عوام کو مزید ریلیف دیا جانا چاہیے

بلال ظفر سولنگی
پاکستان کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے مہنگائی، بے روزگاری، بجلی اور گیس کے بڑھتے ہوئے بلوں، ٹیکسوں کے بوجھ اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کررہے ہیں۔ ایسے حالات میں جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آتی ہے تو عام شہری کی پہلی امید یہی ہوتی ہے کہ حکومت اس کمی کا فائدہ براہِ راست عوام تک منتقل کرے گی تاکہ ان کے معاشی بوجھ میں کچھ کمی آ سکے۔ مگر افسوس کہ اکثر ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کے باوجود عوام کو مکمل ریلیف نہیں مل پاتا۔
گو گزشتہ ہفتے حکومت پاکستان نے پٹرول 74 روپے اور ڈیزل 67 روپے فی لیٹر سستا کیا تھا، تاہم اب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایران امریکا جنگ شروع ہونے سے پہلے سے بھی خاصی کم ہوچکی ہیں اور عوام بڑے ریلیف کی اُمید کررہے تھے، لیکن حکومت کی جانب سے قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا۔
حکومت کا مؤقف اپنی جگہ موجود ہے کہ اسے ملکی معیشت، بین الاقوامی مالیاتی ذمے داریوں اور مالیاتی استحکام کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے۔ وفاقی وزیر علی پرویز ملک کے مطابق حکومت کسی ایک شعبے کو ترجیح نہیں دے رہی بلکہ تمام قومی ضروریات کو سامنے رکھ کر فیصلے کررہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے دورِ حکومت میں پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں مجموعی طور پر نمایاں کمی کی جا چکی ہے، جو اپنی جگہ ایک حقیقت ہے۔
تاہم دوسری جانب یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید کم ہورہی ہیں تو اس کا فائدہ عام شہری کو مکمل طور پر کیوں نہیں دیا جارہا؟ جب پٹرولیم لیوی میں اضافہ کردیا جاتا ہے تو عالمی قیمتوں میں ہونے والی کمی کا بڑا حصہ سرکاری محصولات کی نذر ہوجاتا ہے جب کہ عوام اپنی روزمرہ زندگی میں کوئی واضح ریلیف محسوس نہیں کرپاتے۔
پاکستان جیسے ملک میں پٹرول صرف گاڑی چلانے والوں کی ضرورت نہیں بلکہ پوری معیشت کا بنیادی ایندھن ہے۔ ٹرانسپورٹ کے کرایے، سبزیوں اور پھلوں کی ترسیل، اشیائے خورونوش کی قیمتیں، صنعتی پیداواری لاگت، زرعی شعبے کے اخراجات اور کاروباری سرگرمیوں کا ایک بڑا حصہ پٹرولیم مصنوعات سے وابستہ ہے۔ جب ایندھن مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر ہر گھر کے بجٹ پر پڑتا ہے اور جب قیمتیں کم ہوں تو اس کے مثبت اثرات بھی عوام تک پہنچنے چاہئیں۔
گزشتہ چند برسوں میں پاکستانی عوام نے غیر معمولی معاشی مشکلات برداشت کی ہیں۔ ایک متوسط طبقے کے لیے بچوں کی تعلیم، علاج، کرایہ، بجلی، گیس اور روزمرہ اخراجات پورے کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ کم آمدن والے خاندان تو پہلے ہی بنیادی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں اگر حکومت عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا زیادہ حصہ عوام کو منتقل کرے تو اس سے نہ صرف لوگوں کو فوری ریلیف ملے گا، بلکہ معاشی سرگرمیوں میں بھی بہتری آئے گی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت کو محصولات کی ضرورت ہوتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں، دفاع، تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں۔ تاہم مالیاتی استحکام اور عوامی ریلیف کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ہر بار قیمتوں میں کمی کے بجائے لیوی میں اضافہ کردیا جائے تو عام آدمی کو یہ احساس ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی کمی اس تک پہنچ ہی نہیں رہی۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب کمی کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہوگا کہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کمی آئے گی، اشیائے خورونوش کی ترسیل نسبتاً سستی ہوگی، کاروباری لاگت کم ہوگی اور مہنگائی کے دباؤ میں بھی کمی آسکتی ہے۔ اس کا فائدہ صرف گاڑی رکھنے والوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ معاشرے کے قریباً ہر طبقے کو پہنچے گا۔
اس کے ساتھ ضروری ہے کہ متعلقہ ادارے اس بات کو بھی یقینی بنائیں کہ اگر ایندھن کی قیمتوں میں کمی کی جاتی ہے تو پبلک ٹرانسپورٹ، مال بردار گاڑیوں اور مارکیٹ میں فروخت ہونے والی اشیاء کی قیمتوں میں بھی اس کے مطابق کمی آئے۔ بدقسمتی سے کئی مرتبہ پٹرول سستا ہونے کے باوجود کرایے اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اپنی جگہ برقرار رہتی ہیں، جس سے عوام کو مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہو پاتا۔
حکومت نے مٹی کے تیل اور جیٹ فیول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا ہے، جو ایک مثبت اقدام ہے، لیکن عوام کی نظریں اس بات پر بھی ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں عالمی رجحانات کے مطابق مناسب ریلیف فراہم کیا جائے۔ موجودہ معاشی حالات میں ہر چھوٹی بچت ایک عام خاندان کے لیے بہت اہمیت رکھتی ہے۔
وقت کا تقاضا یہی ہے کہ معاشی فیصلوں میں عوامی مفاد کو اولین ترجیح دی جائے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہورہی ہیں تو اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے۔ پاکستانی عوام نے مہنگائی، معاشی دباؤ اور بے شمار مشکلات کا طویل عرصے تک سامنا کیا ہے۔ اب وہ ایسے فیصلوں کے منتظر ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی کو آسان بنائیں، ان کے اخراجات میں کمی لائیں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ ریاست ان کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے ان کے لیے حقیقی ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔