شہدا سے متعلق بیان واپس لینے سے مولانا کی عزت کم نہیں ہوگی، شرجیل میمن
کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ شہدا سے متعلق بیان واپس لینے سے مولانا فضل الرحمٰن کی عزت کم نہیں ہوگی، بلکہ ان کا رتبہ بڑھے گا۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت کی پالیسیوں کی وجہ سے اس بار گندم بمپر کراپ ہوئی ہے۔ جیسے ہی فصل اتری، منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں نے گندم غیر قانونی طور پر اسٹور کی۔ ہم نے 17 لاکھ ٹن گندم کریک ڈاؤن کرکے ریکور کی ہے۔ ضبط کی گئی گندم کا سرکاری ریٹ دیں گے۔ ابھی وقت ہے گندم سرکاری گوداموں میں جمع کروائیں۔ چھاپوں کے بعد 13 روپے کلو گندم کے آٹے کا ریٹ کم ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارا بدترین دشمن ہے، اسے ہماری فوج ہی نے شکست دی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کے بیان سے شہدا کے خاندانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ میرا مطالبہ ہے کہ مولانا صاحب اپنا بیان واپس لیں۔ الفاظ واپس لینے سے عزت کم نہیں ہوگی، ان کا رتبہ بڑھے گا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیز ملک کا اہم جزو ہیں۔ کسی کے بولنے نہ بولنے سے شہدا کا رتبہ کم نہیں ہوگا، لیکن اس طرح کے بیانات سے بھارت خوش ہوگا۔ مولانا کے بیان کو انڈین میڈیا پر چلایا گیا ہے۔ ہماری فورسز بی ایل اے سے لڑرہی ہیں۔ پاک بھارت جنگ میں ہر شخص جنگ لڑرہا تھا۔ مائیں گھر میں بیٹھ کر دعائیں اور نوجوان سوشل میڈیا پر ملک کا دفاع کررہے تھے۔
سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ شہدا کا بہت بڑا رتبہ ہے، جان دینا آسان نہیں ہے۔ ماں باپ اپنے بچوں کو فوج میں ایک جذبے کے تحت بھیجتے ہیں۔ اس جذبے کی قیمت تنخواہ نہیں ہے۔ پاک بھارت جنگ میں چیئرمین پی پی پی نے عالمی میڈیا پر ملک کا دفاع کیا۔ پیپلز پارٹی نے جمہوری جدوجہد کی، لیکن فوج کو کبھی کچھ نہیں کہا۔
انہوں نے کہا کہ پوری قوم کی مولانا فضل الرحمان سے اپیل ہے کہ وہ اپنا بیان واپس لیں۔ پوری اسلامی دنیا میں پاکستان واحد ملک ہے جس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھتا۔ جس کی وجہ ذوالفقار علی بھٹو کا دیا ہوا ایٹمی طاقت والا پاکستان ہونا ہے۔ یہ ملک ہم سب کا ہے، کسی کو حدود عبور نہیں کرنی چاہییں۔ ہماری سیاسی، عسکری قیادت، تاجروں سمیت تمام مکاتب فکر کا ملک کے لیے نقطہ نظر ایک ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان تجربہ کار سیاستدان ہیں، بیان واپس لیں، ان کے قد و قامت میں اضافہ ہوگا۔ موجودہ حالات میں وزیراعظم جو بھی فیصلے کریں گے ملکی معیشت کو مدنظر رکھ کر کریں گے۔ گندم کے لیے پنجاب اور سندھ حکومت نے اپنی اپنی پالیسی بنائی۔ میں نہیں سمجھتا کہ پنجاب سے افغانستان گندم گئی ہو۔ سندھ سے گندم پنجاب گئی ہے، اس کے شواہد موجود ہیں۔ آئین کے مطابق کوئی صوبہ دوسرے صوبے کو جانے والی گندم کو روک نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ پریا کماری کا معاملہ بہت سنجیدہ ہے، اس پر حکومتی مؤقف آچکا ہے۔ مصطفیٰ کمال دھرنا نہ دیں، پہلے وفاقی وزارت سے مستعفی ہوں، نشست چھوڑیں، ضمنی انتخابات کروائیں، پتا چل جائے گا۔
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ سندھ میں پانی کی قلت ہے، حکومت سندھ نے متعدد خطوط وزیراعظم اور وفاقی حکومت کو لکھے ہیں۔ وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سندھ کو سندھ کے حصے کا پانی دیا جائے۔
سینئر وزیر سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے قیادت کی میتیں اٹھاتے، کوڑے کھاتے وقت بھی ملکی اداروں کے خلاف بات نہیں کی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملکی معیشت کی بنیاد ہے، پنجاب میں بین الاضلاع موٹرویز بھی بن رہی ہیں۔ وفاق کی طرف سے سندھ میں کوئی ایسا موٹروے نہیں بنایا جارہا، یہ ملک، ملکی معیشت اور صوبے کے ساتھ زیادتی ہے۔ سندھ میں آج بھی اسٹیٹ آف دی آرٹ اسپتال موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کی وحدت کے خلاف بات کرنے والے تصادم چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم ایسا ایکشن لیں جس سے ان کی مردہ سیاست کو جان ملے۔ ارسا کی ذمے داری معاہدے کے مطابق صوبوں کو پانی فراہمی یقینی بنائے۔