دستک

حسان احمد

رات کا وقت تھا۔ شہر کی گلیاں سنسان اور سرد تھیں۔ ایک چھوٹے سے کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا، بجلی کا بلب بند اور دیواروں پر پرانی نمی کے دھبے۔ کمرے کے ایک کونے میں ایک عورت بیٹھی تھی، ہاتھ میں خالی گلاس پکڑے، جو بار بار ہونٹوں تک لے جارہی تھی۔ سامنے دو بچے لیٹے تھے۔ ایک کا چہرہ بخار سے سنبھلا ہوا، دوسرا بھوک سے آنکھیں بند کیے کانپ رہا تھا۔ بچے خاموش تھے، وہ جانتے تھے کہ رونا ماں کو توڑ دے گا۔
اس عورت کا شوہر پچھلے سات مہینوں سے بستر پر تھا۔ ایک حادثے نے اس کی یہ حالت کرڈالی تھی، کام ختم، امیدیں ختم۔ مکان مالک روز دروازے پر آ کر دھمکاتا: “بی بی، کرایہ دے دیں ورنہ کمرہ خالی کردیں۔”
وہ عورت دروازے کے پیچھے کھڑی رہتی، لفظوں کے بغیر۔ نہ کہنے کو کچھ بچا تھا، نہ کرنے کو۔ ہر دن، ہر رات، ایک جیسے خوف میں گزرتے۔
اسی گلی میں ایک آدمی رہتا تھا، جو روز اس گھر کے سامنے سے گزرتا۔ کبھی نہیں رکا اور نہ کبھی دیکھا۔ آج بھی نہیں رکتا مگر رات کو بچوں کی کھانسی نے اسے روک دیا۔ وہ کھانسی، بیماری کی نہیں، بھوک کی تھی۔ وہ اس کو بخوبی پہچانتا تھا، کیونکہ لگ بھگ اُسے بھی بچپن میں ایسی ہی صورت حال سے گزرنا پڑا تھا۔ اُس نے کچھ لمحے سوچا اور پھر جلدی جلدی آگے کی جانب چل پڑا۔ کچھ دیر بعد وہ واپس لوٹا۔ اب اُس کے ہاتھ میں کچھ کھانے پینے کے سامان سے بھری شاپرز تھیں۔
اس نے دروازے پر آہستہ دستک دی۔ دروازہ کھولا تو عورت نے آنکھیں نیچے رکھی ہوئی تھیں۔ وہ کچھ بولی نہیں۔ آدمی بھی کچھ نہیں بولا۔ بس اپنے ہاتھ میں پکڑے شاپرز آگے بڑھاتے ہوئے کہا: “بہن، یہ احسان نہیں ہے، یہ آپ کا حق ہے۔”
عورت کے ہاتھ لرز گئے۔ آنکھوں میں نمی جمع ہوگئی۔ وہ خاموشی سے رونے لگی۔ آواز نہیں تھی، بس سینہ بیٹھ گیا، دل میں درد بھر گیا۔ ایک لمحہ ایسا تھا جیسے وقت رک گیا ہو۔
ایک بچہ بولا: “امی، آج ہم روٹی کھائیں گے؟” عورت نے ہونٹوں کو کانپتا ہوا مسکراہٹ میں بند کیا۔ آدمی پلٹ گیا، آنکھیں زمین پر جمائے، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ پیچھے مڑ کر دیکھے گا تو خود بھی رونا شروع کر دے گا۔
رات گزری۔ اگلی صبح کمرے میں روشنی تھی۔ بلب جل رہا تھا، چولہا جل رہا تھا۔ بچے اسکول جانے کے لیے تیار تھے۔ عورت نے پہلی بار سانس لے کر دن کی شروعات کی۔ رونا چھوڑ کر، وہ زندگی کے چھوٹے لمحے کو تھام رہی تھی۔
اُس نیک دل آدمی نے خاتون کے لیے گھر بیٹھے باعزت روزگار کا بندوبست کیا، تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے۔ شوہر کے علاج کے لیے مدد فراہم کی۔ کچھ ہی عرصے میں شوہر بھی صحت یاب ہوگیا۔ یوں ایک شخص کی مدد نے ناصرف ایک گھرانے کو تباہ ہونے سے بچالیا، بلکہ زیست گزارنے کے قابل بھی بناڈالا۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ مظلوم اکثر وہ ہوتے ہیں جو کسی سے کچھ نہیں مانگ سکتے۔ لوگ ان کے دکھ دیکھ کر گزر جاتے ہیں۔ اور بعض اوقات، چھوٹا سا عمل کسی کی زندگی کی دنیا بدل دیتا ہے۔ ایک چھوٹا سا ہاتھ، ایک لمحہ، ایک انسان کی ہمت بڑھا سکتا ہے۔
وہ عورت، بچے اور شوہر آج بھی زندہ ہیں اور باعزت زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسانیت کی طاقت، سب سے زیادہ مظلوم کے دروازے پر پہنچنے میں ہے اور خدا بھی انہی دروازوں پر اپنے نیک بندوں کو بھیجتا ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔