خود کی تلاش

وقاص بیگ
شہر کی اونچی عمارتوں کے بیچ ایک پرانا سا فلیٹ تھا، جہاں زاہد اکیلا رہتا تھا۔ عمر قریباً چالیس سال کے قریب، مگر چہرہ 50 سال کے فرد سے بھی زیادہ تھکا ہوا لگتا تھا۔ آنکھوں میں نیند کم اور سوچ زیادہ رہتی تھی۔ زاہد کبھی ایک کامیاب بینکر تھا۔ اچھی نوکری، اچھی تنخواہ اور خوبصورت زندگی۔ مگر وقت نے سب کچھ بدل ڈالا۔ ایک غلط فیصلے نے اس کی نوکری چھین لی، پھر اعتماد اور رشتے… اور آخر میں خود پر یقین بھی۔
بیوی چھوڑ گئی تھی۔ کہہ کر گئی تھی، “تمہارے ساتھ صرف مشکلات ہیں، خواب نہیں۔” اور وہ خواب، جو کبھی دونوں نے مل کر دیکھے تھے، اب صرف یادیں بن چکے تھے۔ زاہد اب ایک چھوٹے سے کمرے میں رہتا تھا، جہاں پنکھا بھی آواز کے ساتھ چلتا تھا اور دیواروں پر نمی کے نشان تھے۔ مگر اس کی اصل جنگ باہر نہیں، اندر تھی، اپنے آپ سے۔ زاہد چھوٹی موٹی ملازمت کرکے گزارا کرتا تھا۔ سردی کی ایک رات تھی۔ باہر بارش ہورہی تھی۔ زاہد نوکری سے واپس آرہا تھا کہ راستے میں ایک بوڑھا آدمی سڑک کنارے بیٹھا کانپ رہا تھا۔ نہ جیکٹ تھی، نہ چھت، نہ کوئی ساتھ۔ لوگ گزر رہے تھے، مگر کوئی رک نہیں رہا تھا۔
زاہد نے بھی پہلے نظرانداز کیا۔ وہ خود تھکا ہوا تھا، خود ٹوٹا ہوا تھا۔ اس نے دل میں کہا، “میں خود اپنی زندگی نہیں سنبھال پارہا، کسی اور کو کیا سنبھالوں گا؟” مگر چند قدم چلنے کے بعد وہ رک گیا۔ واپس آیا اور بغیر کچھ کہے اپنی جیکٹ اتار کر اس بوڑھے کے کندھوں پر ڈال دی۔ بوڑھے نے کانپتی آواز میں پوچھا، “تم کیوں کررہے ہو یہ؟ تمہیں کیا ملے گا؟” زاہد نے پہلی بار سچ بولا: “شاید مجھے خود کو واپس تلاش کرنا ہے۔”
اس رات وہ گھر گیا تو اس کے پاس جیکٹ نہیں تھی، مگر عجیب سی گرمی تھی دل میں۔ دن گزرتے گئے۔ زاہد کی زندگی نہیں بدلی فوراً، نہ کوئی معجزہ ہوا۔ مگر وہ اب ہر ہفتے کسی نہ کسی اجنبی کی مدد کرنے لگا۔ کبھی کسی کو کھانا دے دیتا، کبھی کسی بیمار کے لیے دوائی لے آتا، کبھی صرف کسی کی بات سن لیتا۔ ایک دن اس کے پرانے بینک سے فون آیا۔ اسے دوبارہ نوکری کی پیشکش کی گئی مگر اس نے کچھ دیر خاموش رہ کر جواب دیا: “نہیں… میں اب وہاں نہیں آؤں گا جہاں میں نے خود کو کھویا تھا۔” اس نے فون رکھ دیا۔
لوگوں کو لگا وہ پاگل ہوگیا ہے مگر زاہد پہلی بار اپنے اندر مکمل تھا۔ کچھ سال بعد شہر میں ایک چھوٹا سا فلاحی مرکز کھلا۔ وہاں ایسے لوگ آتے تھے جو زندگی میں ٹوٹ چکے تھے، بے روزگار، بے گھر، یا ذہنی طور پر ہارے ہوئے۔ اور اس مرکز کے باہر ایک بورڈ لگا تھا: “یہ جگہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو سمجھتے ہیں کہ وہ ختم ہوچکے ہیں مگر ابھی کہانی باقی ہے۔” یہ مرکز زاہد کی کوششوں سے قائم ہوا تھا۔
افتتاح کے دن کسی نے زاہد سے پوچھا: “تم نے اپنی زندگی کیوں بدل دی؟” وہ مسکرایا اور آہستہ سے بولا: “میں نے کچھ نہیں بدلا، میں نے صرف رک کر خود کو دوبارہ دیکھ لیا۔” یہ کہتے ہوئے پہلی بار اس کی آنکھوں میں سکون تھا، تھکن نہیں۔