والدین کے ساتھ حُسن سلوک

غلام مصطفیٰ

فہد اپنی زندگی کے ہجوم میں گم تھا۔ روزانہ کی مصروفیات، دوستوں کی ملاقاتیں، کاروبار کی دوڑ، اس کو یہ سوچنے کی فرصت ہی نہ تھی کہ گھر میں ایک ایسی دنیا ہے جو بس اس کے لیے جیتی اور مرتی ہے۔ والدین کی محبت، ان کی خاموش دعائیں، فکریں، سب کچھ فہد کے لیے معمول کی باتیں بن چکی تھیں۔
رمضان کا مہینہ تھا۔ شہر کی فضاؤں میں تلاوت کی گونج اور مساجد سے اذان کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، لیکن فہد کا دل کہیں اور تھا۔ روزے رکھ رہا تھا، لیکن روحانی سکون اور اللہ کے قرب کا احساس غائب تھا۔ وہ والدین کے لیے بھی کوئی وقت نہیں نکال پارہا تھا۔ ایک دن رات گئے فہد کو کال آئی کہ اُس کی والدہ کی طبیعت بہت خراب ہے۔ فہد کا دل خوف اور بے چینی سے بھر گیا۔ فوراً اسپتال پہنچا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کی آنکھیں ماں کی بے بسی اور باپ کی خاموش فکریں دیکھ کر نم ہوگئیں۔ ماں کی آنکھوں میں درد کے ساتھ ایک امید کی کرن بھی تھی اور والد خاموشی سے دعا کررہے تھے۔ فہد کا دل جیسے ٹوٹ گیا۔
ماں نے آہستہ سے کہا: "بیٹا… بس دعا کرو، اللہ نے ہماری سن لی ہوگی…” فہد پہلی بار اپنے دل سے سمجھ گیا کہ والدین کی دعائیں کتنی طاقتور ہوتی ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (ترجمہ): والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، کیونکہ یہ سب سے بڑی برکت اور کامیابی کی کنجی ہے۔
فہد رات بھر ماں باپ کے قدموں میں بیٹھا رہا۔ اللہ کے فضل و کرم سے اُس کی والدہ صحت یاب ہوکر گھر آگئیں۔ اسپتال میں گزرے لمحات میں وہ سوچوں میں گم رہا۔ اس نے پہلی بار اپنی زندگی میں حقیقی احساس کیا کہ وقت جو والدین کے لیے دیا جائے، وہ دنیا کی سب سے بڑی دولت ہے۔ اس رات فہد کی آنکھوں سے آنسو بہے، لیکن یہ آنسو پچھتاوے کے نہیں، بلکہ ایک نیا عہد کرنے کے تھے کہ وہ اب کبھی والدین کی دعاؤں اور محبت کو نظرانداز نہیں کرے گا۔
اگلی صبح فہد نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کی ہر مصروفیت میں والدین کے لیے وقت نکالے گا۔ وہ ماں کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنے لگا، باپ کے ساتھ بیٹھ کر نصیحت اور دین کی باتیں کرنے لگا۔ وہ جان گیا کہ والدین کی دعائیں زندگی میں سکون، خوشی اور برکت کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔
ایک دن فہد نے ماں سے کہا: "امی، آپ روزانہ میرے لیے اتنی دعائیں کرتی ہیں… کیا یہ واقعی میری زندگی بدل سکتی ہیں؟” ماں نے آنکھیں نم کرکے جواب دیا: "بیٹا، والدین کی دعا اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل ہے۔ رمضان میں یہ دعائیں اور بھی قبول ہوتی ہیں۔ اللہ کے کرم سے تمہاری تقدیر بدل سکتی ہے، بس دل سے دعا اور خدمت کرو۔”
فہد نے اس بات کو دل و جان سے محسوس کیا۔ اس نے ہر دن اپنے والدین کی خدمت کو عبادت کے برابر سمجھا۔ اب وہ رمضان میں ناصرف روزے رکھتا بلکہ والدین کے ساتھ بھرپور وقت گزارتا، اُن کی دل جوئی کرتا۔ ایک دن فہد نے والد کا ہاتھ تھام کر کہا: "اب سمجھ گیا ہوں، جو سکون اور خوشی میں دنیا میں ڈھونڈ رہا تھا، وہ سب آپ دونوں کی دعاؤں اور محبت میں موجود تھی۔”
باپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور ماں نے فہد کو گلے لگا کر کہا: "بیٹا، بس یہی کافی ہے کہ تم نے سمجھا…”
وقت گزرتا گیا، فہد نے نہ صرف اپنے والدین کے ساتھ تعلق مضبوط کیا بلکہ اپنے دل اور روح کو بھی اللہ کے قریب کر لیا۔ وہ جان گیا کہ زندگی کی اصل برکت والدین کی خدمت، حسن سلوک اور ان کے لیے دعا ہے۔ رمضان نے اسے یہ سبق دیا کہ عبادت صرف بھوک اور پیاس کا صبر نہیں، بلکہ والدین کے ساتھ محبت، احترام اور ان کے حق میں قربانی بھی عبادت ہے۔
اب فہد ہر روز اپنے والدین کے لیے وقت نکالتا ہے۔ اُن کی خدمت اور دل جوئی کرتا تھا۔ وہ جان گیا کہ والدین کے بغیر دنیا کی کوئی کامیابی کوئی سکون نہیں دے سکتی۔ اور ہر رمضان، جب وہ روزے رکھتا اور قرآن کی تلاوت سنتا، وہ ہر بار والدین کے لیے دعا کرتا، کیونکہ اس نے سیکھ لیا تھا کہ والدین کی دعاؤں میں دنیا اور آخرت کی کامیابی چھپی ہے۔
والدین کی محبت اور قربانی کا ہر لمحہ قیمتی ہے۔ ان کے ساتھ حسن سلوک، خدمت، وقت گزارنا اور دعا کرنا زندگی کی سب سے بڑی دولت ہے۔ والدین کے ساتھ محبت، احترام اور حسن سلوک عظیم عبادت ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔