امن معاہدہ، پاکستان کا ناقابل فراموش کردار

دانیال جیلانی

گو گزشتہ روز سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے ہی منسوخ ہوگیا ہے، لیکن امن معاہدہ ہوچکا ہے، امریکی و ایرانی صدور اس پر دستخط کرچکے، بطور ثالث وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اس پر سائن کردیے ہیں۔ یوں امن معاہدے کا نفاذ عمل میں آچکا ہے۔ اسرائیلی ہٹ دھرمی اور لبنان پر حملوں کی وجہ سے موعودہ مذاکرات منسوخ ہوئے تاہم امن کا دیا روشن ہے۔ پاکستان کوشاں ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی مذاکرات کے دور کو مزید آگے بڑھانے کے سلسلے میں ایران روانہ ہوگئے ہیں۔ ان شاء اللہ مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
دیکھا جائے تو دنیا ہمیشہ سے تنازعات، جنگوں اور کشیدگیوں کا مرکز رہی ہے، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسے لمحے آتے ہیں جب عقل، تدبر اور سفارت کاری جنگ کی آگ کو بجھا کر امن کی راہ ہموار کرتی ہے۔ حالیہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والا مفاہمتی معاہدہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے جسے عالمی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت نے نہ صرف خطے میں امید کی نئی کرن پیدا کی ہے بلکہ یہ بھی ثابت کیا ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں، بلکہ بات چیت اور مکالمہ ہی پائیدار حل کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
اس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ پاکستان نے بطور ثالث جو سفارتی ذمہ داری ادا کی، وہ نہ صرف قابلِ تعریف ہے بلکہ یہ ملک کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے اعتماد اور توازن کی علامت بھی ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے ایک مثبت اور فعال کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس مفاہمتی یادداشت کو عالمی سطح پر ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور مذاکرات کی بحالی میں پاکستان نے جو کردار ادا کیا، وہ نہایت اہم اور فیصلہ کن تھا۔ پاکستان کی کوششوں نے ایک ایسے ماحول کو جنم دیا جس میں فریقین ایک میز پر بیٹھنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہوئے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس پورے عمل میں نہ صرف سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو ایک متوازن اور ذمہ دار آواز کے طور پر پیش کیا۔ ان کی سفارتی کوششیں اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ پاکستان امن کا داعی ہے اور خطے میں استحکام چاہتا ہے۔ اس اہم پیش رفت میں پاکستان کی عسکری قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کردار بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ بصیرت، حکمت عملی اور پسِ پردہ سفارتی تعاون نے اس عمل کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مشترکہ کوششوں نے پاکستان کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں اسے نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور مؤثر ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ حقیقت اب دنیا بھر میں تسلیم کی جا رہی ہے کہ جنگیں کسی بھی مسئلے کا مستقل حل فراہم نہیں کرتیں۔ جنگ صرف تباہی، غربت، انسانی المیے اور عدم استحکام کو جنم دیتی ہے۔ اس کے برعکس مذاکرات اور سفارت کاری ایسے راستے کھولتے ہیں جو دیرپا امن کی ضمانت بن سکتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان یہ مفاہمت بھی اسی سوچ کی عکاس ہے کہ طاقت کے بجائے بات چیت کو ترجیح دی جائے۔ یہ پیش رفت عالمی برادری کے لیے ایک مثال ہے کہ اگر نیت نیک ہو اور قیادت سنجیدہ ہو تو پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ اس سفارتی کامیابی کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ دنیا نے یہ تسلیم کیا ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے کا ایک اہم ملک ہے بلکہ عالمی امن کے عمل میں بھی ایک تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے کیونکہ اس نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ وہ صرف تنازعات کا حصہ نہیں بلکہ ان کے حل کا بھی ایک اہم فریق ہے۔ اس عمل نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے جو امن، تعاون اور مکالمے پر یقین رکھتی ہے۔ اس معاہدے کے بعد خطے میں استحکام کی نئی امید پیدا ہوئی ہے۔ اگر یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے میں معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کے نئے دروازے بھی کھل سکتے ہیں۔
پاکستان کی کوششیں اس بات کی غماز ہیں کہ وہ خطے میں کشیدگی کے بجائے تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ ایک ایسا وژن ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے امن اور خوشحالی کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان یہ مفاہمتی معاہدہ صرف ایک سیاسی دستاویز نہیں بلکہ ایک نئی سوچ کی علامت ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا میں اب بھی امن کی گنجائش موجود ہے، بشرطیکہ قیادت سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ آگے بڑھے۔ پاکستان کا اس عمل میں کردار نہایت قابلِ تحسین ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا ایک مثبت اور مؤثر تشخص قائم کیا ہے۔ یہ کامیابی نہ صرف پاکستان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک امید کی کرن بھی ہے۔ آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جنگیں کبھی حل نہیں ہوتیں، حل صرف بات چیت، برداشت اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ اور یہی پیغام آج کی دنیا کو سب سے زیادہ درکار ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔