وہ کامیاب تو ہوگیا مگر۔۔۔۔

اسد احمد
وہ لڑکا روز صبح سب سے پہلے اٹھتا تھا… نہ اس لیے کہ اُسے زندگی سے بہت محبت تھی، بلکہ اس لیے کہ اگر وہ دیر سے جاگتا، تو گھر میں چولہا ٹھنڈا رہ جاتا۔
اس کی عمر کھیلنے کی تھی مگر اُس کے ہاتھوں میں کھلونوں کی جگہ ذمے داریاں تھیں۔ لوگ کہتے تھے، “مرد بنو…” اور وہ بچپن ہی میں بوڑھا ہوگیا۔
بارش ہوتی تو لوگ چائے اور پکوڑوں کے لیے دوڑ لگاتے اور وہ بھیگتی ہوئی سڑکوں پر رزق ڈھونڈتا پھرتا۔ کبھی مزدوری، کبھی کسی دکان پر بوجھ اٹھانا، کبھی خالی جیب کے ساتھ پورا دن گزار دینا…
ایک رات اُس کی ماں نے آہستہ سے پوچھا: “بیٹا… تو تھک تو نہیں گیا؟” وہ مسکرایا۔
ایسی مسکراہٹ، جو صرف وہ لوگ ہنستے ہیں جن کے اندر سب کچھ ٹوٹ چکا ہو۔
کہنے لگا: “امّی… تھک تو گیا ہوں، مگر رُک گیا تو آپ لوگوں کو کون سنبھالے گا؟”
اُس رات ماں نے پہلی بار اپنے بیٹے کو چھپ کر روتے دیکھا۔ وہ سجدے میں تھا…
اور اللہ سے صرف ایک دعا مانگ رہا تھا: “یااللہ… مجھے امیر نہ بنا، بس اتنا مضبوط بنادے کہ میرے اپنے کبھی مجبور نہ رہیں…”
وقت گزرتا گیا۔ لوگ اُس کا مذاق اُڑاتے رہے، کبھی اُس کے کپڑوں کا،
کبھی اُس کے خوابوں کا۔ مگر وہ خاموش رہا… کیونکہ غریب انسان کو اکثر بولنے کا حق نہیں دیا جاتا۔ پھر ایک دن… اُسی لڑکے نے کامیابی حاصل کر لی۔
بڑا گھر، اچھی گاڑی، عزت، شہرت… سب کچھ مل گیا۔ مگر اس کے کچھ عرصے بعد ہی اُس کی ماں قبر میں جا سوئی۔
وہ ماں، جس نے بھوکی رہ کر بھی اپنے بچوں کو کھلایا تھا۔ جس نے ہر دکھ چھپا کر
صرف دعائیں دی تھیں۔ وہ اُس کی قبر کے پاس بیٹھ کر بچوں کی طرح روتا رہتا…
اور بار بار یہی کہتا:
“امّی… آپ نے کہا تھا نا، ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا… دیکھو… سب ٹھیک ہو گیا… بس آپ نہیں ہو…”
زندگی کا سب سے بڑا دکھ غربت نہیں ہوتا… بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے، جب آپ کامیاب تو ہو جاتے ہیں مگر وہ لوگ ساتھ نہیں ہوتے، جن کے لیے آپ نے سب کچھ برداشت کیا تھا۔