رحمتِ رمضان

وقاص بیگ
رمضان المبارک کی مبارک ساعتیں گزر رہی تھیں۔ شہر کی روشنیاں ان مبارک ساعتوں میں بھلی لگ رہی تھیں مگر ایک تنگ گلی کے آخری کچے دروازے کے پیچھے اندھیرا اپنی پوری خاموشی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اذانِ عشاء کی آواز فضا میں پھیلی تو پورا محلہ افطار اور تراویح کی تیاری میں مصروف ہوگیا، مگر اس گھر کے اندر چولہا دو دن سے ٹھنڈا تھا۔
سلیم کبھی ایک فیکٹری میں مزدور تھا۔ مشین میں ہاتھ آنے کے بعد وہ مستقل کام کے قابل نہ رہا۔ دایاں ہاتھ آدھا رہ گیا اور روزگار بھی۔ اس کی بیوی عائشہ گھروں میں سلائی کرلیتی تھی، لیکن پچھلے مہینے سے آنکھوں کی تکلیف نے سوئی میں دھاگا ڈالنا بھی مشکل کردیا تھا۔ گھر میں دو بچے تھے، بارہ سالہ حمزہ اور دس سالہ مریم، جو اَب سمجھنے لگے تھے کہ غربت صرف پیٹ کی نہیں ہوتی، عزت کی بھی ہوتی ہے۔
اس شام مریم نے خالی پلیٹیں دھو کر الماری میں رکھ دیں، جیسے کوئی رسم ادا کررہی ہو۔ حمزہ نے پوچھا، “امی، آج بھی ہم پانی سے روزہ کھولیں گے؟”
عائشہ نے مسکرا کر کہا، “اللہ بہت بڑا ہے، اُس کے خزانے کبھی خالی نہیں ہوتے۔” مگر سلیم جانتا تھا کہ کبھی کبھی بندہ خود ہی ہمت ہار دیتا ہے۔ وہ افطار سے پہلے مسجد گیا، شاید کسی سے کام کی بات ہوجائے، لیکن واپسی پر اس کی جیب میں صرف شرمندگی تھی۔ لوگ مصروف تھے، سب کے اپنے مسئلے تھے۔ رمضان میں صدقہ بھی بعض اوقات اصل مستحقین تک نہیں پہنچ پاتا اور اکثر اصل محتاج اپنی سفید چادر کی اوٹ میں چھپ جاتے ہیں۔
ادھر شہر کے دوسرے کونے میں زاہد اپنی گاڑی میں بیٹھا ٹریفک میں پھنسا ہوا تھا۔ وہ ایک کامیاب کاروباری شخص تھا۔ اس سال اس نے فیصلہ کیا تھا کہ زکوٰۃ خود جاکر اصل مستحقین تک پہنچائے گا مگر سچ یہ تھا کہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مستحق کون ہے۔ اشتہار بہت تھے، تصویریں بہت تھیں مگر دل مطمئن نہیں تھا۔
اچانک اس کی نظر سڑک کنارے کھڑے حمزہ پر پڑی، جو کسی سے مانگ نہیں رہا تھا، بس خالی ہاتھ گھر لوٹ رہا تھا۔ اس کے چہرے پر وہ سوال تھا جو زبان تک نہیں آتا۔ زاہد نے گاڑی روکی اور اسے بلایا۔
“بیٹا، گھر کہاں ہے؟” حمزہ نے جھجکتے ہوئے گلی کا نام بتایا، پھر فوراً کہا، “ہم مانگتے نہیں، ابو بیمار ہیں بس۔” یہ “ہم مانگتے نہیں” زاہد کے دل میں تیر کی طرح لگا۔ وہ حمزہ کے ہمراہ ہولیا اور اس گلی میں داخل ہوا جہاں روشنی کم اور خاموشی زیادہ تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی۔ حمزہ داخل ہوا اور والدین کو بتایا باہر کوئی آدمی ملنے آیا ہے۔ والدین نے پوچھا کون ہے؟ بیٹے نے کہا، وہ آپ سے ملنا چاہتے ہیں، نیک لگتے ہیں۔ کچھ سوچتے ہوئے سلیم نے اُنہیں اندر بلانے کو کہا۔ اجنبی فرد جھجک کے ساتھ گھر داخل ہوا۔ عائشہ پہلے ہی دوپٹہ سنبھال چکی تھی۔ سلیم نے ادھورے ہاتھ کو پیچھے کرلیا، جیسے اپنی محرومی چُھپا رہا ہو۔
زاہد نے بیٹھتے ہی کوئی لمبی تقریر نہیں کی۔ اس نے صرف اتنا کہا، “میں آپ کا بھائی ہوں۔ آج مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کے ساتھ افطار کروں۔” کچن میں کچھ نہ تھا۔ عائشہ کی آنکھیں بھر آئیں۔ زاہد جان چکا ہے کہ اصل مستحق مجھے مل گئے ہیں۔ زاہد نے کہا، بہن کچھ دیر رُکیں میں آتا ہوں، وہ باہر گاڑی سے سامان لایا، راشن کے تھیلے، دواؤں کے پیکٹ، بچوں کے لیے کپڑے اور ایک لفافہ جس میں اتنی رقم تھی کہ چند ماہ کا سکون آسکے۔ اس نے سلیم کے لیے اپنی فیکٹری میں ہلکے کام کا وعدہ بھی کیا اور عائشہ کے علاج کا انتظام کرنے کی ذمے داری لی۔
مگر اصل معجزہ سامان نہیں تھا۔ اصل معجزہ وہ لمحہ تھا جب سلیم کی آنکھوں سے آنسو بہہ کر اس کے زخمی ہاتھ پر گرے۔ وہ رو رہا تھا، مجبوری پر نہیں، شکر پر۔
“بھائی، ہم نے کبھی ہاتھ نہیں پھیلایا، آج بھی نہیں پھیلایا۔ اللہ نے آپ کو بھیج دیا۔”
اذانِ مغرب ہوئی۔ اس بار افطار صرف کھجور اور پانی سے نہیں تھا، اللہ کی بھیجی گئی نعمتوں کے ساتھ تھا۔ مریم نے پہلی بار پیٹ بھر کر کھایا، مگر اس سے زیادہ اس نے یہ دیکھا کہ اس کے ابو کے چہرے پر کافی عرصے بعد سکون تھا۔ حمزہ نے چپکے سے زاہد کا ہاتھ پکڑ کر کہا، “انکل، میں بڑا ہوکر آپ جیسا بنوں گا… کسی کا روزہ خالی نہیں رہنے دوں گا۔”
سلیم کے گھرانے کی مدد کرنے کے بعد زاہد گاڑی میں بیٹھا تو اس کا دل بہت ہلکا ہوچکا تھا۔ اس نے پہلی بار سمجھا کہ زکوٰۃ صرف حساب کا معاملہ نہیں، احساس کا معاملہ ہے۔ اس رات اس نے آسمان کی طرف دیکھا اور دھیرے سے کہا، “یا اللہ، میں نے تو تھوڑا دیا ہے، اصل دینے والا تو تُو ہے۔”
کچھ مہینوں بعد سلیم دوبارہ کام پر تھا، عائشہ کی آنکھوں کا علاج ہوچکا تھا اور گھر میں چولہا باقاعدگی سے جلنے لگا تھا مگر اس رمضان کی رات ان سب کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگئی۔ انہیں معلوم ہوگیا کہ رزق صرف پیسے کا نام نہیں، یہ امید کا نام ہے، وقار کا نام ہے اور اس یقین کا نام ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو بندوں کے ذریعے سنبھالتا ہے۔
رمضان المبارک ہمیں بھوکا رہنا نہیں سکھاتا، ہمیں کسی کی بھوک محسوس کرنا سکھاتا ہے۔ ہم سب کے آس پاس ایسے دروازے ہیں جو دستک کے منتظر ہیں۔ کچھ گھر مانگتے نہیں، بس ٹوٹنے سے پہلے تھام لیے جانے کی دعا کرتے ہیں۔ شاید اس بار آپ کی دستک کسی سلیم کے آنسو پونچھ دے۔ شاید آپ کے دیے ہوئے چند نوٹ کسی مریم کی زندگی کا پہلا روشن صفحہ بن جائیں اور شاید قیامت کے دن جب اعمال تولے جائیں تو ایک گم نام دروازے پر دی گئی وہ دستک آپ کے حق میں سب سے بھاری ثابت ہو۔ رمضان آتا ہے، گزر جاتا ہے مگر کسی کے گھر میں جلایا گیا دیا ہمیشہ روشنی دیتا رہتا ہے۔