حقوقُ العباد اور کامیابی کا راستہ

غلام مصطفیٰ
اسلام میں عبادات کے ساتھ انسانوں کے باہمی حقوق اور ذمے داریوں کو بھی نہایت اہمیت حاصل ہے۔ ہم عموماً نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ جیسے اعمال کو دین کی بنیاد سمجھتے ہیں، جو یقیناً بنیادی ارکان ہیں مگر ان کے ساتھ حقوقُ العباد کی ادائیگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر بندہ اللہ کے حقوق ادا کرے لیکن لوگوں کے حقوق پامال کرے تو اس کی عبادات بھی خطرے میں پڑسکتی ہیں۔ حقوقُ العباد سے مراد وہ حقوق ہیں جو ایک انسان پر دوسرے انسان کے ذمے ہوتے ہیں۔ یہ حقوق والدین، رشتہ داروں، پڑوسیوں، یتیموں، مسکینوں، ملازمین، حتیٰ کہ عام راہ چلنے والوں تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اسلام نے انسانی معاشرے کو محبت، انصاف اور رحم دلی پر قائم کرنے کے لیے ان حقوق کو بڑی وضاحت سے بیان کیا ہے۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (ترجمہ): بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صرف انصاف ہی نہیں بلکہ احسان بھی مطلوب ہے، یعنی دوسروں کے ساتھ بھلائی اور نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ محمد ﷺ نے حقوقُ العباد کی ادائیگی پر بہت زور دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔” اس حدیث میں ہمیں ایک جامع اصول ملتا ہے: کسی کو نقصان نہ پہنچانا ہی دین کی بنیاد ہے۔ ایک اور حدیث میں آپ ﷺ نے مفلس شخص کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا مگر اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا یا کسی کو مارا ہوگا۔ پھر اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی اور اگر نیکیاں ختم ہوجائیں تو ان کے گناہ اس پر ڈال دیے جائیں گے۔ یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ لوگوں کے حقوق کی پامالی کتنی خطرناک ہے۔
حقوقُ العباد میں سب سے پہلے والدین کا حق آتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے ساتھ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ ان کے سامنے اف تک نہ کہنا، نرمی سے بات کرنا، ان کی خدمت کرنا اور ان کے لیے دعا کرنا ایمان کی علامت ہے۔ جو شخص اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، وہ دراصل جنت کی راہ ہموار کرتا ہے۔
اسلام میں صلہ رحمی یعنی رشتہ داری جوڑنا بہت بڑی نیکی ہے۔ اسی طرح پڑوسیوں کے حقوق بھی نہایت اہم ہیں۔
اسلام نے معاشرے کے کمزور طبقات کی خصوصی حفاظت کی ہے۔ یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھنا، مسکین کو کھانا کھلانا اور ضرورت مند کی مدد کرنا اللہ کو بہت محبوب عمل ہے۔ جو شخص دوسروں کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی مدد فرماتے ہیں۔ یہ دنیا دراصل امتحان گاہ ہے جہاں ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی کا ذریعہ بن کر کامیاب ہوسکتے ہیں۔
حقوقُ العباد میں مالی معاملات کی دیانت داری بھی شامل ہے۔ ناپ تول میں کمی کرنا، دھوکا دینا، رشوت لینا یا کسی کا حق دبانا سنگین گناہ ہیں۔ اسلام تجارت اور کاروبار کو عبادت قرار دیتا ہے، بشرطیکہ وہ دیانت داری اور سچائی پر مبنی ہو۔ سچا اور امانت دار تاجر قیامت کے دن انبیاء اور صدیقین کے ساتھ ہوگا، یہ بہت بڑی خوشخبری ہے۔
لوگوں سے تعلقات میں کبھی نہ کبھی اختلاف اور تکلیف پیش آتی ہے، مگر اسلام ہمیں معاف کرنے اور درگزر کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: “جو معاف کر دے اور اصلاح کرے، اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔” معافی دل کو سکون دیتی ہے اور معاشرے میں محبت کو فروغ دیتی ہے۔
حقوقُ العباد کی بنیاد اچھے اخلاق ہیں۔ نرم لہجہ، مسکراہٹ، سچائی، وعدے کی پابندی اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا، یہ اعمال انسان کو اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ محمد ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے سب سے قریب وہ ہوگا جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں گے۔ اس سے بڑھ کر ترغیب اور کیا ہوسکتی ہے؟
ہم اپنی روزمرہ زندگی میں کئی طریقوں سے حقوقُ العباد ادا کرسکتے ہیں: کسی کا دل نہ دکھانا، ضرورت مند کی خاموشی سے مدد کرنا، سچ بولنا اور وعدہ پورا کرنا، ملازمین کے ساتھ نرمی اور انصاف سے پیش آنا، سوشل میڈیا پر کسی کی عزت پامال نہ کرنا، یہ چھوٹے چھوٹے اعمال دراصل بڑی نیکیوں کا ذریعہ بنتے ہیں۔
حقوقُ العباد دراصل دین کی روح ہیں۔ اگر ہم نماز پڑھتے ہیں مگر لوگوں کو تکلیف دیتے ہیں تو ہماری عبادات کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ اسلام ہمیں ایک ایسا معاشرہ قائم کرنے کی دعوت دیتا ہے جہاں انصاف، محبت، رحم اور دیانت کا راج ہو۔ آئیے عہد کریں کہ ہم نہ صرف اللہ کے حقوق ادا کریں گے بلکہ بندوں کے حقوق بھی پوری دیانت داری سے ادا کریں گے۔ ہم اپنے قول و فعل سے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں گے، ظلم سے بچیں گے اور ہر ممکن حد تک بھلائی کو فروغ دیں گے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقوقُ العباد کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور اپنی زندگیوں کو نیکی اور خدمتِ خلق سے سنوارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)۔