منشیات کو ہر صورت شکست دینی ہوگی

مہروز احمد
پاکستان میں منشیات کے خلاف جنگ جاری ہے، گزشتہ دنوں اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) نے ملک کے مختلف شہروں میں کامیاب کارروائیاں کرتے ہوئے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی اور متعدد ملزمان کو گرفتار کیا۔ حیدرآباد، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ سمیت مختلف علاقوں میں کی گئی ان کارروائیوں سے نہ صرف منشیات فروش نیٹ ورکس کی وسعت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اے این ایف اس ناسور کے خلاف سنجیدگی سے برسرپیکار ہے۔ ان اقدامات سے یہ پیغام ملتا ہے کہ ریاستی ادارے منشیات کے خاتمے کے لیے پُرعزم ہیں۔
برآمد ہونے والی منشیات میں ہیروئن، چرس، افیون، آئس (کرسٹل میتھ) اور زینیکس کی گولیاں شامل ہیں، جو اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ منشیات کا رجحان اب صرف روایتی اشیاء تک محدود نہیں رہا۔ خاص طور پر آئس اور غیر قانونی ادویہ کا بڑھتا ہوا استعمال ایک خطرناک صورت حال کو جنم دے رہا ہے۔ یہ نہ صرف نوجوانوں کی صحت کو تباہ کرتا، بلکہ ذہنی و معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنتا ہے۔ منشیات فروش نئے طریقوں اور جدید نشہ آور اشیاء کے ذریعے نوجوان نسل کو نشانہ بنارہے ہیں، جو انتہائی تشویش ناک ہے۔
مزید افسوس ناک بات کہ گرفتار ہونے والے بعض ملزمان نے تعلیمی اداروں کے طلبہ کو منشیات فروخت کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ یہ انکشاف اس بات کا ثبوت ہے کہ منشیات فروشوں نے اب اپنے جال تعلیمی اداروں تک پھیلادیے ہیں۔ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور انہیں اس لعنت میں دھکیلنا درحقیقت پورے معاشرے کو کھوکھلا کرنے کے مترادف ہے۔ اس صورت حال میں تعلیمی اداروں، والدین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مل کر فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
اگرچہ انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت قانونی کارروائی ایک اہم قدم ہے، لیکن یہ مسئلے کا مکمل حل نہیں۔ اس کے لیے ایک جامع حکمت عملی درکار ہے، جس میں روک تھام، آگاہی اور بحالی کے اقدامات شامل ہوں۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات چلائی جائیں، طلبہ کو منشیات کے نقصانات سے آگاہ کیا جائے اور والدین اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں۔ نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں، جیسے کھیل، تعلیم اور تخلیقی مشاغل کی طرف راغب کرنا بھی انتہائی ضروری ہے۔
اس حوالے سے اے این ایف کی کارکردگی قابلِ تعریف ہے۔ محدود وسائل کے باوجود یہ ادارہ پیشہ ورانہ مہارت اور عزم کے ساتھ اپنی ذمے داریاں نبھا رہا ہے۔ حالیہ کارروائیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اے این ایف نہ صرف منشیات فروشوں کے خلاف مؤثر کارروائی کررہی ہے بلکہ جدید ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے اس جنگ کو مزید مضبوط بنارہی ہے۔ ایسے اقدامات ادارے کی سنجیدگی اور محنت کو ظاہر کرتے ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ منشیات کا کاروبار ایک بین الاقوامی نیٹ ورک سے جڑا ہوا ہے، جسے صرف مقامی سطح پر ختم کرنا ممکن نہیں۔ اس کے لیے عالمی سطح پر تعاون، معلومات کا تبادلہ اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ پاکستان کو بھی اس سلسلے میں دیگر ممالک کے ساتھ روابط مضبوط بنانے ہوں گے، تاکہ اس خطرے کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔
معاشرتی سطح پر بھی اس ناسور کے خلاف متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا، اساتذہ، مذہبی رہنما اور سول سوسائٹی کو مل کر عوام میں شعور بیدار کرنا ہوگا۔ جب تک معاشرہ خود اس برائی کے خلاف کھڑا نہیں ہوگا، اس کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔ نوجوانوں کو مثبت اور صحت مند سرگرمیوں کی طرف راغب کرکے ہی ہم انہیں اس دلدل سے بچا سکتے ہیں۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اے این ایف کی حالیہ کارروائیاں قابلِ تحسین ہیں اور یہ ایک مثبت پیش رفت کی عکاس ہیں۔ تاہم یہ جدوجہد ابھی جاری ہے اور اصل کامیابی اُس وقت حاصل ہوگی جب منشیات کی طلب اور رسد دونوں میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تاکہ ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک پاکستان کا خواب حقیقت بن سکے۔