اچھے اخلاق کی دلوں پر حکومت

حسان احمد

شہر کے پرانے بازار میں ایک کپڑے کی مشہور دکان تھی۔ اس دکان کا مالک شہزاد احمد تھا۔ تجارت میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ مال عمدہ، قیمت مناسب اور کاروبار خوب چلتا تھا مگر اس کی ایک ایسی عادت تھی جس نے اس کی ساری خوبیوں کو ماند کر رکھا تھا۔ وہ بے حد بدزبان تھا۔ گاہک ذرا سا سوال پوچھ لیتا تو اس کا ماتھا تن جاتا۔
"یہ اتنا مہنگا کیوں ہے؟” شہزاد فوراً جھڑک دیتا۔ "اگر سستا چاہیے تو سامنے فٹ پاتھ پر چلے جاؤ!” کوئی ملازم پانی پینے میں دو منٹ زیادہ لگا دیتا تو پورا بازار اس کی آواز سن لیتا۔ "تم لوگوں کو تنخواہ کام کی دیتا ہوں یا آرام کی؟”
لوگ کہتے تھے، "شہزاد احمد کا مال اچھا ہے، مگر زبان ایسی ہے کہ دل دُکھا دیتی ہے۔” وہ ہنس کر جواب دیتا، "کاروبار زبان سے نہیں، پیسے سے چلتا ہے۔” وقت گزرتا رہا۔
ایک دن دکان پر ایک سفید داڑھی والے بزرگ آئے۔ انہوں نے نہایت نرمی سے ایک سوٹ دیکھا اور پوچھا، "بیٹا، اگر قیمت میں کچھ رعایت ہوجائے تو خرید لوں؟”
شہزاد نے طنزیہ انداز میں کہا، "بابا جی! رعایت چاہیے تو دعا مانگیں، میری دکان پر وقت ضائع نہ کریں۔” بزرگ خاموشی سے مسکرائے، سوٹ واپس رکھا اور چلے گئے۔ دکان میں ایک لمحے کو خاموشی چھا گئی، مگر شہزاد نے کندھے اچکا دیے۔
"بوڑھے لوگ بھی عجیب ہوتے ہیں!” چند دن بعد شہر میں شدید بارش ہوئی۔ بازار کی کئی دکانوں میں پانی بھر گیا۔ شہزاد کی دکان بھی متاثر ہوئی۔ قیمتی کپڑوں کے گٹھے بھیگ گئے، ہزاروں کا نقصان ہوگیا۔ وہ پریشان بیٹھا تھا کہ اچانک چند نوجوان اندر داخل ہوئے۔ انہوں نے کچھ کہے بغیر بھیگا ہوا سامان اوپر اٹھانا شروع کردیا۔ کسی نے پانی باہر نکالا، کسی نے کپڑے خشک جگہ منتقل کیے۔ دو گھنٹوں کی محنت کے بعد بڑا نقصان ٹل گیا۔ شہزاد نے حیرت سے پوچھا، "بھائیو! تم لوگ کون ہو؟”
ان میں سے ایک نوجوان مسکرایا۔ "ہم اسی بزرگ کے مدرسے کے طالب علم ہیں، جنہیں آپ نے چند روز پہلے رعایت مانگنے پر جھڑک دیا تھا۔”
شہزاد شرمندہ ہوگیا۔ "انہوں نے… تمہیں بھیجا ہے؟”
نوجوان نے کہا، "جی۔ انہوں نے فرمایا، ‘اگر کسی نے تمہارے ساتھ سختی کی ہو تو اس کے ساتھ نرمی کرنا۔ شاید اس کا دل بدل جائے۔'” یہ سن کر شہزاد کا سر جھک گیا۔ وہ ساری رات سو نہ سکا۔
صبح ہوتے ہی وہ اس بزرگ کو ڈھونڈتے ہوئے ان کے مدرسے پہنچ گیا۔ بزرگ صحن میں بچوں کو پڑھا رہے تھے۔ شہزاد ان کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ "بابا جی… مجھے معاف کردیں۔”
بزرگ نے کتاب بند کی اور مسکرا کر بولے، "کس بات کی معافی؟”
"میں نے آپ کی بے عزتی کی تھی۔”
بزرگ نے آہستہ سے کہا، "بیٹا! جو شخص دوسروں کو معاف نہیں کرتا، وہ خود بھی سکون سے محروم رہتا ہے۔ میں نے تو اسی دن تمہیں معاف کردیا تھا۔”
شہزاد کی آنکھوں میں نمی آگئی۔ وہ بولا، "میں سمجھتا تھا دولت سب کچھ ہے۔ آج معلوم ہوا کہ اچھا اخلاق اس سے کہیں بڑا خزانہ ہے۔” بزرگ نے قریب پڑی لکڑی اٹھائی اور زمین پر ایک لمبی لکیر کھینچ دی۔ پھر بولے، "اس لکیر کو چھوٹا کرو، مگر اسے مٹانا نہیں۔”
شہزاد سوچنے لگا۔ پھر بزرگ نے خود اس کے برابر ایک اور بڑی لکیر کھینچ دی۔ پہلی لکیر خودبخود چھوٹی دکھائی دینے لگی۔ بزرگ بولے، "بیٹا! برائی کو برائی سے نہیں، اچھائی سے چھوٹا کیا جاتا ہے۔” یہ جملہ شہزاد کے دل میں اتر گیا۔ اگلے ہی دن بازار والوں نے ایک نیا منظر دیکھا۔
ایک گاہک نے حسبِ عادت قیمت کم کرنے کی فرمائش کی۔ سب انتظار کرنے لگے کہ اب شہزاد ڈانٹے گا۔ لیکن اس نے مسکرا کر کہا، "اگر زیادہ رعایت نہ بھی دے سکوں تو کم از کم اچھی بات تو کرسکتا ہوں۔”
پورا بازار حیران رہ گیا۔ چند ہفتوں میں اس کی دکان کا ماحول بدل گیا۔ پہلے جہاں ملازم اس سے خوف کھاتے تھے، اب خوشی سے کام کرتے تھے۔ پہلے گاہک جلدی نکل جاتے تھے، اب چائے پی کر جاتے۔ ایک دن اس کا پرانا ملازم بولا، "شہزاد صاحب! پہلے لوگ آپ کے کپڑے خریدتے تھے، اب آپ کا اخلاق بھی خرید کر لے جاتے ہیں۔”
سب ہنس پڑے۔ وقت گزرتا گیا۔ ایک روز وہی بزرگ دوبارہ دکان پر آئے۔ سہزاد فوراً اپنی کرسی سے اٹھا، انہیں عزت سے بٹھایا، چائے منگوائی اور کہا، "بابا جی! آج آپ جو پسند کریں گے، وہ میری طرف سے تحفہ ہوگا۔”
بزرگ نے مسکرا کر جواب دیا، "مجھے کپڑے نہیں چاہئیں، میں تو یہ دیکھنے آیا تھا کہ جس بیج کو ہم نے نرمی سے سینچا تھا، وہ پھل لایا یا نہیں۔”
شہزاد نے ادب سے ان کے ہاتھ چوم لیے۔ اس دن بازار کے لوگوں نے ایک بات محسوس کی۔ شہزاد کی دکان پہلے بھی مشہور تھی، مگر اب اس کی مسکراہٹ زیادہ مشہور تھی۔ لوگ دور دور سے صرف کپڑا خریدنے نہیں، بلکہ عزت لینے بھی آنے لگے۔ اور حقیقت بھی یہی ہے… تلخ زبان وقتی فتح دلا سکتی ہے، لیکن اچھا اخلاق دلوں پر ہمیشہ کی حکومت کرتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔