مشرق وسطیٰ جنگ، سنگین مضمرات

مہروز احمد

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی اور جنگی ماحول کی لپیٹ میں ہے۔ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تصادم اب دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جارہے ہیں۔ خاص طور پر دبئی بے پناہ متاثر نظر آتا ہے، جہاں کاروبار زندگی تھم سا گیا ہے۔ بیس ہزار سیاح دبئی میں پھنسے ہوئے ہیں۔
گزشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے ہمسایہ ممالک سے معافی مانگنا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ جنگ کے اثرات نہ صرف براہ راست فریقین بلکہ پورے خطے کو متاثر کررہے ہیں۔ تاہم اس معافی کے ساتھ ہی ایران کی قیادت نے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ کے باوجود ہتھیار نہیں ڈالے گا اور اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف سیاسی، معاشی اور عسکری محاذوں پر برسرپیکار رہے ہیں۔ تاہم حالیہ تنازع کی شدت اس لیے زیادہ ہے کیونکہ اس میں اسرائیل بھی براہ راست شامل ہوچکا اور جنگی کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک تک پھیلنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ ایران کی جانب سے بصرہ، متحدہ عرب امارات اور کویت میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوے اور دوسری طرف اسرائیل کے تہران اور دیگر علاقوں پر فضائی حملے اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کا دائرہ مسلسل وسیع ہورہا ہے۔ ایرانی صدر کے خطاب میں جہاں ہمسایہ ممالک کے لیے مصالحتی پیغام تھا، وہیں دشمنوں کے لیے سخت لہجہ بھی نمایاں تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران عرب ممالک سے دشمنی نہیں چاہتا اور اس کے حملوں کا ہدف صرف وہ امریکی اڈے ہیں جو ایران کے خلاف استعمال ہورہے ہیں۔ اس موقف کا مقصد بظاہر یہ ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کو اس جنگ سے دور رکھا جائے اور ایک وسیع علاقائی جنگ سے بچا جاسکے۔
دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی معذرت کو اپنی اور اسرائیل کی عسکری برتری کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کے بیانات میں سخت لہجہ اور ایران کے خلاف مزید کارروائیوں کی دھمکی اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ واشنگٹن اس تنازع کو دباؤ کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔ تاہم تاریخ یہ بتاتی ہے کہ طاقت کے استعمال سے مشرقِ وسطیٰ کے مسائل کم ہونے کے بجائے اکثر مزید پیچیدہ ہوجاتے ہیں۔ اس جنگ کا ایک تشویش ناک پہلو شہری علاقوں پر حملوں کے الزامات ہیں۔ ایران کا کہنا ہے کہ رہائشی علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جب کہ اسرائیل اور امریکا کا مؤقف ہے کہ وہ صرف فوجی اہداف کو نشانہ بنارہے ہیں۔ حقیقت جو بھی ہو، جنگ کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ لبنان میں ایک لاکھ کے قریب افراد کا پناہ گاہوں میں منتقل ہونا اور سیکڑوں اموات اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ تنازع صرف فوجی محاذ تک محدود نہیں رہا۔ خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلتی ہے تو عالمی معیشت بھی شدید متاثر ہوسکتی ہے۔ خلیج کا خطہ دنیا کی توانائی کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔ تیل اور گیس کی تنصیبات یا بحری راستوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کی بڑی طاقتیں بظاہر اس کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کررہی ہیں، تاہم عملی طور پر صورت حال ابھی تک قابو میں نظر نہیں آتی۔ ایران کی جانب سے جدید ڈرونز اور میزائل حملوں کے دعوے اور امریکی و اسرائیلی فضائی کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ دونوں طرف عسکری طاقت کا بھرپور استعمال ہورہا ہے۔ ایسے حالات میں کسی ایک واقعے یا غلط اندازے سے جنگ مزید شدت اختیار کرسکتی ہے۔ خاص طور پر جب مختلف ممالک میں موجود فوجی اڈے اور اتحادی اس تنازع کا حصہ بن جائیں تو خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اس تمام صورت حال میں عالمی برادری کا کردار انتہائی اہم ہوجاتا ہے۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اگر یہ جنگ لمبے عرصے تک جاری رہی تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتی۔ طاقت کے استعمال سے وقتی برتری تو حاصل کی جاسکتی ہے مگر پائیدار امن صرف مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ فریقین کو سمجھنا ہوگا کہ اس تنازع کا پھیلاؤ پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے جنگوں، تنازعات اور سیاسی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ خطہ ایک بار پھر ایک طویل اور خطرناک جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عقل و دانش سے کام لیتے ہوئے تصادم کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے، تاکہ خطے اور دنیا کو ایک نئی تباہی سے بچایا جاسکے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔