راکھ سے اٹھتا خواب

وقاص بیگ

یہ کہانی کسی افسانوی دنیا کی نہیں، نہ ہی کسی فلمی ہیرو کی ہے۔ یہ کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جو روزمرہ زندگی کی سخت حقیقتوں میں جیتا ہے، جہاں خواب سہولت سے نہیں بلکہ قیمت دے کر خریدے جاتے ہیں۔ اس کا نام دانش تھا۔
دانش ایک ایسے محلے میں پیدا ہوا جہاں زندگی سانس نہیں لیتی، صرف گزارا کرتی ہے۔ تنگ گلیاں، بوسیدہ دیواریں، بجلی کی آنکھ مچولی اور ہر گھر میں ایک ہی سوال، آج کھانا کہاں سے آئے گا؟
اس کا باپ ایک فیکٹری میں مزدور تھا، جہاں جسم کی تھکن کی کوئی قیمت نہیں تھی۔ ماں دوسروں کے گھروں میں کام کرتی تھی، جہاں عزت صرف اس وقت تک ملتی تھی جب تک آپ چپ رہیں۔ دانش ان حالات میں بھی پڑھنے میں تیز تھا، مگر اس کی ذہانت اس کے حالات سے ہر روز ہار رہی تھی۔
اس کے اندر ایک خواب تھا، وہ ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ مگر یہ خواب اس کے لیے خواہش نہیں تھا، یہ اس کے لیے ایک بوجھ تھا، ایک ایسی چیز جو ہر روز اسے یاد دلاتی تھی کہ وہ کتنا غریب ہے۔
اس کے اسکول میں اکثر وہ بچوں کو نئی کتابیں خریدتے دیکھتا، نئے جوتے، یونیفارم اور وہ خود پرانی کاپیوں کے آخری صفحات پر زندگی لکھتا تھا۔ ایک دن اسکول میں اعلان ہوا کہ فیس جمع نہ کروانے والے طلبہ کو کلاس سے نکال دیا جائے گا۔ یہ جملہ عام سا تھا، مگر دانش کے لیے یہ فیصلہ کن تھا۔
اس نے گھر آ کر اپنے باپ کو بتایا۔ باپ نے خاموشی سے سنا۔ پھر جیب سے کچھ سکے نکالے، گنے، دوبارہ گنے اور پھر مٹھی بند کر لی۔ وہ جانتا تھا یہ کافی نہیں۔ رات کو وہ مزدوری کے لیے پھر باہر چلا گیا، مگر اس رات جب واپس آیا تو اس کی چال تھکی ہوئی نہیں تھی، ٹوٹی ہوئی تھی۔ اس نے دانش سے کہا: “بیٹا… اس مہینے فیس نہیں جا سکتی…” یہ جملہ صرف الفاظ نہیں تھے، یہ ایک دروازہ بند ہونا تھا۔
اگلے دن دانش اسکول نہیں گیا اور یوں اس کی زندگی کا ایک حصہ ہمیشہ کے لیے رک گیا۔
اس نے دکان پر کام شروع کردیا۔ دن بھر وہ بوریاں اٹھاتا، صفائی کرتا، گاہکوں کی آوازیں سنتا اور اپنے اندر دبے ہوئے خواب کو دفن کرنے کی کوشش کرتا۔ مگر خواب اتنی آسانی سے نہیں مرتے، وہ بس خاموش ہوجاتے ہیں۔ لوگ اس پر ہنستے تھے: “ڈاکٹر بننے کا شوق تھا نا؟ اب دیکھ لو حقیقت کیا ہے۔” یہ جملے اس کے جسم کو نہیں، اس کے اندر کی عزت کو زخمی کرتے تھے۔
ایک دن دکان پر ایک بوڑھا شخص آیا۔ بیمار، کمزور، سانس پھولتی ہوئی حالت میں۔ اس نے پانی مانگا۔ دانش نے پانی دیا۔ بوڑھے نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا: “تم صرف یہاں کام نہیں کررہے… تم کہیں اور پھنسے ہوئے ہو۔” یہ جملہ اس کے اندر تیر کی طرح اتر گیا۔
اسی رات پہلی بار دانش نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی کہانی ختم نہیں ہونے دے گا۔
وہ راتیں بدل گئیں۔ اب وہ دکان کے بعد سیدھا گھر نہیں جاتا تھا۔ وہ ایک پرانی لائبریری کے باہر بیٹھتا، جہاں ایک ریٹائرڈ لائبریرین اسے اندر آنے دیتا۔ وہاں وہ پرانی، گرد آلود کتابوں میں اپنی نئی زندگی تلاش کرتا۔ یہ آسان نہیں تھا۔ کبھی آنکھیں بند ہوجاتی تھیں، کبھی بھوک برداشت سے باہر ہوجاتی تھی، کبھی دل کہتا تھا کہ چھوڑ دے مگر وہ ہر بار خود کو ایک ہی سوال پوچھ کر روک لیتا: “اگر میں نے بھی ہار مان لی تو پھر میرے بعد کون؟”
کئی سال گزر گئے۔ زندگی نے اسے بار بار توڑا۔ کبھی فیس نہ ہونے پر داخلہ رُکا، کبھی کتابیں نہ ہونے پر پڑھائی۔ کبھی باپ کی بیماری نے سب کچھ روک دیا۔ پھر وہ دن آیا جب اس کے باپ کا انتقال ہوگیا۔ جنازے کے بعد وہ قبر کے پاس بیٹھا رہا۔ خاموش۔ بے حرکت۔
پھر پہلی بار اس کی آواز ٹوٹی: “آپ نے کہا تھا صبر کرو… میں نے کیا… مگر ابھی تک کچھ نہیں بنا…” یہ وہ لمحہ تھا جہاں زیادہ تر لوگ ختم ہو جاتے ہیں۔
مگر دانش ختم نہیں ہوا۔ وہ اٹھا اور اس نے خود سے کہا: “اب یہ سفر رُکے گا نہیں، چاہے قیمت کچھ بھی ہو۔”
اس نے دوبارہ پڑھائی شروع کی۔ محنت مزدوری، دن رات کی جدوجہد اور ایک ایسی ضد جو اَب خواب نہیں رہی تھی، ضرورت بن چکی تھی۔
اس بار وہ صرف پڑھ نہیں رہا تھا، وہ لڑ رہا تھا، اپنے ماضی سے، اپنی غربت سے اور اس نظام سے جو غریب کو ہمیشہ پیچھے رکھتا ہے۔ وقت گزرتا گیا۔ اور ایک دن وہ آیا جب دانش ڈاکٹر بن گیا۔
ہسپتال کے سفید کمروں میں جب اس نے پہلی بار قدم رکھا تو وہ جیتا نہیں تھا، ٹوٹ کر دوبارہ بنا تھا۔ اس کی آنکھوں میں خوشی نہیں تھی، آنسو تھے، کیونکہ یہ کامیابی آسان نہیں تھی، یہ قربانیوں کا قبرستان عبور کرکے ملی تھی۔
اس کی پہلی ڈیوٹی پر ایک عورت اپنے بچے کے ساتھ آئی۔ بچہ شدید بیمار تھا۔ عورت کے پاس پیسے نہیں تھے۔ وہ رو رہی تھی: “ڈاکٹر صاحب… میں کچھ نہیں دے سکتی…” دانش نے بچے کو دیکھا۔ لمحہ بھر کو وہ خاموش ہوگیا۔ پھر اس نے کہا: “اس کا علاج ہوگا… اور اگر ضرورت پڑی تو میں خود خرچ کروں گا۔”
اس لمحے اس نے صرف ایک مریض نہیں بچایا، اس نے اپنے ماضی کے ہر ٹوٹے ہوئے لمحے کا قرض چکایا۔
کچھ سال بعد وہ ایک ماہر سرجن بن چکا تھا مگر وہ کبھی اپنا اصل نہیں بھولا تھا۔ وہ اکثر نوجوان ڈاکٹروں سے کہتا: “میں ذہین نہیں تھا… میں صرف ہار ماننے سے ڈرتا تھا۔”
زندگی ہر کسی کو ایک جیسے مواقع نہیں دیتی۔ کچھ لوگ آسان راستوں پر چلتے ہیں، کچھ کانٹوں پر مگر فرق راستے کا نہیں ہوتا، فرق ہار ماننے اور نہ ماننے کا ہوتا ہے۔دانش کی کہانی یہ نہیں کہ وہ ڈاکٹر بن گیا۔ اصل کہانی یہ ہے کہ وہ اُس دن بھی نہیں رُکا جب سب کچھ ختم ہوچکا تھا۔ کیونکہ بعض لوگ حالات سے نہیں مرتے… وہ تب مرتے ہیں جب وہ ہار مان لیتے ہیں۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔