خواب یا حقیقت

اسد احمد

استنبول کی بارش ہمیشہ عجیب ہوتی ہے… جیسے آسمان بھی کسی کی کہانی سن کر رو رہا ہو۔
بوسفورس کے کنارے ایک لڑکا روز بیٹھا کرتا تھا۔ نام تھا حمزہ۔ ہاتھ میں پرانی سی ڈائری، آنکھوں میں خواب… اور دل میں ایک ایسا درد جسے وہ کسی کو بتا نہیں پاتا تھا۔ وہ پاکستان سے آیا تھا، بڑے خواب لے کر، لیکن حقیقت نے اسے ایک چھوٹے سے ہوٹل کے کچن تک محدود کر دیا تھا۔
دن بھر برتن دھوتا، رات کو اسی کنارے آکر بیٹھ جاتا۔ کبھی دور جاتی کشتیوں کو دیکھتا، کبھی پانی میں اپنا عکس… اور خود سے پوچھتا، "کیا میں واقعی اسی کے لیے یہاں آیا تھا؟”
ایک دن بارش بہت تیز تھی۔ لوگ بھاگ رہے تھے، لیکن حمزہ وہیں بیٹھا رہا۔ اس کی ڈائری بھیگ رہی تھی۔ اچانک ایک بوڑھا شخص اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ سفید داڑھی، تھکی ہوئی آنکھیں… لیکن مسکراہٹ عجیب پُرسکون۔
اس نے حمزہ کی ڈائری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا، "کیا تم اپنے خواب لکھتے ہو… یا اپنے ڈر؟”
حمزہ چونک گیا۔ کچھ لمحے خاموش رہا، پھر بولا، "پہلے خواب لکھتا تھا… اب بس ڈر لکھتا ہوں۔”
بوڑھا ہنس پڑا، لیکن اس ہنسی میں درد تھا۔ "استنبول ایک ایسا شہر ہے جہاں لوگ یا تو خود کو ڈھونڈ لیتے ہیں… یا ہمیشہ کے لیے کھو دیتے ہیں۔”
حمزہ نے پہلی بار کسی کی آنکھوں میں اپنی کہانی دیکھی۔ "اور آپ؟ آپ نے کیا پایا؟”
بوڑھے نے بوسفورس کی طرف دیکھا، جیسے ماضی کو پڑھ رہا ہو۔ "میں نے سب کچھ کھو دیا… تب جا کر خود کو پایا۔”
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور جاتے جاتے حمزہ کی ڈائری بند کردی۔ "کل سے ڈر لکھنا بند کر دو… ورنہ تمہاری کہانی بھی ادھوری رہ جائے گی۔”
اگلے دن حمزہ پھر وہیں آیا… لیکن اس بار اس نے ڈائری کھولی اور پہلی بار لکھا:
"میں ہار نہیں مانوں گا۔”
مہینے گزر گئے۔ وہی لڑکا جو کبھی برتن دھوتا تھا، اب چھوٹے چھوٹے ویڈیوز بنا کر لوگوں کو اپنی کہانی سنانے لگا۔ اس کی سچائی، اس کا درد… لوگوں کے دلوں تک پہنچنے لگا۔ وہ سوشل میڈیا پر مقبول ہوچکا تھا۔ اُسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ وہ معقول آمدن حاصل کررہا تھا۔
ایک دن وہی کنارے پر کھڑا تھا، لیکن اس بار اس کے پاس ہزاروں لوگوں کے پیغامات تھے، "تمہاری کہانی نے ہمیں ہمت دی۔”
حمزہ کی آنکھوں میں آنسو تھے… لیکن اس بار یہ کمزوری کے نہیں، جیت کے آنسو تھے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا… بارش رک چکی تھی۔
اور اسے اچانک وہ بوڑھا یاد آیا… وہ شخص جو شاید کبھی تھا ہی نہیں… یا شاید اللہ کی طرف سے ایک اشارہ تھا۔
حمزہ مسکرایا، اور آہستہ سے بولا، "استنبول… تم نے مجھے خود سے ملا دیا۔”
اور سچ یہی ہے… کبھی کبھی ہم اپنے خوابوں کے شہر میں نہیں، بلکہ اپنی ٹوٹی ہوئی حالت میں خود کو پاتے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔