چینی سائنس دان نئی قسم کی لیتھیم آئن بیٹری بنانے میں کامیاب
بیجنگ: چینی سائنس دانوں نے ایک نیا جزو تیار کیا ہے، جو لیتھیم آئن بیٹریوں میں طویل عرصے سے موجود رکاوٹ کو دُور کرتے ہوئے برقی گاڑیوں کی رینج کو دُگنا کر دے گا۔
برقی گاڑیوں میں عموماً استعمال ہونے والی لیتھیم بیٹریاں ایک محلول مینلیتھیم سالٹ اور آکسیجن ایٹمز ری ایکشن پر انحصار کرتے ہیں تاکہ بجلی بنے۔
یہ کیمیکل ری ایشن نمک کو تحلیل کرتا ہے، تاکہ لیتھیم آئنز الیکٹرو لائٹ سے گزر سکیں، یہ عمل برقی کرنٹ پیدا کرتا ہے۔ لیکن ان بیٹریوں میں محلول بڑی مقدار میں چاہیے ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے ان بیٹریوں کے سائز میں کمی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ محلول کم درجہ حرارت میں بھی ٹھیک کام نہیں کرتا، جس سے دنیا کے ٹھنڈے حصوں میں اس کی کارکردگی مؤثر نہیں رہتی۔
یہ بیٹریاں 350 واٹ آور فی کلو گرام تک کے قریب ہی توانائی پیدا کرسکتی ہیں۔
جرنل نیچر میں شائع شدہ تحقیق میں محققین کا کہنا تھا کہ نئی بیٹریوں میں روم ٹمپریچر پر یہ کثافت 700 واٹ آور فی کلو گرام سے تجاوز کرسکتی ہے اور منفی 50 ڈگری سیلسیئس پر 400 واٹ آور کلوگرام کے قریب تک پہنچ سکتی ہے۔
نئی بیٹریوں میں فلورینیٹڈ ہائیڈرو کاربن محلول استعمال کیا گیا ہے، جو لیتھیم سالٹس کو مؤثر انداز میں تحلیل کرتا ہے۔