جب خواب بڑے ہوں۔۔۔

مہروز احمد

وہ بچہ روزانہ پرانی جوتیوں میں اسکول جاتا تھا… جوتوں کے تلے سے زمین صاف نظر آتی تھی، مگر اس کی آنکھوں میں خواب بہت بڑے تھے۔ وہ جب کلاس میں بیٹھتا تو خاموش رہتا، نہ زیادہ بولتا، نہ کسی سے جھگڑا کرتا مگر اس کی کاپی میں لفظوں کے ساتھ امید لکھی ہوتی تھی۔
اس کے ابو مزدور تھے، جو صبح اندھیرے میں نکل جاتے اور رات کو تھکے ہارے واپس آتے۔ گھر میں اکثر چولہا بھی پورا نہیں جلتا تھا، مگر اس کے ابو کی ایک ہی بات تھی: “بیٹا، ہم غریب ضرور ہیں، مگر تمہیں چھوٹا نہیں بننے دینا۔”
وہ بچہ اکثر سوچتا، کیا میں بھی کبھی کچھ بن سکوں گا؟ کیا میرے خواب بھی پورے ہوسکتے ہیں؟ یا میں بھی ہمیشہ اسی گلی، اسی غربت اور اسی خاموشی میں گم رہ جاؤں گا؟ اس کی ماں اس کی سب سے بڑی طاقت تھی۔ وہ خود بھوکی رہ لیتی مگر بچے کو روٹی کھلاتی۔ جب وہ رات کو پڑھتا تو ماں اس کے پاس بیٹھی رہتی، چاہے اس کی آنکھیں نیند سے بند ہورہی ہوتیں۔ وہ کہتی: “بیٹا، تم پڑھو، شاید تمہاری کتابیں ہی ہماری قسمت بدل دیں۔” ایک دن اسکول میں ٹیچر نے سب بچوں سے پوچھا: “تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟” کسی نے ڈاکٹر کہا، کسی نے انجینئر، سب کے خواب بول رہے تھے۔
جب اس بچے کی باری آئی تو وہ خاموش رہا، پھر آہستہ سے بولا: “میں وہ بننا چاہتا ہوں جو میرے ابو کو کبھی جھکنے نہ دے اور میری ماں کو کبھی بھوکا نہ سونے دے۔” کلاس میں خاموشی چھا گئی… کچھ بچوں نے ہنس کر اسے نظرانداز کردیا، مگر ٹیچر کی آنکھیں بھر آئیں۔
وقت گزرتا گیا، حالات آسان نہیں ہوئے۔ کبھی بجلی چلی جاتی، کبھی کتابیں خریدنے کے پیسے نہیں ہوتے، کبھی وہ بھوکا ہی سوجاتا۔ مگر وہ رک نہیں سکا۔ وہ ہر مشکل کو اپنی سیڑھی بناتا گیا۔ ایک رات وہ صرف ایک چراغ کی روشنی میں پڑھ رہا تھا۔ اس کی ماں نے کہا: “آرام کرلو بیٹا…” اس نے جواب دیا: “اماں، اگر میں آج سوگیا تو شاید کل میرا خواب بھی سوجائے گا۔”
یہ جملہ صرف ایک بچہ نہیں بول رہا تھا، یہ ایک پوری نسل کی خاموش چیخ تھی۔ پھر وہ دن آیا… جب اس نے امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ گاؤں میں پہلی بار کسی بچے نے اتنے نمبر لیے تھے مگر اس کی خوشی نمبروں کی نہیں تھی، اس کی خوشی ماں کے آنسو تھے جو پہلی بار خوشی کے تھے، دکھ کے نہیں۔
اس کے ابو نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور بس اتنا کہا: “آج مجھے لگ رہا ہے میں واقعی زندہ ہوں…” یہ جملہ ایک باپ کے برسوں کے دکھ کا خلاصہ تھا۔
آج وہ بچہ بڑا ہو چکا ہے… مگر وہ آج بھی نہیں بھولا کہ اس نے کیسے ننگے پاؤں خوابوں کا سفر شروع کیا تھا۔ وہ کہتا ہے: “کامیابی ان لوگوں کے دروازے پر دستک دیتی ہے جو درد کو ہار نہیں سمجھتے بلکہ ہتھیار بنا لیتے ہیں۔”
زندگی نے اسے بہت کچھ دیا… عزت، مقام، پہچان… مگر اس نے کبھی اپنی ماں کی وہ دعائیں نہیں بھلائیں جو رات کے اندھیرے میں آنسوؤں کے ساتھ نکلتی تھیں۔
آج جب وہ کسی غریب بچے کو دیکھتا ہے تو اسے اپنا بچپن یاد آ جاتا ہے… اور وہ دل ہی دل میں کہتا ہے: “اگر میں بدل سکتا ہوں تو تم کیوں نہیں؟”
یہ کہانی صرف ایک بچے کی نہیں… یہ ہر اس انسان کی ہے جو ٹوٹ کر بھی اٹھنے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ کیونکہ اصل طاقت پیسے میں نہیں… اصل طاقت اس یقین میں ہے جو اندھیرے میں بھی کہتا ہے: “میں کر سکتا ہوں…”
اور یاد رکھو… جو آنسو آج تمہارے ہیں، وہی کل تمہاری کامیابی کی سب سے بڑی کہانی بن سکتے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔