گلوکارہ سائرہ پیٹر کا بڑا اعزاز، 6 جون کو رائل البرٹ ہال میں پرفارم کریں گی

لندن: پاکستان کی معروف صوفی اوپیرا گلوکارہ سائرہ پیٹر 6 جون 2026 کو دنیا کے تاریخی اور ممتاز ترین موسیقی مراکز میں شمار ہونے والے رائل البرٹ ہال لندن میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گی۔ اس شاندار تقریب کے ساتھ سائرہ پیٹر ان چند پاکستانی خواتین فنکاروں کی صف میں شامل ہوجائیں گی جنہیں اس عالمی شہرت یافتہ مقام پر سولو پرفارمنس کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔
سائرہ پیٹر کو اس حوالے سے پاکستان کی موسیقی کی عظیم شخصیات نورجہاں، اقبال بانو اور عابدہ پروین کی روایت کا تسلسل قرار دیا جارہا ہے۔ رائل البرٹ ہال میں پرفارم کرنے والے دیگر برصغیر کے نامور فنکاروں میں لتا منگیشکر، استاد ذاکر حسین، روی شنکر اور حال ہی میں مارچ 2026 میں یہاں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والے استاد راحت فتح علی خان شامل ہیں۔ معروف بھارتی موسیقار اے آر رحمان نے بھی اپریل 2026 میں اس تاریخی مقام پر پرفارم کرنے کا اپنا دیرینہ خواب پورا کیا۔

کراچی سے تعلق رکھنے والی سائرہ پیٹر نے پاکستان میں اوپیرا موسیقی کو متعارف کرانے والی پہلی گلوکارہ کے طور پر منفرد شناخت حاصل کی۔ 2016 میں کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں اپنی پہلی بڑی پرفارمنس کے دوران انہوں نے سامعین، سفارت کاروں اور میڈیا نمائندوں کو اپنی منفرد آواز اور انداز سے متاثر کیا۔ انہیں دنیا کی پہلی "صوفی اوپیرا” گلوکارہ قرار دیا گیا، جنہوں نے پاکستان کے صوفی ورثے، امن، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کے پیغام کو موسیقی کے ذریعے دنیا تک پہنچایا۔
سائرہ پیٹر گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا کے مختلف اہم ثقافتی اور سفارتی فورمز پر پاکستان کی نمائندگی کرچکی ہیں۔ 2019 میں انہوں نے اسلام آباد میں ایوانِ صدر میں منعقدہ تقریب میں اُس وقت کے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی اور بین الاقوامی مہمانوں کے سامنے صوفی اوپیرا پیش کی۔ اس موقع پر انہوں نے حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام "تو حبیب، تو طبیب” کے انگریزی ترجمے پر مبنی خصوصی پرفارمنس بھی دی۔
2021 میں انہیں ترکیہ کے شہر قونیہ میں مولانا جلال الدین رومی کے حوالے سے منعقد ہونے والے "رومی مسٹک میوزک فیسٹیول” میں بطور سولو آرٹسٹ شرکت کی دعوت دی گئی، جہاں انہوں نے اپنے منفرد صوفی اوپیرا انداز سے حاضرین کو متاثر کیا۔


حال ہی میں سائرہ پیٹر نے امریکا میں کانگریس ہاؤس میں منعقدہ ایک بین الاقوامی تقریب میں بھی صوفی اوپیرا پیش کی، جہاں انہیں امن، خیر سگالی اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے فروغ میں خدمات کے اعتراف میں "شی لیڈز دی نیشنز” ایوارڈ اور "انٹرنیشنل ویمن آف ڈسٹنکشن” کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اپنے امریکا کے دورے کے دوران وہ امریکی محکمہ خارجہ کی خصوصی مہمان بھی رہیں۔ بعدازاں اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے نیویارک میں اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ان کے اعزاز میں خصوصی تقریب کا اہتمام کیا اور ان کی خدمات کے اعتراف میں تعریفی سند پیش کی۔
سائرہ پیٹر نہ صرف ایک ممتاز فنکارہ ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیمی قابلیت کی حامل بھی ہیں۔ انہوں نے کراچی سے فزیکل کیمسٹری میں ایم ایس سی جب کہ لندن کی کوئین میری یونیورسٹی سے اسلامی تاریخ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔
رائل البرٹ ہال میں ہونے والی اس تاریخی پرفارمنس میں سائرہ پیٹر کے ساتھ مغربی کلاسیکی موسیقی کے 525 سے زائد فنکار شریک ہوں گے، جن میں آل سولز آرکسٹرا اور 400 آوازوں پر مشتمل ایک عظیم الشان کوائر بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق کسی بھی ایشیائی فنکار کے ساتھ اس پیمانے پر مغربی کلاسیکی موسیقاروں کی شرکت ایک منفرد اور تاریخی موقع ہے۔
سائرہ پیٹر اس تقریب میں پاکستانی ثقافت، صوفی روایات اور امن و محبت کے پیغام کی نمائندگی کریں گی۔ وہ اردو زبان میں ایک خصوصی اصل تخلیق بھی پیش کریں گی جس کے اشعار برطانوی پاکستانی مصنف ظفر فرانسس نے تحریر کیے ہیں۔ یہ تخلیق عالمی سطح پر امن، مفاہمت اور اقوام کے درمیان دوستی کے فروغ کے پیغام پر مبنی ہے۔
واضح رہے کہ رائل البرٹ ہال 1871 میں برطانوی ملکہ وکٹوریہ نے اپنے شوہر پرنس البرٹ کے خواب کی تکمیل کے طور پر افتتاح کیا تھا۔ پانچ ہزار سے زائد افراد کی گنجائش رکھنے والا یہ تاریخی مقام برطانیہ کی ثقافتی اور موسیقی کی تاریخ کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کی بے شمار نامور شخصیات اور فنکار اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سائرہ پیٹر کی یہ پرفارمنس نہ صرف ان کے کیریئر کا اہم سنگِ میل ثابت ہوگی بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی ثقافتی شناخت، صوفی روایت اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔