جب وہ زندہ تھا تو ہم کہاں تھے؟

وقاص بیگ
فجر کی اذان ہوچکی تھی مگر مسجد کے صحن میں ابھی اندھیرا ٹھہرا ہوا تھا۔
صفوں کے آخر میں ایک آدمی بیٹھا تھا، نہ جوان، نہ بوڑھا۔ کپڑے صاف تھے مگر پرانے، آنکھوں میں نیند نہیں بلکہ برسوں کی تھکن تھی۔
نماز شروع ہوئی۔ وہ شخص سجدے میں گیا تو واپس نہ اٹھ سکا۔ امام نے سلام پھیرا، لوگ اُٹھے، مصافحے ہوئے، مگر وہ اب بھی سجدے میں تھا۔ جب کسی نے ہلا کر دیکھا تو معلوم ہوا، وہ وہیں، سجدے میں، اللہ کے حضور پیش ہوگیا تھا۔
لوگوں نے پوچھا: “یہ کون تھا؟” کوئی جواب نہ دے سکا۔
بعد میں معلوم ہوا، اُس کا نام نعیم تھا۔ نعیم کوئی مشہور شخصیت نہ تھا، وہ وہی تھا جسے ہم روز دیکھتے ہیں مگر پہچانتے نہیں، خاموش، نظر انداز کیا ہوا عام انسان۔ نعیم شہر کے ایک پرانے اسپتال میں چوکیدار تھا۔ بارہ بارہ گھنٹے کی ڈیوٹی، تنخواہ اتنی کہ گھر کا چولہا بمشکل جلتا۔ بیوی بیمار، بیٹا چھوٹا اور قرض وہ جو ہر مہینے سانسوں پر بیٹھ جاتا تھا۔
لوگ سمجھتے تھے نعیم کم بولتا ہے، اصل میں وہ اندر سے ٹوٹ چکا تھا۔ ایک رات اُس کے بیٹے نے کہا: “ابّو، کل اسکول میں فیس نہ دی تو نام کاٹ دیں گے۔” نعیم نے سرہلا دیا، مگر اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ اُس رات اُس نے پہلی بار اللہ کے سامنے رونا چاہا، مگر آنسو نہیں آئے۔ اگلے دن تنخواہ ملی، مگر پوری نہیں تھی۔ مالک نے کہا:
“حالات ٹھیک نہیں، باقی بعد میں دے دوں گا۔”
نعیم نے بحث نہیں کی۔ وہ کبھی نہیں کرتا تھا۔ اُس شام بیوی کی دوا ختم ہوگئی۔ دُکان دار نے کہا: “اب مزید اُدھار نہیں ہوسکتا۔”
نعیم خاموشی سے باہر آ گیا۔ بارش شروع ہوچکی تھی۔ وہ مسجد میں داخل ہوا، وضو کیا اور ایک کونے میں بیٹھ گیا۔ کوئی دعا نہیں مانگی، کوئی شکوہ نہیں کیا۔ بس بیٹھا رہا۔ پھر نماز شروع ہوئی۔ سجدے میں جا کر اس نے صرف اتنا کہا: “یااللہ! اب میرے پاس کچھ نہیں بچا، تیرے سوا۔ اگر میری زندگی میں کوئی خیر باقی ہے تو رکھ لے، ورنہ مجھے اپنے پاس بلالے۔” وہ سجدہ لمبا ہوگیا۔ بہت لمبا۔
اُس کے بعد نعیم نے کوئی بوجھ نہیں اٹھایا، کوئی قرض نہیں چکایا، کوئی فیس نہیں دی، کیونکہ اب اُس کے لیے سب ختم ہوچکا تھا۔ لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اُس کے جنازے کے دن اسپتال بند کرنا پڑا۔ وہ مریض جن کی راتوں کی رکھوالی نعیم کرتا تھا، وہ نرسیں جنہیں وہ خاموشی سے راستہ دے دیتا تھا، وہ ڈاکٹر جن کے لیے وہ دعا کرتا تھا، سب آئے۔ بیٹے کی فیس کسی نے ادا کردی۔ بیوی کی دوا مہینوں کے لیے آ گئی۔ قرض خواہوں نے خود کہا: “ہم قرضہ معاف کرتے ہیں۔” لوگ کہنے لگے: “ہم نے ایک نیک آدمی کھو دیا۔”
مگر اصل سوال یہ تھا: جب وہ زندہ تھا، ہم کہاں تھے؟ ہم اکثر کہتے ہیں اللہ صبر والوں کے ساتھ ہے۔ مگر ہم صبر کرنے والوں کے ساتھ کب ہوتے ہیں؟ شاید نعیم کی زندگی میں کوئی معجزہ نہیں ہوا، مگر اُس کی موت نے بہت سے ضمیر جگا دیے۔ اور شاید… اللہ نے اُسے سجدے میں اس لیے بلا لیا، کیونکہ وہ دنیا کے شور میں ٹوٹ چکا تھا اور اللہ اُسے خاموشی سے سن لینا چاہتا تھا۔