صبر

وقاص بیگ

یہ واقعہ برصغیر کے ایک چھوٹے سے قصبے کا ہے، جہاں وقت آہستہ آہستہ گزرتا تھا اور لوگ ایک دوسرے کے دکھ سکھ سے واقف ہوا کرتے تھے۔ اسی قصبے میں ایک بزرگ رہتے تھے جنہیں سب حاجی صاحب پکارا کرتے تھے۔ حاجی صاحب نہ عالمِ دین تھے، نہ خطیب، نہ کسی بڑے عہدے پر فائز۔ وہ بس ایک عام سے انسان تھے، مگر ان کا دل اللہ سے جڑا ہوا تھا۔ دن بھر وہ ایک چھوٹی سی دکان پر بیٹھ کر پرانی کتابوں کی جلد سازی کیا کرتے۔ آمدن بہت کم تھی، مگر زبان پر کبھی شکوہ نہ آیا۔
ان کی زندگی کا سب سے بڑا سہارا ان کا اکلوتا بیٹا سلمان تھا۔ سلمان نہایت نیک، فرماں بردار اور بااخلاق نوجوان تھا۔ فجر کی اذان سے پہلے اٹھنا، باپ کے پاؤں دبانا اور پھر مسجد جانا اس کا معمول تھا۔ حاجی صاحب اکثر کہا کرتے تھے: “میرے پاس اگر دنیا کی کوئی دولت ہے، تو وہ میرا بیٹا ہے۔” مگر دنیا کی خوشیاں ہمیشہ مکمل نہیں ہوتیں۔
ایک سرد رات، سلمان شدید بخار میں مبتلا ہوگیا۔ حاجی صاحب کے پاس نہ اچھے علاج کے پیسے تھے، نہ سفارش۔ شہر کے بڑے اسپتال میں لے جایا گیا، مگر ڈاکٹر نے صاف کہہ دیا: “مرض بہت بڑھ چکا ہے، دعا کے سوا اب کچھ نہیں کیا جاسکتا۔”
یہ الفاظ حاجی صاحب کے دل پر چھری بن کر چلے۔ وہ وہیں اسپتال کے کوریڈور میں بیٹھ گئے، ہاتھ اٹھے ہوئے، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے: “یااللہ! اگر یہ میری آزمائش ہے تو میں راضی ہوں، مگر میرے بیٹے کو مجھ سے نہ چھین۔” مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
چند دن بعد فجر کے وقت سلمان نے آخری سانس لی۔ اذان کی آواز گونج رہی تھی اور حاجی صاحب اپنے بیٹے کا ٹھنڈا ہاتھ تھامے بیٹھے تھے۔ ان کے ہونٹ کانپ رہے تھے، مگر زبان پر ایک ہی جملہ تھا: “اِنّا لِلّٰہِ وَاِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُونَ”۔ جنازہ اٹھا، لوگ آئے، تسلیاں دیں اور پھر سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ شام ہوئی تو وہی گھر، وہی خاموشی، وہی خالی چارپائی۔ اس رات حاجی صاحب نے چراغ جلایا، قرآنِ پاک کھولا، مگر آنکھوں سے الفاظ دھندلا گئے۔ اچانک وہ سجدے میں گر پڑے۔ ہچکیاں بندھ گئیں۔
یااللہ! میں کمزور ہوں، مگر تجھ سے ناراض نہیں۔ بس مجھے تنہا نہ چھوڑنا۔
دن گزرتے گئے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ حاجی صاحب اب ٹوٹ جائیں گے، مگر حیرت انگیز طور پر وہ پہلے سے زیادہ خاموش، زیادہ نرم دل اور زیادہ عبادت گزار ہوگئے۔ ایک دن قصبے کی مسجد میں ایک یتیم بچہ آیا۔ پھٹے کپڑے، سہمی ہوئی آنکھیں۔ لوگوں نے توجہ نہ دی، مگر حاجی صاحب کی نظر ٹھہر گئی۔ انہوں نے بچے کو پاس بلایا۔ “بیٹا، نام کیا ہے؟”
“احمد…”
بس اتنا سننا تھا کہ حاجی صاحب کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اسی دن سے حاجی صاحب نے احمد کی ذمے داری اپنے اوپر لے لی۔ اس کی تعلیم، خوراک، تربیت سب کچھ۔ جب کوئی پوچھتا: “اتنی تکلیف کے بعد یہ بوجھ کیوں؟” تو حاجی صاحب بس اتنا کہتے: “اللہ نے میرا بیٹا لے لیا، شاید اس لیے کہ میں کسی اور کا سہارا بن سکوں۔”
برسوں بعد احمد ایک باکردار، دین دار نوجوان بن گیا۔ اس نے دینی تعلیم حاصل کی اور ایک دن خطبہ دیتے ہوئے اس کی آواز رُک گئی۔ “اگر آج میں یہاں کھڑا ہوں، تو ایک ایسے شخص کی وجہ سے، جس نے اپنا بیٹا کھو کر بھی اللہ سے شکوہ نہیں کیا۔”
مسجد میں سناٹا چھاگیا۔ حاجی صاحب آخری صف میں بیٹھے تھے۔ آنکھیں بند، آنسو رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ خطبے کے بعد احمد ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔
“ابّا! اگر آپ صبر نہ کرتے، تو میں آج کچھ بھی نہ ہوتا۔” حاجی صاحب نے کانپتے ہاتھوں سے اس کا سر تھاما۔ “بیٹا، صبر ہم نہیں کرتے، صبر ہمیں تھام لیتا ہے، جب ہم اللہ کو نہ چھوڑیں۔”
چند ماہ بعد حاجی صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ چہرے پر سکون تھا، جیسے کوئی مسافر منزل پا گیا ہو۔
ان کی قبر پر احمد نے روتے ہوئے کہا: “آپ نے دکھ میں بھی اللہ کو چُنا اور اللہ نے آپ کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔”
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ صبر کا صلہ ہمیشہ فوراً نظر نہیں آتا مگر ضرور ملتا ہے۔ جو شخص اللہ سے جُڑا رہے، وہ کبھی ٹوٹتا نہیں، نکھر جاتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔