رمضان اور نیک اعمال

اسد احمد
ماہ رمضان اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے بھرا ہوا مقدس مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید نازل فرمایا، جس میں انسان کی روحانی تربیت، اخلاقی اصلاح اور معاشرتی بھلائی کے لیے بے شمار تعلیمات موجود ہیں۔ رمضان صرف روزہ رکھنے کا مہینہ نہیں بلکہ یہ صبر، شکرگزاری، حسنِ سلوک، توبہ اور اللہ کے قرب حاصل کرنے کا بہترین موقع ہے۔
رمضان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ انسان کو صبر سکھاتا ہے۔ روزہ صرف کھانے پینے سے اجتناب نہیں بلکہ یہ نفسانی خواہشات پر قابو پانے، غصہ کنٹرول کرنے اور برے رویے سے بچنے کی مشق بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے (ترجمہ):
“اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بنو۔” (سورۃ البقرہ: 183)
یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ روزہ نہ صرف ایک جسمانی عبادت ہے بلکہ یہ روحانی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔ روزہ انسان کے اندر صبر پیدا کرتا ہے۔ جب ہم بھوک اور پیاس کے باوجود حلال طریقے سے زندگی گزارتے ہیں تو یہ صبر کا عملی مظاہرہ ہے۔ صبر کی یہ تربیت زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی کام آتی ہے، جیسے کہ مشکلات، آزمائشوں اور پریشانیوں میں ثابت قدم رہنا۔
رمضان میں عبادات کا اپنا الگ مقام ہے۔ نماز، قرآن کی تلاوت، ذکرِ الٰہی اور صدقہ و خیرات کے اعمال اس مہینے میں کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: “جو شخص رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے روزہ رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔” (بخاری و مسلم)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ رمضان میں کی جانے والی عبادات اللہ کی نظر میں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ مہینہ اللہ کے قرب حاصل کرنے کا بہترین وقت ہے۔ روزہ انسان کو عاجزی، شکر گزاری اور روحانی سکون عطا کرتا ہے۔ رمضان کا مہینہ حسنِ سلوک کا مہینہ بھی ہے۔ اس دوران انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے خاندان، دوستوں، پڑوسیوں اور معاشرے کے ہر فرد کے ساتھ نرمی، محبت اور احترام کا مظاہرہ کرے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی پوری زندگی حسنِ سلوک سے عبارت ہے۔ آپ ﷺ نے ہر حال میں شائستگی، نرمی اور رحم دلی کے ساتھ لوگوں سے پیش آنے کا درس دیا۔ اسلام میں ہر ایک کے ساتھ حسنِ سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (ترجمہ): “تم سب ایک دوسرے کے ساتھ حسنِ سلوک کرو اور لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے بات کرو۔” (سورۃ النحل: 90)
رمضان میں خاص طور پر یہ ضروری ہے کہ ہم اپنی زبان اور رویے پر قابو رکھیں۔ غصہ، جھوٹ، چغلی اور ناانصافی سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ مہینہ اللہ کی قربت اور روحانی پاکیزگی کا ہے اور حسنِ سلوک کے بغیر عبادات مکمل نہیں ہوتیں۔ رمضان میں صدقہ اور خیرات کا اپنا الگ ثواب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “جو شخص اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا، اللہ اسے اس کا بہتر بدلہ دے گا۔” (سورۃ البقرہ: 245)
یہ مہینہ غرباء، یتیموں اور محتاجوں کے لیے رزق اور راحت کا ذریعہ بھی ہے۔ صدقہ اور خیرات نہ صرف دوسروں کی مدد کرتے ہیں بلکہ دینے والے کے دل کو بھی سکون اور برکت عطا کرتے ہیں۔ رمضان صرف فرد کی روحانی تربیت کا مہینہ نہیں بلکہ یہ معاشرے میں اتحاد، ہم آہنگی اور محبت کا مہینہ بھی ہے۔ لوگ روزانہ افطار کے لیے جمع ہوتے ہیں، ضرورت مندوں کی مدد کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارہ بڑھاتے ہیں۔ اس مہینے میں چھوٹے بڑے، امیر و غریب سب ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔
صبر صرف روزے تک محدود نہیں۔ رمضان ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں صبر کی تربیت دیتا ہے۔ اگر ہم کسی سے ناراض ہوں تو غصہ کو قابو میں رکھنا۔ بھوک اور پیاس کے باوجود شکر ادا کرنا۔ مالی مشکلات کے باوجود صدقہ اور خیرات جاری رکھنا۔ یہ سب رمضان کی عملی تربیت ہیں۔ صبر کے یہ اعمال ہماری روحانی طاقت کو بڑھاتے اور ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب بناتے ہیں۔
رمضان میں عبادت، صبر اور حسنِ سلوک کے امتزاج سے انسان کے دل میں سکون اور نور پیدا ہوتا ہے۔ روزہ انسان کو عاجزی، شکرگزاری اور اللہ کی رضا کی طرف راغب کرتا ہے۔ قرآن کی تلاوت اور ذکرِ الٰہی سے انسان کے دل میں محبت اور روحانی روشنی بڑھتی ہے۔
یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی عارضی خواہشات پر قابو پانا اور اللہ کی رضا حاصل کرنا اصل مقصد زندگی ہے۔ رمضان میں کی جانے والی عبادات اور اعمال انسان کی شخصیت کو نکھارتے ہیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لاتے ہیں۔
رمضان ایک ایسا مہینہ ہے جو صبر، عبادت، حسنِ سلوک اور خیرات کے ذریعے انسان کو بہتر انسان بناتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں اللہ کے قریب لے آتا ہے، ہماری روحانی تربیت کرتا اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔
یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم رمضان کے مہینے میں صبر اور حسنِ سلوک کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، دوسروں کے ساتھ نرمی اور محبت کا رویہ اپنائیں اور اللہ کی رضا کے لیے عبادت اور صدقہ جاری رکھیں۔ ایسا کرنے سے ہم نہ صرف اپنی دنیا کو بہتر بنائیں گے بلکہ آخرت میں بھی کامیابی کے وارث ہوں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کے اس بابرکت مہینے کی قدر کرنے، صبر اور حسنِ سلوک اپنانے اور اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔