جامعہ کراچی میں سوسائٹی ایٹ رسک سے متعلق سیمینار، ڈاکٹر عمیر ہارون کا فکر انگیز خطاب
کراچی: جامعہ کراچی کے شعبۂ کرمنالوجی کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک فکری و تحقیقی سیمینار “سوسائٹی ایٹ رسک: ایمرجنگ چیلنجز اینڈ دی رول آف اسٹوڈنٹس” کا انعقاد پروفیسر ڈاکٹر نعیمہ سعید کی سربراہی میں کیا گیا، جس میں معروف میڈیا پرسن اور فرانزک ماہر ڈاکٹر عمیر ہارون نے بھی سیر حاصل خطاب کیا، جسے حاضرین محفل کی جانب سے خوب سراہا گیا۔
یہ تقریب جامعہ کراچی کے اسکول آف لا آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی، جس میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس موقع پر فیکلٹی اراکین، محققین اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو عصرِ حاضر کے کرمنالوجیکل مباحث میں گہری دلچسپی کا اظہار تھا۔
ڈاکٹر عمیر ہارون نے اپنے کلیدی خطاب میں جرم کے بارے میں انسانی فہم کے ارتقا پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ جرم کا تصور ابتدائی ادوار میں انتقام اور بدلے کی سادہ سوچ سے شروع ہوا اور وقت کے ساتھ قانون، سماجیات اور سائنسی تحقیق پر مبنی جدید فریم ورک تک پہنچا۔ ان کے مطابق جرم کبھی ایک جامد تصور نہیں رہا، بلکہ مختلف تہذیبوں اور تاریخی ادوار میں اس کی تعریفیں ثقافتی، سیاسی اور قانونی تبدیلیوں کے زیرِ اثر بدلتی رہی ہیں۔

ڈاکٹر عمیر ہارون نے کرمنالوجی کی علمی بنیادوں پر گفتگو کرتے ہوئے اسے فرانزک سائنسز کی مادر شاخ قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ فرانزک سائنس تفتیش کے لیے تکنیکی آلات اور طریقۂ کار فراہم کرتی ہے جب کہ کرمنالوجی مجرمانہ رویوں، ان کے اسباب اور معاشرتی اثرات کو سمجھنے کے لیے نظریاتی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
نظامِ انصاف میں غیر جانب داری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جدید قانونی عمل میں سائنسی شواہد کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے انسانی تاریخ کے دو بڑے سنگِ میلوں کا ذکر کیا: پہلا 1953 میں جب جیمز واٹسن اور فرانسس کرک نے ڈی این اے کی ساخت دریافت کی اور دوسرا جب ہیومن جینوم پروجیکٹ کی تکمیل ہوئی۔ ان کے مطابق ان پیش رفتوں نے انصاف کے نظام میں سائنسی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا۔
ڈاکٹر عمیر ہارون نے اسلامی تناظر میں انصاف کے تصور پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ قرآنِ مجید میں عدل سے متعلق آیات انصاف، احتساب اور اخلاقی ذمے داری کا آفاقی اور دائمی تصور پیش کرتی ہیں۔ انہوں نے اس قرآنی اصول کو خاص طور پر نمایاں کیا، جس میں خود اپنے یا اپنے قریبی عزیزوں کے خلاف بھی انصاف پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسے ایک منصفانہ قانونی و اخلاقی نظام کی طاقتور مثال قرار دیا۔
ڈاکٹر عمیر ہارون نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ اگرچہ جرم کی تعریفیں تاریخ کے مختلف ادوار میں بدلتی رہی ہیں، مگر ظلم ایک مستقل حقیقت کے طور پر ہمیشہ موجود رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں: “جرم کی تعریف معاشرے بدل دیتے ہیں، لیکن جبر کا چہرہ ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔”
انہوں نے اپنی ولولہ انگیز تقریر کا اختتام ان اشعار پر کیا:
حسین تم نہیں رہے تمہارا گھر نہیں رہا
مگر تمہارے بعد ظالموں کا ڈر نہیں رہا