیقی چل رہی تھی۔ دوست ساتھ بیٹھے تھے، ہاتھ میں مہنگی گھڑی، جیب میں لاکھوں روپے اور زبان پر ایک ہی جملہ: "زندگی صرف ایک بار ملتی ہے… جتنا انجوائے کرنا ہے کرلو۔”
اسی لمحے اس کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ اسکرین پر لکھا تھا: "امی جان”
وقاص نے ایک نظر موبائل کو دیکھا، فون کاٹ دیا۔ دوست ہنسنے لگے۔ "یار! اب بھی امی سے ڈرتا ہے؟”
وقاص نے قہقہہ لگایا۔ "چھوڑو… روز یہی کہتی ہیں، نماز پڑھو، جلدی گھر آؤ، اللہ سے ڈرو۔”
اسی وقت گھر میں… اس کی بوڑھی ماں جائے نماز پر بیٹھی تھی۔ کمزور ہاتھ آسمان کی طرف اٹھے ہوئے تھے۔ "یااللہ! میرے بیٹے کو دولت بہت دی ہے، اب اسے ہدایت بھی دے دے۔ میں اس سے ناراض نہیں… بس اسے اپنے راستے پر لے آ۔”
اس دعا کے ساتھ ایک آنسو جائے نماز پر گرا۔ مگر وقاص کو کیا خبر تھی کہ ماں کے آنسو زمین پر نہیں گرتے… وہ سیدھے عرش تک پہنچتے ہیں۔
چند دن بعد وقاص ایک بڑے کاروباری معاہدے کے لیے جارہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ آج کروڑوں روپے کا فائدہ ہوگا۔ راستے میں سگنل سبز ہوا ہی تھا کہ اچانک ایک چھوٹا بچہ سڑک پر آگیا۔ وقاص نے پوری طاقت سے بریک لگائی۔ گاڑی بچ گئی… بچہ بھی بچ گیا… لیکن گاڑی فٹ پاتھ سے ٹکراگئی۔ وقاص کو زیادہ چوٹ نہیں آئی، مگر چند لمحوں کے لیے اسے لگا، جیسے موت اس کے بالکل سامنے کھڑی تھی۔ ایمبولینس میں لیٹے لیٹے پہلی بار اس کے ذہن میں ایک سوال آیا: "اگر میں آج مرجاتا تو اللہ کو کیا جواب دیتا؟”
یہ سوال اس کے دل میں تیر کی طرح اتر گیا۔ گھر پہنچا تو ماں دوڑ کر آئی۔ وقاص نے پہلی بار دیکھا کہ اس کی ماں کے بال کتنے سفید ہوچکے تھے۔ چہرے پر جھریاں تھیں۔ آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے تھے۔ ماں اسے سینے سے لگا کر صرف اتنا بولی: "الحمدللہ… میرا بیٹا زندہ ہے۔”
وقاص کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے پوچھا: "امی… اگر آج میں مر جاتا تو؟”
ماں خاموش رہی۔ پھر دھیرے سے بولی: "بیٹا… ماں تو ہر حال میں رو لیتی، مگر مجھے ڈر اس بات کا تھا کہ میرا بیٹا اپنے رب سے کیسے ملتا۔” یہ الفاظ وقاص کے دل میں اتر گئے۔ اس رات وہ سو نہ سکا۔ پوری رات چھت کو دیکھتا رہا۔ اسے اپنی ہر غلطی یاد آنے لگی۔ چھوڑی ہوئی نمازیں… ٹوٹے ہوئے وعدے… یتیم ملازم کی دل آزاری… باپ کی نصیحتوں کا مذاق… اور ماں کے آنسو…
صبح اذان ہوئی۔ پتا نہیں کتنے سال بعد وہ خود مسجد کی طرف چل پڑا۔ نماز ختم ہوئی تو امام صاحب نے صرف ایک جملہ کہا: "اللہ اس بندے سے کبھی مایوس نہیں ہوتا جو سچے دل سے اس کی طرف لوٹ آئے۔”
وقاص پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔ اس دن کے بعد اس کی زندگی بدلنے لگی۔ وہ کاروبار بھی کرتا، مگر حلال اور دیانت سے۔ نماز بھی پڑھتا۔ قرآن بھی سمجھ کر پڑھنے لگا۔ غریبوں کی مدد کرنے لگا۔ اور سب سے بڑھ کر… ہر روز اپنی ماں کے ہاتھ چومتا۔
ایک دن اس نے ماں سے پوچھا: "امی! آپ نے کبھی میرے لیے بددعا کیوں نہیں کی؟” ماں مسکرائی۔ "بیٹا… ماں کی زبان سے بددعا نکل ہی نہیں سکتی۔ ماں ناراض ہوسکتی ہے مگر دل سے ہمیشہ اولاد کی بھلائی مانگتی ہے۔”
کئی سال گزر گئے۔ وقاص ایک کامیاب تاجر بھی تھا اور ایک نیک انسان بھی۔
لوگ اس سے پوچھتے: "تمہاری زندگی میں اتنی بڑی تبدیلی کیسے آئی؟”
وہ ہمیشہ ایک ہی جواب دیتا: "مجھے کسی عالم کی تقریر نے نہیں بدلا… میری بوڑھی ماں کے آنسوؤں نے بدل دیا۔”
کچھ عرصے بعد اس کی ماں اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ جنازے کے بعد وقاص دیر تک قبر کے پاس بیٹھا رہا۔ ہاتھ اٹھائے اور روتے ہوئے کہا: "یااللہ! میری ماں نے پوری زندگی میرے لیے دعائیں مانگیں… آج میری ایک دعا قبول فرما… جس طرح تُو نے ماں کی دعا سے مجھے ہدایت دی، اسی طرح میری ماں کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنادے۔ آمین۔”
دوستو! اگر آج بھی آپ کی ماں زندہ ہے تو اس کے ہاتھ چوم لیجیے۔ اگر وہ آپ کو نماز کی نصیحت کرتی ہے تو ناراض نہ ہوں۔ اگر وہ بار بار فون کرتی ہے تو جھنجھلائیے نہیں۔ اور اگر وہ اس دنیا سے جاچکی ہے… تو آج ہی اس کے لیے دعا، استغفار اور صدقۂ جاریہ کا اہتمام کیجیے، کیونکہ دنیا میں بہت سے دروازے بند ہوسکتے ہیں… لیکن ماں کی سچی دعا اور اللہ کی رحمت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔