کیا واقعی بجلی سستی ہورہی ہے؟

عبدالعزیز بلوچ


وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کی جانب سے یہ اعلان کہ حکومت نے آئی پی پیز ماڈل کو آئندہ کے لیے دفن کردیا ہے اور بجلی کو اس حد تک سستا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ لوگ اضافی بجلی بیٹریوں میں محفوظ کرکے رات کو استعمال کرسکیں، بظاہر یہ ایک انقلابی سوچ معلوم ہوتی ہے۔ اگر حکومت واقعی اپنے ان دعوؤں کو عملی شکل دینے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ صرف ایک پالیسی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کے لیے عظیم خدمت ثابت ہوگی۔
پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے توانائی بحران کا شکار ہے۔ مہنگی بجلی، لوڈشیڈنگ، گردشی قرضے اور آئی پی پیز کے بھاری معاہدے عوام اور معیشت دونوں پر بوجھ بن چکے ہیں۔ ایک عام شہری کی تنخواہ کا بڑا حصہ بجلی کے بلوں میں چلا جاتا ہے جب کہ صنعتیں بھی مہنگی بجلی کے باعث شدید مشکلات کا سامنا کرتی ہیں۔ ایسے میں اگر بجلی واقعی سستی ہوجاتی ہے تو اس کے مثبت اثرات پورے ملک پر مرتب ہوں گے۔
حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ اب بڑے پیمانے پر نئے آئی پی پیز منصوبے نہیں لگائے جائیں گے، پالیسی میں بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ ماضی میں کیے گئے کئی معاہدوں نے قومی خزانے پر بھاری بوجھ ڈالا اور عوام مہنگی بجلی خریدنے پر مجبور ہوئے۔ اگر حکومت اس بوجھ کو کم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے نہ صرف گردشی قرضوں میں کمی آئے گی، بلکہ بجلی کے نرخ بھی نیچے آسکتے ہیں۔
اسی طرح اسمارٹ میٹرز، نجی شعبے کی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بات بھی مثبت پیش رفت ہے۔ دنیا بھر میں توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جارہا ہے اور پاکستان اگر اس سمت میں آگے بڑھتا ہے تو یہ وقت کی اہم ضرورت ہوگی۔ تاہم اس کے لیے شفاف نظام، مضبوط نگرانی اور مستقل مزاجی ناگزیر ہے، ورنہ اچھی پالیسیاں بھی صرف بیانات تک محدود رہ جاتی ہیں۔
سب سے اہم نکتہ بجلی کو اتنا سستا کرنے کا دعویٰ ہے کہ لوگ اسے بیٹریوں میں محفوظ کرسکیں۔ اگر یہ خواب حقیقت بن جاتا ہے تو عام آدمی کی زندگی میں حقیقی آسانی پیدا ہوگی۔ لوگ دن کے وقت سستی بجلی استعمال کرکے رات کے لیے توانائی محفوظ کرسکیں گے۔ اس سے گھریلو اخراجات کم ہوں گے، کاروبار کو فائدہ ہوگا اور چھوٹے صنعتکار بھی ریلیف محسوس کریں گے۔
پاکستان میں مہنگی بجلی صرف شہریوں ہی نہیں بلکہ زراعت اور صنعت کے لیے بھی بڑا مسئلہ ہے۔ کسان ٹیوب ویل چلانے کے اخراجات سے پریشان ہیں جبکہ صنعتکار پیداواری لاگت بڑھنے کے باعث عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کرپاتے۔ اگر حکومت صنعت اور زراعت کو سستی بجلی فراہم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے ملکی برآمدات بڑھ سکتی ہیں، روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں اور معیشت مضبوط ہوسکتی ہے۔
تاہم حقیقت یہ بھی ہے کہ صرف دعووں سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ پاکستان کے توانائی نظام میں ترسیلی نقصانات، بجلی چوری، مہنگا ایندھن اور ادارہ جاتی کمزوریاں اب بھی موجود ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے سخت فیصلے اور عملی اقدامات درکار ہوں گے۔ اگر اصلاحات شفاف انداز میں نافذ نہ ہوئیں تو نج کاری اور نئے منصوبے مزید تنازعات کو جنم دے سکتے ہیں۔
عوام اب صرف اعلانات نہیں بلکہ نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ مہنگائی سے پریشان شہری اس انتظار میں ہیں کہ کب بجلی کے بل کم ہوں گے اور کب ان کی مشکلات میں حقیقی کمی آئے گی۔ اگر حکومت واقعی توانائی کے شعبے میں بڑی اصلاحات لانے اور بجلی کو سستا کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو یہ موجودہ حکومت کا سب سے بڑا کارنامہ شمار ہوگا۔
پاکستان کا روشن مستقبل سستی توانائی، مضبوط پالیسیوں اور شفاف حکمرانی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر یہ منصوبے عملی کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو نہ صرف عوام کی مشکلات کم ہوں گی بلکہ ملک معاشی استحکام کی جانب بھی تیزی سے بڑھ سکے گا۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔