پاک۔ افغان سرحدی بندش: 4.5 ارب ڈالر کے نقصان کے دعوے بے بنیاد قرار

اسلام آباد: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ان دعوؤں کی فیکٹ چیک رپورٹ سامنے آگئی، جن میں کہا جارہا تھا کہ پاک۔ افغان سرحدی بندش کے باعث پاکستان کو 4.5 ارب امریکی ڈالر سے زائد کا تجارتی نقصان ہوا ہے۔ فیکٹ چیک کے مطابق یہ دعویٰ مستند شواہد سے خالی اور گمراہ کن ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (PAJCCI) کے حوالے سے منسوب کیا گیا، تاہم تحقیق کے دوران نہ تو PAJCCI کے آفیشل ایکس (ٹوئٹر) اکاؤنٹ، نہ ویب سائٹ اور نہ ہی کسی ویڈیو بیان میں 4.5 ارب ڈالر کے نقصان کا کوئی ذکر سامنے آیا۔ اس کے علاوہ اس مبینہ نقصان کی تصدیق اسٹیٹ بینک، حکومتی اداروں یا کسی معتبر قومی و بین الاقوامی میڈیا رپورٹ سے بھی نہیں ہوسکی۔
فیکٹ چیک میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ زیادہ تر ایسے دعوے افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور چند ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے پھیلائے گئے، جن میں کسی مستند حوالہ یا دستاویزی ثبوت کا فقدان ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق تین ماہ کی سرحدی بندش میں 4.5 ارب ڈالر کا نقصان منطقی طور پر ممکن نہیں۔ مالی سال 2024-25 میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان سالانہ تجارت قریباً 2 ارب ڈالر ہے، جس میں پاکستان کی برآمدات 1.4 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہیں۔ اس حساب سے تین ماہ کی اوسط تجارت قریباً 500 ملین ڈالر بنتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل تجارتی تعطل کی صورت میں بھی نقصان دو طرفہ تجارت کی مجموعی مالیت سے زیادہ نہیں ہوسکتا۔
اعداد و شمار کے مطابق افغانستان کو پاکستان کی برآمدات، پاکستان کی کُل برآمدات کا صرف 3 تا 4 فیصد ہیں۔ اکتوبر تا دسمبر 2025 کے دوران قلیل مدتی بنیاد پر پاکستان کی برآمدات میں معمولی 0.5 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم طویل المدت میں مارکیٹ ڈائیورسفیکیشن کے باعث اس کمی کے اثرات محدود رہنے کی توقع ہے۔
دوسری جانب سرحدی بندش سے پاکستان کو کئی فوائد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ فیکٹ چیک کے مطابق: ایندھن کی اسمگلنگ میں نمایاں کمی آئی اور پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہونے والی آمدن میں 82 فیصد اضافہ ہوا۔
سالانہ غیر قانونی تجارت میں 3 سے 4 کھرب روپے کی بچت متوقع ہے۔
سبزیوں اور دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں 15 تا 20 فیصد کمی دیکھی گئی۔
سیکیورٹی صورت حال بہتر ہوئی اور منشیات، اسلحہ اسمگلنگ اور سرحد پار عسکریت پسندی میں کمی آئی۔
اس کے برعکس افغانستان کو سرحدی بندش کے باعث شدید معاشی نقصان کا سامنا ہے۔ رپورٹس کے مطابق: 11,500 سے زائد افغان ٹرک سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں، جس سے قریباً 205 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
تاجروں کو یومیہ 2.5 ملین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے جب کہ اب تک مجموعی نقصان 200 ملین ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔
خراب ہونے والی اشیائے خورونوش کا نقصان 50 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔
محصولات، کسٹمز ڈیوٹی اور ٹرانزٹ فیس کی مد میں 200 ملین ڈالر کی کمی واقع ہوئی۔
ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے طویل راستوں کے باعث فریٹ لاگت میں 50 تا 60 فیصد اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں افغانستان میں مہنگائی میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
خوراک کی قیمتوں میں 18 تا 20 فیصد، ایندھن میں 18 تا 28 فیصد، ادویہ میں 50 تا 60 فیصد اور سیمنٹ کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافہ رپورٹ ہوا ہے، جس سے عوام کی قوتِ خرید میں 10 تا 14 فیصد کمی آئی ہے۔ خام مال کی قلت کے باعث فیکٹریوں کی بندش اور بے روزگاری میں 6 تا 8 فیصد اضافہ بھی سامنے آیا ہے جب کہ ننگرہار، کنڑ اور پکتیکا جیسے سرحدی صوبوں میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔
ماہرین کے مطابق افغانستان میں بڑھتی معاشی مشکلات، مہنگائی، مہاجرین کی واپسی، امدادی رقوم میں کمی اور حالیہ قدرتی آفات کے باعث صورت حال مزید پیچیدہ ہورہی ہے، جس سے افغان طالبان حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہورہا ہے۔
فیکٹ چیک رپورٹ کا نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کو 4.5 ارب ڈالر کے نقصان کا دعویٰ بے بنیاد اور گمراہ کن ہے جب کہ اصل معاشی دباؤ اس وقت افغانستان کو درپیش ہے۔

جواب شامل کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔