لندن کے تاریخی رائل البرٹ ہال میں صوفی اوپیرا سنگر سائرہ پیٹر کے فن کی دھوم

کراچی: ’’ناقابلِ فراموش‘‘، ’’الفاظ سے ماورا‘‘ اور ’’تاریخ ساز‘‘، یہ وہ تاثرات تھے جو لندن کے عظیم الشان رائل البرٹ ہال میں موجود پانچ ہزار سامعین نے سائرہ پیٹر کی شاندار پرفارمنس کے بعد بیان کیے۔ ان کی مسحورکن آواز نے نہ صرف برطانیہ میں موجود حاضرین بلکہ دنیا بھر میں لائیو اسٹریمنگ کے ذریعے دیکھنے اور سننے والوں کو بھی اپنے سحر میں جکڑ لیا۔ بی بی سی کے معروف ’’پرومز پریز‘‘ پروگرام میں اس نوعیت کی پرفارمنس پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔


تقریب میں برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر بھی موجود تھے، جنہوں نے سائرہ پیٹر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا: ’’مجھے بے حد خوشی ہے کہ میں پاکستان کی پہلی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر کی کامیابی کا جشن منانے کے لیے یہاں موجود ہوں۔ ان کی پرفارمنس شاندار تھی۔ جس انداز سے انہوں نے مشرقی اور مغربی موسیقی، طبلہ اور ستار کو یکجا کرتے ہوئے خدا سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا، وہ واقعی حیرت انگیز تھا۔


یہ ایک نہایت متاثر کن لمحہ تھا۔ ہمیں ان پر بے حد فخر ہے اور میرا یقین ہے کہ انہوں نے تاریخ رقم کردی ہے۔ وہ کراچی میں پیدا ہونے والی پہلی اور واحد پاکستانی اوپیرا گلوکارہ ہیں، جنہوں نے رائل البرٹ ہال میں پرفارم کیا۔ ہم ان کی کامیابیوں پر نازاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں بھی ان کی مزید شاندار کامیابیاں دیکھنے کو ملیں گی۔‘‘


سائرہ پیٹر نے اپنی شخصیت، فن اور روحانی اظہار سے ہر شخص پر گہرا اثر چھوڑا۔ عالمی شہرت یافتہ آل سولز آرکسٹرا، جس میں بین الاقوامی تجربہ رکھنے والے موسیقار شامل ہیں، نے ان کی موسیقی کو نہ صرف منفرد بلکہ انتہائی چیلنجنگ بھی قرار دیا۔ ان کی انقلابی ’’صوفی اوپیرا‘‘ تخلیقات پاکستانی موسیقی کی پیچیدہ روایات اور مغربی کلاسیکی موسیقی کا ایسا حسین امتزاج ہیں جو اس سے پہلے کبھی سننے میں نہیں آیا۔ تاہم سامعین کو صرف موسیقی ہی نے متاثر نہیں کیا، بلکہ ان کے فن کی سچائی اور روحانی وابستگی نے بھی دل جیت لیے۔ سائرہ محض ایک فنکارہ کے طور پر اسٹیج پر نہیں آئیں بلکہ انہوں نے اپنی ذاتی روحانی کیفیت اور تجربات کو موسیقی کے ذریعے سامعین تک پہنچایا، جس نے ان کی پرفارمنس کو ایک خاص وقار اور تاثیر عطا کی۔ ان کے ساتھ لندن کے چالیس سے زائد کوائرز سے تعلق رکھنے والے پانچ سو گلوکاروں پر مشتمل ایک عظیم الشان کوائر بھی موجود تھا۔ ان میں سے بہت سے افراد کے لیے کسی ایشیائی اوپیرا گلوکارہ کے ساتھ کام کرنے کا یہ پہلا تجربہ تھا۔ اگر کسی کے ذہن میں کوئی پیشگی تصور موجود تھا تو وہ سائرہ کی پرفارمنس کے بعد فوراً ختم ہو گیا۔ صرف ایک شام میں سائرہ پیٹر نے ثابت کر دیا کہ عالمی معیار کی اوپیرا موسیقی کسی ایک ثقافت یا خطے تک محدود نہیں۔
تقریب کے آرٹسٹک ڈائریکٹر مائیکل اینڈریوز نے سائرہ پیٹر کو اس شام ایشیا کی نمائندہ شخصیت کے طور پر متعارف کروایا۔ جیسے ہی وہ ایک شاندار سیاہ پاکستانی لباس میں ملبوس اسٹیج پر آئیں، حاضرین کی تمام تر توجہ ان کی جانب مبذول ہوگئی۔ یہ لباس دیہی علاقوں کی ہنرمند خواتین نے ہاتھ سے کڑھائی کرکے خصوصی طور پر اس موقع کے لیے تیار کیا تھا۔ ان کا افتتاحی گیت ’’ہو سانا‘‘ ان کے منفرد انداز کا بہترین مظہر تھا، جس میں پاکستانی راگ اور مغربی آرکسٹرا کا دلکش امتزاج پیش کیا گیا۔ اس موسیقی کی پیچیدگی نے تجربہ کار کلاسیکی موسیقاروں کو بھی اضافی مشق پر مجبور کردیا تاکہ وہ اس کے پاکستانی رنگ اور نزاکتوں کو پوری طرح سمجھ سکیں۔

شام بھر سائرہ نے اپنی مخصوص تانوں کو مغربی موسیقی کے ساتھ نہایت مہارت سے ہم آہنگ کیا، جس کے نتیجے میں مشرق اور مغرب کے درمیان ایک منفرد موسیقیاتی مکالمہ جنم لیتا رہا۔ ہال میں موجود سامعین نے ہر پرفارمنس پر پُرجوش داد دی جب کہ دنیا بھر سے آن لائن ناظرین سوشل میڈیا پر ان کی تعریف اور تحسین کے پیغامات بھیجتے رہے۔ سائرہ پیٹر نے اس یادگار کنسرٹ میں چار موسیقی کے شاہکار پیش کیے، تاہم ان کی پرفارمنس کے بعد مزید پروگراموں کے مطالبات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ مختلف ادارے اور تنظیمیں اب انہیں اپنے مستقبل کے پروگراموں میں مدعو کرنے کی خواہش ظاہر کررہی ہیں۔ رواں ماہ سائرہ پیٹر خیراتی کنسرٹس اور اہم ملاقاتوں کے سلسلے میں امریکا کا دورہ کریں گی، جس کے بعد وہ جولائی میں برطانیہ واپس آکر ونڈسر کیسل میں منعقد ہونے والی ایک بین الاقوامی سربراہی تقریب میں خصوصی اعزاز حاصل کریں گی۔ اس تاریخی پرفارمنس کے ساتھ سائرہ پیٹر ان عظیم فنکاروں کی فہرست میں شامل ہوگئی ہیں جنہوں نے رائل البرٹ ہال کے اسٹیج کو رونق بخشی، جن میں دی بیٹلز، کلف رچرڈ، میڈونا، رولنگ اسٹونز، کوئین، کولڈ پلے، ایڈیل اور باب ڈیلن جیسے عالمی شہرت یافتہ نام شامل ہیں۔
اور واقعی، سائرہ پیٹر نے ایسا تاثر چھوڑا ہے جسے طویل عرصے تک فراموش نہیں کیا جاسکے گا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔